راہل گاندھی نے مودی، شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹاٹا کو مجرمانہ طور پر تباہ کیا جا رہا ہے،ساتھ ہی دیگر کاروباری شخصیات کی خاموشیکو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 5:03 PM IST | New Delhi
راہل گاندھی نے مودی، شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹاٹا کو مجرمانہ طور پر تباہ کیا جا رہا ہے،ساتھ ہی دیگر کاروباری شخصیات کی خاموشیکو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کو، ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندر شیکھرن کی دوبارہ تقرری پر تنازع کے درمیان کاروباری لیڈروں پر الزام لگایا کہ وہ خاموش ہیں جبکہ ٹاٹا گروپ کو ’’مجرمانہ طور پر تباہ‘‘ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ نوئل ٹاٹا نے این چندر شیکھرن کی ٹاٹا سنز چیئرمین کے طور پر دوبارہ تقرری کو چیلنج کیا ہے، جس سے قیادت اور اسٹاک مارکیٹ میں ممکنہ لسٹنگ پر تنازع گہرا ہو گیا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے ایکس پر لکھا، ’’ٹاٹا کو مجرمانہ طور پر تباہ کیا جا رہا ہے، اور کوئی بھی کاروباری لیڈر ایک لفظ کہنے کی ہمت نہیں کرتا۔آپ کب تک خاموش رہیں گے؟ جب تک وہ آپ کے مالک نہیں بن جاتے؟‘‘علاوہ ازیں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے، انہوں نے کہاہندوستانی کاروبار مودی اور شاہ کا کھلونا نہیں ہے۔ آپ میں ہمت کی کمی ہے۔ ہم میں نہیں۔ ہم ان جرائم کے لیے انصاف کو یقینی بنائیں گے۔‘‘پی ٹی آئی نے رپورٹ کیا کہ نہ تو حکومت اور نہ ہی ٹاٹا گروپ نے فوری طور پر گاندھی کے الزامات کا جواب دیا۔
یہ بھی پڑھئے: دواؤں میں لوٹ مار پر سپریم کورٹ برہم، حکومت کی بھی سرزنش
پی ٹی آئی کے مطابق راہل گاندھی کے تبصرے ٹاٹا ٹرسٹ کے چیئرمین نوئل ٹاٹا کی جانب سے چندر شیکھرن کو فروری۲۰۲۷ء سے آگے مزید پانچ سال کی مدت دینے والی ۱۷؍ستمبر کی بورڈ قرارداد کو چیلنج کرنے کے دو دن بعد سامنے آئے۔نوئل نے دلیل دی کہ دوبارہ تقرری میٹنگ کے ایجنڈے میں نہیں تھی اور ٹرسٹ کے نامزد ڈائریکٹرز کی مطلوبہ حمایت کا فقدان تھا۔اے این آئی کے مطابق، انہوں نے۲۶؍ اکتوبر کو ٹاٹا سنز کے کمپنی سیکرٹری سپراکاش مکھوپادھیائے کو لکھے گئے خط میں لکھا، ’’قرارداد کالعدم ہے۔‘‘مزید برآں انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کمپنی نے بار بار درخواستوں کے باوجود میٹنگ کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ فراہم نہیں کی ہے۔نوئل نے۱۷؍ ستمبر کی میٹنگ کی مکمل ریکارڈنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا، ’’ریکارڈنگ ہی اس بات کا واحد غیر جانبدار ریکارڈ ہے کہ کیا ہوا۔‘‘تاہم نوئل نے دوبارہ تقرری کے خلاف ووٹ دیا۔ ٹرسٹ کے ساتھی نامزد وینو سری نواسن اور تین دیگر ڈائریکٹرز نے اس کی حمایت کی۔
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک میں ایس آئی آر کے بعد تقریباً ایک کروڑ نام حذف
بعد ازاں ٹاٹا ٹرسٹ نے۲۰؍ ستمبر کے بیان میں، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ دونوں نامزد افراد کو اس فیصلے کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے، کہاکہ دو میں سے اکثریت دو ہے نہ کہ ایک۔ شرط ناکام ہو گئی، اور اسی طرح قرارداد بھی۔‘‘ساتھ ہی ٹاٹا سنز نے قانونی آراء کا حوالہ دیتے ہوئے کہ پریزائیڈنگ چیئرمین کا کاسٹنگ ووٹ نامزد افراد کے درمیان تقسیم کو طے کر سکتا ہے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
اختلاف اس بات تک پھیلا ہوا ہے کہ آیا ٹاٹا سنز کو اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ ہونا چاہیے۔ نوئل نے دلیل دی کہ ٹاٹا سنز کو خیراتی ملکیت کے تحت رکھنا ایک ایسے ماڈل کی حفاظت کرتا ہے جس میں کاروباری منافع سے اسپتالوں، یونیورسٹیوں اور تحقیق کو فنڈ ملتا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے۱۷؍ ستمبر کے بیان میں کہا، ’’لسٹنگ اس کے کردار کو تباہ کر دے گی اور اس اصول کے دل پر ضرب لگائے گی۔‘‘