Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی عمارت کی حفاظت پر سوالیہ نشان

Updated: March 16, 2026, 3:18 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

لاکھوں روپے خرچ کر کے نصب کئے گئے سی سی ٹی وی کیمرے گزشتہ کئی مہینوں سے خراب پڑے ہیں۔

Bhiwandi Nizampur Municipal Corporation building. Photo: INN
بھیونڈی نظامپور میونسپل کارپوریشن کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر میں سیکوریٹی انتظامات کے تعلق سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ میونسپل عمارت اور افسران کے دفاتر میں لاکھوں روپے خرچ کر کے نصب کئے گئے سی سی ٹی وی کیمرے گزشتہ کئی مہینوں سے خراب پڑے ہیں۔ مرمت کے نام پر بند پڑے ان کیمروں کے باعث کارپوریشن عمارت کی حفاظت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ سماجی کارکنان اور سیاسی تنظیموں نے اس معاملے میں میونسپل کمشنر انمول ساگر سے فوری مداخلت کرتے ہوئے خراب کیمروں کی مرمت اور سیکوریٹی نظام کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
ذرائع کے مطابق بھیونڈی میونسپل کارپوریشن میں گزشتہ ساڑھے ۳؍ برسوں سے ایڈمنسٹریٹر راج نافذ تھا۔ اس دوران شہر میں ترقیاتی کاموں کی رفتار سست رہنے اور شہریوں کے بنیادی مسائل، جیسے پانی کی قلت، ٹوٹی سڑکیں اور صفائی کی ناقص صورتحال، کو نظر انداز کئے جانے کی شکایات مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔ ان مسائل کے تعلق سے مختلف سماجی تنظیمیں اور شہری وقتاً فوقتاً میونسپل ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج اور مورچے نکالتے رہتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہیڈکوارٹر کی سیکوریٹی کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق میونسپل انتظامیہ نے سیکوریٹی کے پیش نظر مرکزی عمارت کی دیواروں، راہداریوں اور افسران کے کمروں کے باہر بڑی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی عمارت میں تقریباً ۱۰۵؍سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں جبکہ میونسپل کمشنر، میئر اور ایڈیشنل کمشنر کے دفاتر میں الگ سے تقریباً ۲۰؍کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ تاہم ملازمین کا کہنا ہے کہ ان ۱۰۵؍ کیمروں میں سے تقریباً ۵۰؍ کیمرے اس وقت بند پڑے ہیں، جس کے باعث سیکوریٹی نظام کمزور ہو گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۷۰؍ میٹر سے بلند عمارتوں کیلئے فائر سیفٹی لازمی

ذرائع کے مطابق کیمروں کی خرابی اور بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ کارپوریشن کمپاؤنڈ میں اکثر احتجاج اور مورچوں کے دوران کشیدگی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر سیکوریٹی گارڈز کو حالات سنبھالنے میں سخت مشقت کرنی پڑتی ہے اور کئی مرتبہ پولیس فورس کو بھی تعینات کرنا پڑتا ہے۔ سیکوریٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لئے مرکزی دروازے پر میٹل ڈیٹیکٹر مشین بھی نصب کی گئی تھی لیکن اطلاعات کے مطابق وہ بھی کافی عرصے سے بند پڑی ہے۔ 
اس سلسلے میں الیکٹرک ڈپارٹمنٹ کے ایگزیکٹو انجینئر صدیق قاضی نے بتایا کہ میونسپل کمپاؤنڈ میں نصب کئی کیمرے پرانے ہو چکے ہیں جبکہ کچھ خراب ہیں۔ انہوں نے ۵۰؍کیمرے بند ہونے کے دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ۳۵؍ سے ۴۰؍کیمرے ہی خراب ہیں، جن میں سے ۱۲؍سے ۱۴؍ کیمرے کافی پرانے ہونے کے باعث تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب سماجی کارکن محمد تاج خان نے میونسپل انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب مہاپالیکا اپنے ہی دفتر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی دیکھ بھال نہیں کر پا رہی تو شہر کی سیکوریٹی کو مؤثر طریقے سے کیسے سنبھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں ممکنہ بدعنوانی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK