Inquilab Logo Happiest Places to Work

قطری سرمایہ کاروں نے فاکس ویگن کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ کا منصوبہ روک دیا

Updated: July 11, 2026, 8:04 PM IST | Berlin

قطر کے سرمایہ کاروں نے فاکس ویگن کے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کے منصوبے کو روک دیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق، فاکس ویگن کی انتظامیہ کی طرف سے اپنے اوسنابرک پلانٹ میں میزائل سسٹم کے پرزے تیار کرنے کی تجویز کو قطر کے خودمختار دولت فنڈ نے مسترد کر دیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

جرمن اخبار ’’بلڈ‘‘ نے جمعہ کو خبر دی کہ فاکس ویگن کے تیسرے بڑے شراکت دارقطر کے خودمختار دولت فنڈ نے کمپنی کے اوسنابرک پلانٹ میں میزائل پرزے اور فوجی گاڑیاں تیار کرنے کی انتظامی تجویز کو منسوخ کر دیا۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب فاکس ویگن کے سی ای او اولیور بلوم نے مارچ میں کہا تھا کہ کمپنی۲۰۲۷ء سے اوسنابرک میںفاکس ویگن گروپ کی گاڑیاں تیار کرنا بند کر دے گی، اور انہوں نے اس پلانٹ کو فوجی گاڑیوں کی پیداوار کے لیے تبدیل کرنے کے حوالے سے متعدد دفاعی اداروں کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی تھی۔ تاہم بلوم نے اس وقت مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں دھماکے، امریکی فوج کی ملوث ہونے کی تردید

بعد ازاں یہ تجویز جرمنی میں کافی تنازع کا باعث بنی ۔ فاکس ویگن کے ملازمین، امن کارکنان اور اپوزیشن سیاستدانوں نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہکار کمپنی  کو صرف شہری پیداوار پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ مزید برآں اوسنابرک پیس انیشیٹو (او ایف آر آئی) نے حالیہ مہینوں میں متعدد احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا ہے جن میںفاکس ویگن پر زور دیا گیا کہ وہ تمام دفاعی معاہدے ترک کر دے۔جبکہ جرمنی کی اپوزیشن جماعت لیفٹ پارٹی نےفاکس ویگن کے اسرائیل کی سرکاری ملکیت والی کمپنی ’’رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز‘‘ کے ساتھ مجوزہ تعاون کو ناقابلِ قبول قرار دیا، اور نتن یاہو حکومت پر مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات عائد کئے۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی افریقہ میں غیر قانونی تارکین وطن مخالف گروہ سرگرم

واضح رہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیل نے غزہ پر اپنی جارحیت کا آغاز کیا ہے، جو امریکی ثالثی میں نام نہاد جنگ بندی کے بعد بھی جاری ہے، اس کے نتیجے میں غزہ میں ۷۴۰۰۰؍ کے قریب فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں،اس کے علاوہ پورے غزہ کے شہری نظام کو تباہ کردیا گیا۔ اسرائیل کی اس جارحیت کے خلاف دنیاکے متعدد ممالک میں مظاہرے کئے گئے، اور حکومتوں سے اسرائیل کے ساتھ تمام دفاعی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا دباؤ ڈالا گیا، جرمنی میں فاکس ویگن کے اسرائیل کے ساتھ دفاعی منصوبے کی مخالفت اسی عوامی جذبات کا مظہر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK