کھانے کا تعلق صرف بھوک سے نہیں بلکہ خوشی اور اطمینان سے بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب نیوٹریشن ’وٹامن پی‘ یعنی Pleasure Eating (کھانے سے ملنے والی خوشی) کو بھی ہیلدی ایٹنگ کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پسندیدہ پکوان سے دماغ خوشی کے ہارمون ڈوپامائن خارج کرتا ہے جس سے خوشی اور اطمینان محسوس ہوتا ہے۔
پسندیدہ کھانے کے ساتھ ساتھ خاندان کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے سے بھی جسم اور ذہن پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
’’آپ کا پسندیدہ پکوان کون سا ہے؟‘‘ اس سوال کا جواب دیتے وقت اکثر چہرے پر مسکان آجاتی ہے۔ کیونکہ کھانے کا تعلق صرف بھوک سے نہیں بلکہ خوشی اور اطمینان سے بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب نیوٹریشن ’وٹامن پی‘ یعنی Pleasure Eating (کھانے سے ملنے والی خوشی) کو بھی ہیلدی ایٹنگ کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
۲۰۲۰ء میں نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں شائع ایک تجزیہ میں ۱۰۰؍ سے زائد مطالعے کا جائزہ کیا گیا۔ تجزیہ میں شامل ۵۷؍ مطالعے میں پایا گیا کہ جو لوگ کھانے کا لطف اٹھاتے ہیں ان میں ہیلدی ایٹنگ کی عادتیں بھی بہتر ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:زندگی کی بھاگ دوڑ میں اپنے والدین کو نہ بھول جائیں
’وٹامن پی‘ کیا ہے؟
یہاں وٹامن پی سے مراد Pleasure Eating ہے۔ اس کا مطلب کھانے سے ملنے والی خوشی، اطمینان اور لطف ہے۔ یہ تصور بتاتا ہے کہ ہیلدی ایٹنگ صرف غذائی اجزاء تک محدود نہیں بلکہ کھانے کا لطف اٹھانا بھی صحتمند عادتوں میں شامل ہے۔
ذائقہ دار پکوان کھانے سے ذہن پر یہ اثرات مرتب ہوتے ہیں
لذیذ پکوان زبان کے ذائقوں (Taste Receptors) کو متحرک کرتا ہے۔
یہ سگنل براہِ راست دماغ کے ریوارڈ سینٹر تک پہنچتے ہیں۔
دماغ خوشی کے ہارمون ڈوپامائن خارج کرتا ہے۔ اس سے خوشی اور اطمینان محسوس ہوتا ہے۔
ڈوپامائن مزاج اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔
اس سے تناؤ اور بے چینی میں کمی آتی ہے۔
یہ ریوارڈ سسٹم ہمیں دوبارہ اسی پکوان کھانے کی ترغیب دیتا ہے۔
دماغ میں پکوان سے متعلق اچھی یادیں محفوظ ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ پکوانوں سے متعلق بچپن یا تہواروں سے جڑی باتیں یاد دلاتی ہیں۔
پسندیدہ پکوان کا لطف اٹھانے سے جسم پر یہ اثرات مرتب ہوتے ہیں
پسندیدہ پکوان کھانے سے جسم کے آرام اور ہاضمہ کے نظام فعال ہوجاتے ہیں۔ ساتھ ہی لعاب دہن، معدے کے تیزاب اور ہاضمے کے خامروں کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے:
کھانا ہضم کرنے کا عمل آسانی سے چلتا ہے۔
آنتیں غذائی اجزاء کو بہتر طریقے سے جذب کرتی ہیں۔
جسم توانائی کو ہاضمے اور اندرونی مرمت جیسے کاموں میں استعمال کر پاتا ہے۔
شکم سیری کا سگنل دماغ کو بروقت ملتا ہے۔
جس کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ کھانے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر: حروف سے شعور تک: ڈجیٹل عہد میں خواندگی کا روشن سفر
بیماری میں پسندیدہ پکوان کھانا فائدہ مند
ماہرین کے مطابق، بیماری میں پسندیدہ پکوان کھانے سے جلد صحت یاب ہونے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن ہیپی فوڈ کا مطلب جنک فوڈ نہیں ہے۔ ایسا صحت بخش پکوان، جو ذائقہ دار ہو اور اسے کھانے میں لطف بھی آئے، ایسا فوڈ جلد صحت یاب ہونے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے جسم کو ضروری توانائی، پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء ملتے ہیں۔ یہ غذائی اجزاء جسم کو انفیکشن سے لڑنے اور بیماری سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرتے ہیں۔
خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانے سے ذہن پر مثبت اثر پڑتا ہے
جی ہاں، گھر والوں کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے سے ذہن پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
کنیڈا کی مصنفہ اپنی کتاب ’ریچول آف ڈِنر‘ میں لکھتی ہیں، ’’کھانا صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ لوگوں کو جوڑنے والا سماجی تجربہ ہے۔ ساتھ بیٹھ کر کھانے سے انسان ایک دوسرے سے جذباتی طور پر جوڑتا ہے اور اپنائیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس سے تناؤ میں کمی آتی ہے اور اکیلے پن کے جذبے میں کمی آتی ہے۔‘‘
موبائل فون دیکھ کر کھانے سے کیا ہوتا ہے؟
موبائل فون دیکھ کر کھانے سے انسان کی توجہ کھانے سے زیادہ اسکرین پر ہوتی ہے، جس سے صرف انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے مگر کھانے کی تسکین نہیں ہوتی۔ بہتر یہ ہے کہ کھانا کھاتے وقت موبائل فون نہ دیکھیں۔
یہ بھی پڑھئے: مسکراہٹ: خواتین کے لئے ایک انمول تحفہ
کھانے کا ذائقہ دار کیسے بنائیں؟
مسالے اور ہربس کا استعمال کریں۔
ذائقہ دار کھانا بنانے کے لئے مسالوں کو ڈرائی روسٹ کرکے استعمال کریں۔
کھانا پکانے کے آخری مرحلہ میں لیموں کا رس شامل کریں۔
پودینہ اور دھنیا ڈالیں۔
شملہ مرچ، ہری مرچ، گاجر وغیرہ شامل کرکے پکوانوں کو رنگ برنگا بنائیں۔
موسمی سبزیاں اور پھل شامل کریں۔
روزانہ ایک ہی قسم کا کھانا نہ کھائیں۔
نت نئے قسم کے پکوان آزمائیں۔