قطر نے ڈچ اور بیلجیئم کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر درآمدی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے، متعدد یورپی ممالک غیر قانونی یہودی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیوں کے حوالے سے اقدانات کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 6:15 PM IST | Doha
قطر نے ڈچ اور بیلجیئم کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر درآمدی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے، متعدد یورپی ممالک غیر قانونی یہودی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیوں کے حوالے سے اقدانات کر رہے ہیں۔
قطر نے بدھ کو نیدرلینڈز اور بیلجیئم کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے فیصلوں کا استقبال کیا، اور ان اقدامات کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کو روکنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی غیر قانونی یہودی بستیوں کی پالیسی بین الاقوامی قانون، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد۲۳۳۴؍ کی صریح خلاف ورزی ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔ بعدا زاں وزارت نے مزید ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے ہی اقدامات اٹھائیں اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو اپنی غیر قانونی بستیوں کی سرگرمیاں ختم کرنے پر مجبور کر کے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ساتھ ہی فلسطینی مقصد کے لیے قطر کی ثابت قدم حمایت کا بھی اعادہ کیا اور۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا، جس میں مشرقی یروشلم ایک آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔
واضح رہے کہ نیدرلینڈز نے منگل کو کہا کہ وہ۲۲؍ ستمبر سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی نافذ کرنا شروع کر دے گا، جب کہ بیلجیئم نے۱۸؍ جولائی کو ایسی ہی پابندیوں کی منظوری دی تھی۔یہ اقدام آئرلینڈ کی پارلیمنٹ کی جانب سے۱۵؍ جولائی کو اسی طرح کی پابندی کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے اور اسپین اور سلووینیا نے بھی ایسے ہی اقدامات اپنائے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف ناراضگی پائی جارہی ہے، اس کے علاوہ مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کے مکینوں کے فلسطینیوں پر حملوں میں اضافہ بھی تشویش کا سبب بن رہا ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ نے اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے، تاہم اسرائیل مسلسل اس کی تعمیر و توسیع جاری رکھے ہوئے ہے۔ متعدد یورپی ممالک کا ان غیر قانونی یہودی بستیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ایک خوش آئند پہل ہے۔