• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک میں ایس آئی آر کے بعد تقریباً ایک کروڑ نام حذف

Updated: October 28, 2026, 10:46 AM IST | Agency | Bengaluru

ایس آئی آر کے بعد جنوبی ریاست میں ووٹرس کی تعداد۵۵ء۴ کروڑ درج کی گئی جو پہلے۵۴ء۵؍ کروڑ تھی۔

Chief Electoral Officer V. Anbu Kumar. Photo: INN
چیف الیکٹورل افسر وی انبو کمار۔ تصویر: آئی این این

کرناٹک میں ایس آئی آر کے بعد جاری کردہ حتمی فہرست میں ووٹروں کی مجموعی تعدادتقریباً ایک کروڑ کم ہو گئی ہے۔ حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق ریاست میں ۵۵ء۴؍ کروڑ ووٹرس ہیں جبکہ نظرثانی سے قبل  یہ تعداد۵۴ء۵؍ کروڑ تھی یعنی   تقریباً۹۹؍ لاکھ ۳۲؍ ہزار نام حذف کردئیے گئے ہیں۔  دوسری جانب الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ نااہل قرار دئیے جانے والے ووٹروں کے معاملات میں سماعت کے بعد مجاز افسران نے تقریباً ۶۲؍ہزار فارم ۷؍ جاری  کئے تھے۔

چیف الیکٹورل آفیسر وی انبو کمار نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ ۶۲؍ ہزار فارم ۷؍ انتخابی رجسٹریشن افسران اور دیگر مجاز حکام نے سماعت کرنے اور وجوہات پر مشتمل احکامات جاری کرنے کے بعد تیار کئے تھے۔ انہوں نے اس الزام کی تردید کی کہ یہ فارم بڑی تعداد میں اجتماعی طور پر جاری کئےگئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: انتھروپک آئی پی او کے دستاویزات سے اربوں کے نقصانات اور اے آئی کے خطرات کے شدید انتباہات کا انکشاف

ان کے مطابق، یہ کارروائی انفرادی معاملات کی تفصیلی جانچ کے بعد ہی کی گئی ہے۔چیف الیکٹورل آفیسر نے کہا کہ اس طرح کے فارم اجتماعی طور پر جاری کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔متعلقہ حکام نے صرف انہی معاملات میں فارم جاری کیے جن میں مقررہ طریقۂ کار کی تکمیل کے بعد ووٹروں کو نااہل پایا گیا۔

الیکشن کمیشن نے بتایا کہ نظرثانی کے عمل کے دوران تقریباً۸۲ء۴۳؍ لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ ان سماعتوں کا مقصد حتمی فہرست کی اشاعت سے قبل خامیوں اور تضادات کی جانچ کرنا اور ووٹروں کی اہلیت کی تصدیق کرنا تھا۔اس سے قبل ۲۴؍ اگست کو ووٹر فہرست کا مسودہ شائع کیا گیا تھا۔ اس وقت کرناٹک میں ووٹروں کی تعداد ۴؍ کروڑ ۴۶؍ لاکھ تھی جبکہ نظرثانی سے قبل یہ تعداد۵؍کروڑ ۵۴؍ لاکھ سے زائد تھی۔ اب حتمی فہرست میں ووٹروں کی تعداد۴؍ کروڑ ۵۵؍ لاکھ  ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK