• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان: کامیاب سفارتکاری، ناکام گورننس

Updated: September 09, 2026, 1:55 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

بین الاقوامی محاذ پر ملی اپنی کامیابیوں پر پاکستان خواہ جتنا بھی فخر کرلے لیکن اندرون ملک ہمارا ہمسایہ ابھی بھی سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

 پچھلے ماہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مل کر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد جسے ’’مسلم نیٹو‘‘ کہا جارہا ہے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مرتبہ کافی بڑھ گیا ہے۔ابھی پچھلے ہفتے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کو ایس سی او کا چیئر مین منتخب کیا جانا بھی اسلام آباد کیلئے ایک بڑا اعزاز ہے۔ جس تیزی سے پاکستان اقوام عالم سے اپنا لوہا منوارہاہے وہ ناقابل یقین ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:موٹو جی میکس: عمدہ کیمرہ اور بہتر بیٹری کا حامل موٹرولا کا ایک اور فون

گزشتہ چھ ماہ سے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ میں امریکہ، ایران یا اسرائیل کسی فریق کی جیت ہوئی ہو یا نہیں لیکن پاکستان کو اس پرائی جنگ کا غیر متوقع فاتح ضرور کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی کے سبب اپریل میں امریکہ اور ایران نہ صرف مذاکرات کی میز پر بیٹھے بلکہ سیز فائر پر بھی رضامند ہوگئے۔جون میں دو نوں فریق نے دوہفتے کے سیز فائر کو دو ماہ کی توسیع دینے کے معاہدہ پر بھی دستخط کر دیئے۔ پاکستان میں امریکہ اور ایران کے امن مذاکرات کا انعقاد اور بات چیت میں شرکت کے لئے نائب صدر جے ڈی وینس اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کااسلام آباد کا دورہ پاکستان کے بڑھتے سفارتی اثر و رسوخ کا ثبوت تھا۔ ۲۰۲۱ء میں امریکی افواج کے  افغانستان سے انخلا کے بعد واشنگٹن نے پاکستان سے پوری طرح منہ موڑ لیا تھا لیکن پچھلے سال مئی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیز فائر کرانے کے ٹرمپ کے دعوے کو جب ہندوستان نے مسترد کردیا تو پاکستان نے امریکی صدر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے انہیں اس کارنامہ کیلئے  نوبل انعام برائے امن کا مستحق بھی قراردے دیا۔ خوشامد پسند ٹرمپ کو وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ عاصم منیر کی یہ ادا بھاگئی۔

 اپنے جغرافیائی محل وقوع،جوہری صلاحیتوں  اور امریکی صدر کی سرپرستی کی بدولت پاکستان کو بین الاقوامی اسٹیج پر اپنا سفارتی جلوہ دکھانے کا بھرپور موقع مل گیا ہے۔ ۲۵؍ کروڑ کی آبادی  والا ملک جو دہشت گردی اور اقتصادی بدحالی کی وجہ سے ایک وقت سفارتی تنہائی کا شکار ہوتا جارہا تھا آج اسے بین الاقوامی پلیٹ فارموں پرہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے۔اس وقت پاکستان چین کا دیرینہ دوست اور اتحادی بھی ہے اور امریکہ کی آنکھوں کا تارابھی۔ وہ سعودی عرب کا برادر ملک بھی ہے ایران کا پر اعتماد پڑوسی بھی۔ اس پر ترکی بھی انحصار کررہا ہے اور قطر بھی۔ آج بنگلہ دیش جیسا ملک بھی اپنے گلے شکوے فراموش کرکے اس سے بغل گیر ہونے کو بیتاب ہے۔ ہرمز  پر جاری محاذ آرائی کے سبب تیل کی ترسیل ٹھپ ہوجانے سے دنیا بھر کی معیشت کو شدید جھٹکا لگا ہے کویت، اردن اور متحدہ عرب امارات جیسی خلیجی ریاستوں میں واقع امریکی اڈوں پر ایران کے حملوں نے پورے خطے کو عدم تحفظ اور انتشار میں مبتلا کررکھا ہے۔ ایسی مشکل گھڑی میں یہ امید کی جارہی ہے کہ پاکستان کی ثالثی سے امن کا کوئی ایسا فارمولہ نکل آئے جو ٹرمپ اور تہران دونوں کو قابل قبول ہو۔    

یہ بھی پڑھئے:دہلی کا عمارت سانحہ اور مسائل ِطلبہ

بین الاقوامی محاذ پر ملی اپنی کامیابیوں پر پاکستان خواہ جتنا بھی فخر کرلے لیکن اندرون ملک ہمارا ہمسایہ ابھی بھی  سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ انتہاپسند گروہوں کی جانب سے اس کی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، اقتصادی زبوں حالی اورلسانی اور نسلی خوں ریزی میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔ ملک پربیرونی قرضوں کا اور عوام پر ضروری اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ بڑھا ہے۔اقوام متحدہ، یورپی یونین اور چند دیگر اداروں کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ ’’غذائی بحران کی عالمگیر صورتحال‘‘ کے مطابق دنیا بھر میں شدید بھوک کا شکاردوتہائی لوگ  جن دس ممالک میں رہتے ہیں ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

پاکستان کے مقبول ترین سیاسی لیڈر عمران خان تین سال سے جیل میں بند ہیں۔ پاکستان میں اس وقت ’’ ہائبرڈ‘‘ نظام حکومت قائم ہے جس میں سیاسی رہنما (وزیر اعظم شہباز شریف)اورطاقتور ملٹری مقتدرہ ساتھ مل کر حکومت چلارہے ہیں لیکن طاقت اور اختیار کے حقیقی مالک آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔لیکن اب اس نظام حکومت میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ عاصم منیر کے اشارے پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے چار صوبوں کو توڑ کر متعدد چھوٹے چھوٹے صوبے بنانے کا شوشہ چھوڑا ہے۔ شہباز شریف کی مسلم لیگ (نون)منصوبہ کی حمایت کرنے پر رضامند یا مجبورہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے تجویز کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری اس پلان سے اس قدر خفا ہوئے کہ وہ علاج کے بہانے لندن جاکر بیٹھ گئے۔ پی پی پی نے سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پاس کرکے نئے صوبوں کے منصوبہ کو یکسر مسترد کردیا ہے۔    

یہ بھی پڑھئے:گھڑی کی چوری

فیلڈ مارشل منیر ایران اور امریکہ کو جنگ ختم کرکے خطے میں امن قائم کروانے کی کوششوں میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں اپنے ملک کے اندر تخریب کاری اور تشددکی سنگین صورتحال سے نپٹنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں  تشدد کی وارداتوں اور سیکوریٹی فورسیز کی کارروائی میں  صرف جولائی میں ۶۰۰؍ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ بلوچستان لبریشن آرمی  اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیاں تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔ عاصم منیر ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے کافی جتن کرتے ہیں لیکن  بات چیت کے ذریعہ صوبوں کے عوام کی شکایات کے ازالہ کی شہباز شریف کی پیش رفت کو حقارت سے مسترد کردیتے ہیں۔ افغانستان سے پاکستان کے رشتے بری طرح بگڑ ے ہوئے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ایک جانب پاکستان امریکہ اور ایران کی جنگ بند کروانے کیلئے ثالثی کررہا ہے اور دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے درمیان خونی تصادم روکنے کے لئے قطر اور ترکی کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی عوام میں بیزاری اور برہمی اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے نکل آتے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔

 سفارتی معرکے سر انجام دینے کے قبل اندرون ملک عوام کو جو سنگین مسائل اور مصائب درپیش ہیں ان کا حل ڈھونڈنا زیادہ ضروری ہے۔پاکستان کی سفارتی کامیابی سے انکار نہیں کیا جاسکتا  لیکن ایسی کامیابی بھلا کس کام کی جس سے ملک کے حکمرانوں کو عالمی برادری سے شاباشی ملے اورعاصم منیر کو وہائٹ ہاؤس میں لنچ کی دعوت ملے لیکن ۲۵؍کروڑ عوام کو دو وقت کی روٹی کے لئے آٹا نہ ملے؟ پڑوس کے گھر کی آگ بجھانے کے قبل اپنے گھر میں لگی آگ بجھانا دانشمندی ہے۔ کاش پاکستانی رہنماؤں کو یہ معمولی سی بات سمجھ میں آسکے۔  n

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK