• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قطری وزیر اعظم نے نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیا، ثالثی جاری رکھنے کا عہد

Updated: September 30, 2026, 9:01 PM IST | Doha

قطری وزیر اعظم نے نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیا،ساتھ ہی ثالثی جاری رکھنے کا عہدکیا،انہوں نے کہا کہ ان کا ملک علاقائی کشیدگی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی جاری رکھے گا، جبکہ تنازع اور وسیع تر سیکیورٹی خدشات کو حل کرنے کے لیے سفارت کاری کا مطالبہ کیا ہے۔

Qatari Prime Minister and Foreign Minister Sheikh Mohammed bin Abdulrahman Al Thani. Photo: INN
قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی۔ تصویر: آئی این این

قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ اس بات پر زور دیا ہے کہ دوحہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باوجود اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔منگل کو برطانوی صحافی پیئرز مورگن کے ساتھ ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیتن یاہو کو جنگی مجرم سمجھتے ہیں، تو شیخ محمد نے کہا،’’یقیناً۔ غزہ میں جو کچھ کیا گیا ہے وہ جنگی جرائم ہیں، اور جو بھی اس کا ذمہ دار ہے وہ جنگی مجرم ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ،’’اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جواز اور دلائل کچھ بھی ہوں، کوئی بھی چیز اس کا جواز نہیں بنتی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: غزہ پر بنائی گئی فلم ”نازا“ کے پریمیئر کے خلاف مظاہرے، ہدایتکاروں کو جان سےمارنے کی دھمکیاں

مزید برآں انہوں نے نیتن یاہو پر الزام بھی لگایا کہ وہ اپنے اور اپنی حکومت کے طرز عمل سے توجہ ہٹانے کے لیے قطر پر سیاسی طور پر حملہ کر رہے ہیں۔الثانی نے۹؍ ستمبر۲۰۲۵ء کو دوحہ پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کی تجدید کی، جس میں حماس کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جب قطر ثالثی کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس حملے میں حماس کے پانچ ارکان اور ایک قطری سیکیورٹی افسر ہلاک ہو گئے تھے۔ انہوں نے اس حملے کو ایک ثالث پر بے مثال حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ،’’ہم ثالثی کر رہے تھے کہ اس دوران اسرائیل نے ہم پر حملہ کیا،نیتن یاہو نے حد پار کر لی ہے جیسے اس نے پہلے بھی کئی حدیں پار کی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’وزیر دفاع بنا تو یحییٰ سنوار سمیت تمام فلسطینی شہداء کی لاشیں جلادوں گا‘‘

کشیدگی کے باوجود، الثانی نے کہا کہ قطر سفارت کاری کو ترجیح دیتا رہے گا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ پس پردہ مصروفیات پیش رفت کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔انہوں نے کہا،’’ہم امریکی حکومت اور ایران کو حل تک پہنچنے کے بارے میں بہترین مشورہ دینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔‘‘بعد ازاں وسیع تر علاقائی تنازع پر انہوں نے کہا کہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے تین مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے، ایران کا جوہری پروگرام اور پابندیاں، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی آزادی، اور ایران اور خلیج تعاون کونسل ریاستوں کو شامل کرنے والے علاقائی سیکیورٹی انتظامات۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی علاقائی سیکیورٹی فریم ورک بات چیت، عدم مداخلت اور عدم جارحیت کے ساتھ زیادہ اقتصادی تعاون پر مبنی ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ منگل کو قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا تھا کہ دوحہ ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ قطر کو مزید فوجی کشیدگی پر تشویش ہے اور وہ پرامن حل کی تلاش میں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK