• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پونے : ایم پی ایس سی احتجاج میں شدت لانے کا روہت پوار کا انتباہ

Updated: October 12, 2026, 11:56 AM IST | Agency | Pune

مظاہرین کے خلاف کیس درج کرنے پر وہ بھی پولیس اسٹیشن پہنچے اورمطالبہ کیا کہ ان کے خلاف بھی کیس درج کیا جائے۔

MLA Rohit Pawar is addressing students participating in the ongoing protest in Pune. Photo: PTI
پونے میں جاری احتجاج میں شامل طلبہ سے رکن اسمبلی روہت پوار خطاب کررہے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

ایم پی ایس سی  کے چیئرمین وویک بھیمنوار کے استعفے کے مطالبے پر پونے میں جاری احتجاج کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ این سی پی (شردپوار) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتوار کی شام تک اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرے۔اطلاع کے مطابق جالنہ اور ناندیڑ کے ڈیڑھ سو طلبہ بھی پونے کے ایس ایم جوشی بریج احتجاج میں شریک ہوئے۔واضح رہے کہ طلبہ گزشتہ ۱۰؍ دن سے پونے کے ایس ایم جوشی پل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ دیگر مطالبات میں مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن(ایم پی ایس سی )  میں اصلاحات کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اتوار کو رکن اسمبلی روہت پوار نے میڈیا  کو بتایاکہ ’’آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان اتوار کی شام کیا جائے گا۔

دو روز قبل  پونے پولیس نے احتجاج  کرنےو الے طلبہ کے۱۵؍ نمائندوں کے خلاف کیس درج کیا تھا جن پر بغیر اجازت احتجاج  کرنے، ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے اور شہر میں نافذحکم  امتناعی کی خلاف ورزی  کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ  احتجاجی مقام پر ڈرون اڑانے کے الزام میں ۵؍ افراد کے خلاف بھی کیس درج کیا گیاہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اب مہاراشٹر کے ہر ضلع میں مظاہرے ہوں گے‘‘

کیس کے اندراج کے بعدروہت پوار نے وشرام باغ پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے انہیں کہا کہ اس معاملے پر تفتیش کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس مسئلے سے تقریباً۲۵؍ لاکھ طلباء براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہوئے ہیں، روہت پوار نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس پر زور دیا کہ وہ  ایم پی ایس سی چیئرمین بھیمنوار کے ساتھ اپنی دوستی کے بجائے  امیدواروں کے خدشات کو ترجیح دیں۔ دی پرنٹ کی خبر کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہاکہ احتجاج کرنے والے طلباء کے نمائندوں نے کمیشن میں اصلاح اور اس کے معاملات کو شفاف بنانے کیلئے تجاویز پر مبنی ایک مسودہ جمع کرایا ہے  اور طلباء نے اس دستاویز کی تائید کی ہے۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ حکومت مظاہرین کو نظر انداز کر رہی ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، روہت پوار نے کہا کہ اگر طلباء، ان کے اہل خانہ اور دیگر لوگ بڑی تعداد میں اس احتجاج میں شامل ہو گئے تو یہ تحریک  مختلف رخ اختیار کر سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کمیشن میں اصلاحات کیلئے مجوزہ کمیٹی میں ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے جیسے قابل افسران کو شامل کیا جائے۔

کمیشن کے کام کاج کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے روہت پوار نے کہا کہ اس کے چوکیدار سے لے کر چیئرمین تک، سب کی تفتیش ہونی چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK