ادویات پر منافع کی حد مقرر کرنے کی پٹیشن پر فیصلہ محفوظ کرلیا، لاگت اور ایم آر پی کے درمیان بے تحاشہ فرق پر حیرت کااظہار کیا، نگراں ادارہ کو غیر فعال قرار دیا۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 12:00 PM IST | Agency | New Delhi
ادویات پر منافع کی حد مقرر کرنے کی پٹیشن پر فیصلہ محفوظ کرلیا، لاگت اور ایم آر پی کے درمیان بے تحاشہ فرق پر حیرت کااظہار کیا، نگراں ادارہ کو غیر فعال قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے ادویات کی ’ایم آر پی‘ (قیمت فروخت ) اوردوا فروشوں کو جس قیمت پر مذکورہ دوا ملتی ہے اس کے درمیان بے تحاشہ فرق پر حیرت کااظہار کرتے ہوئےدواؤں پر منافع کی حد مقرر کرنے کی پٹیشن پر اپنافیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ عدالت نے ملک میں ادویات کی قیمتوں کی نگرانی کے حکومتی نظام پر بھی سوال اٹھائے۔
قیمتوں کی نگرانی کا نظام غیر فعال
دواؤںکی قیمتوں سے متعلق تشویش ظاہر کرنے والی دو عرضیوں کی سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے سوال کیا کہ قیمتوں کا موجودہ نظام دوا ساز کمپنیوں کے حق میں کیوں نظر آتا ہے اور کیا اس طرح کے طریقوں کو بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رہنے دینا چاہیے۔ بنچ نے مرکزی حکومت سےسوال کیا کہ وہ ایسا کیوں ہونے دے رہی ہے۔ کورٹ نے برہمی ظاہر کی کہ ’’یہ سب کچھ حکومت کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔‘‘ بنچ نے سوال کیا، ’’کیا اسے بے لگام طریقے سے جاری رہنے دیا جانا چاہیے؟‘‘ کورٹ نے ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے والے ادارے نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھاریٹی (این پی پی اے) کے بارے میں بھی کہا کہ یہ ادارہ مکمل طور پر غیر فعال نظر آتا ہے۔
حکومت نے حیرت انگیزطور پر قیمتوں کا دفاع کیا
سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ادویات کے پورے نظام کو کنٹرول نہیں کیا جانا چاہیے۔بھاٹی نے کہا کہ ہندوستان میں ادویات کی قیمتیں دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہیں۔ ان کا استدلال تھا کہ حکومت کو ادویات کی قیمتیں عام لوگوں کی پہنچ میں رکھنے، ان کی دستیابی یقینی بنانے اور دوا ساز صنعت کے وسیع تر مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ بہرحال بنچ نے اس پراپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شہر میں فضائی آلودگی پرقابو پانےکےلئے شہری انتظامیہ کے اقدام
کینسر کی ادویات پر ۳۰؍ فیصد منافع
اس سے پہلے۱۲؍اکتوبر کو ایک دوسرے معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کینسر کی ادویات پر زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت (ایم آر پی) کے۳۰؍ فیصد تک تجارتی منافع کی حد مقرر کرنے کے بارے میں مرکزی حکومت کا جواب ایسا نہیں ہے جس پر خوشی کا اظہار کیا جا سکے۔ عدالت نے سوال کیا کہ حکومت دیگر ادویات پر بھی تجارتی منافع کی حد کیوں مقرر نہیں کر سکتی۔
زیادہ منافع لوٹ اور ڈکیتی کے مترادف
دواؤں پر منافع کی حد مقرر کرنے کی عرضی ’کشن چند جین بنام ایتھکس اینڈ میڈیکل رجسٹریشن بورڈ (ای ایم آر بی)، سابقہ میڈیکل کونسل آف انڈیا اور دیگر‘ کے معاملے میں دائر کی گئی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے قیمتوں کے موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں کی جانب سے حد سے زیادہ منافع وصول کرنا ’لوٹ‘ اور ’ڈکیتی‘ کے مترادف ہے۔
۱۱؍ ہزار کا انجکشن ایک لاکھ ۳۰؍ ہزار میں
عدالت نے ایک مثال بھی پیش کی جس میں ایک دوا فروش کی اہلیہ ایک معروف نجی اسپتال میں کینسر کا علاج کروا رہی تھیں۔کورٹ نےکہاکہ ’’دوا فروش نے اسپتال سے درخواست کی کہ سر، میں خود دوا فروش ہوں اور میرے لیے کیموتھراپی کا انجکشن ڈیلر کی قیمت پر۱۱؍ ہزار روپے میں دستیاب ہےمگر اسپتال نےاس سے انجکشن لے کر لگانے سے انکار کر دیا اور اپنا خریدا ہوا انجکشن لگا کر ایک لاکھ۳۰؍ ہزار روپے وصول کئے۔ کورٹ نے سوال کیا کہ’’ کیا آپ اس لوٹ کا کوئی جواز پیش کر سکتے ہیں؟ قیمت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ یہ پیسہ کہاں جاتا ہے؟‘‘
جنرک دوائیں لکھنے کی ہدایت کا مطالبہ
ایڈوکیٹ کشن چند جین نے مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) میں مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹروں کیلئے جنرک ادویات تجویز کرنا لازمی کیا جائے، غیر مقررہ قیمتوں والی ادویات کی ابتدائی قیمتوں پر سخت کنٹرول نافذ کیا جائے اور ڈرگ پرائس کنٹرول آرڈر (ڈی پی سی او) کے تحت طبی آلات پر قانونی طور پر منافع کی حد مقرر کی جائے۔ اس بیچ عدالت نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ فیصد ادویات ڈی پی سی او کے دائرے سے مکمل طور پر باہر ہیں۔کورٹ نے سوال کیا کہ پھر ڈی پی سی او قائم ہی کیوں کی گئی ہے؟