Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیپر لیک معاملے میں راہل گاندھی کی مودی پر تنقید، طلبہ کے ۳؍ مطالبات دہرائے

Updated: July 23, 2026, 12:39 PM IST | New Delhi

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پیپر لیک معاملات کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے اعلان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گزشتہ برسوں میں نوجوانوں کے مستقبل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر طلبہ کے تین اہم مطالبات دہرائے، جن میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، طلبہ پر لاٹھی چارج پر وزیر اعظم کی معافی، اور پیپر لیک معاملے میں جوابدہی شامل ہیں۔

Opposition Leader Rahul Gandhi. Photo: INN
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این

کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس اعلان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے جس میں پیپر لیک کے مقدمات کی جلد سماعت کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ صرف عدالتوں کے اعلان سے مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ گزشتہ کئی برسوں میں امتحانی نظام کی ناکامیوں نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ نے ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کیا ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں ۱۵۲؍ پیپر لیک کے واقعات سامنے آئے، لیکن ان معاملات میں ایک بھی سزا نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ طلبہ کا امتحانی نظام پر اعتماد مجروح ہوا ہے اور نوجوان سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ 

کانگریس لیڈر نے اس موقع پر طلبہ کے تین بنیادی مطالبات بھی دہرائے۔ انہوں نے کہا کہ پہلا مطالبہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہے، کیونکہ اپوزیشن کے مطابق امتحانی بے ضابطگیوں کی اخلاقی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی طلبہ پر ہونے والے لاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال پر عوامی معافی مانگیں۔ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ پیپر لیک اور احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات میں ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور طلبہ کے خدشات کا شفاف طریقے سے ازالہ کیا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر احتجاج: پی ایم مودی کا اعلان، پیپر لیک قصورواروں کو نہیں بخشا جائیگا

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کے بنیادی مسائل کا حل پیش کرنے کے بجائے صرف اعلانات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی یقینی نہ بنائی گئی تو نوجوانوں کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کئے جائیں اور ان کے جائز مطالبات پر عملی اقدامات کئے جائیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’اپنی مادری زبان کے فروغ اور اشاعت کیلئے ہم سب وسیع نظریےکےساتھ عملی کام کریں‘‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں پیپر لیک کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ ایسے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی، تاہم اپوزیشن اور احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ صرف عدالتی اصلاحات کافی نہیں بلکہ انتظامی اور سیاسی سطح پر بھی جوابدہی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK