مخٰتلف سماجی تنظیموں کی مدد سے پولیس اور چائلڈ کمیشن نے کارروائی کی، مختلف ٹیکسٹائل فیکٹریوں پر چھاپے، مگر مالکان فرار۔
بچہ مزدوری کھلے عام جاری ہے-تصویر:آئی این این
حکومت، انتظامیہ اور سماجی تنظیموں کے مشترکہ چھاپے میں سورت کی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ۹۱؍ بچہ مزدوروں کو آزاد کروایا گیا۔ ان بچوں کی عمریں ۷؍ تا ۱۴؍ سال ہے۔ البتہ فیکٹری مالکان اور ان کے ساتھی موقع سے فرار ہوگئے۔ آزاد کروائے گئے زیادہ تر بچوں کا تعلق راجستھان کے قبائلی علاقوں سے ہے، جب کہ تین کا تعلق اتر پردیش اور ایک ایک جھارکھنڈ اور بہار سے ہے۔ ان تمام کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی سورت کے سامنے پیش کیا گیا اور قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان بچوں کے اسمگلروں اور فیکٹری مالکان نے کسی کو شبہ نہ ہو اس کیلئے مختلف طریقے اپنائے تھے۔ چھوٹے بچوں کو صبح سویرے یہاں لایا جاتا تھا اور پھر عمارت کے دروازوں کو باہر سے بند کر دیا جاتا تھا۔ شام ۷؍بجے کام کی شفٹ ختم ہونے کے بعد ہی دروازے کھولےجاتے تھے۔ان تمام بچوں کو آس پاس کی کالونیوں میں انتہائی افسوسناک اور غیر انسانی حالات میں رکھا گیا تھا۔ ۱۰؍ تا ۱۲؍ بچے ایک چھوٹے سے کمر ے میں رہتے تھے۔ جس میں کوئی بنیادی سہولت نہیں تھی۔ پوچھ تاچھ کے دوران کچھ بچوں نے انکشاف کیا کہ ان کے والدین کو معلوم تھا کہ انہیں یہاں مزدوری کیلئے لایا گیا ہے۔ دریں اثنا، زیادہ تر چھوٹے بچوں کا کہنا تھا کہ انہیں یہاں سفر کی آڑ میں لایا گیا تھا اور انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں مزدور کے طور پر کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ کچھ بچے ان ٹیکسٹائل یونٹوں میں تین چار سال سے کام کر رہے تھے جبکہ کچھ کو حال ہی میں یہاں لایا گیا تھا۔ بچائے گئے بچوں میں ۸؍ اور ۱۰؍ سال کے دو بھائی بھی ہیں، جنہیں راجستھان کے ضلع ادے پور سے لایا گیا تھا۔
گائتری ی سیوا سنستھان (جی ایس ایس) کی تحقیقات پر مبنی چھاپے میں جی ایس ایس، نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ اسمگلنگ نے مل کر کارروائی کی۔ جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے قومی کنوینر روی کانت نے کہا، ’’یہ چھاپہ ثابت کرتا ہے کہ یہ اسمگلنگ گینگ کس قدر منظم ہے اور کتنی گہری جڑیں رکھتی ہیں۔ بچوں، خاص طور پر قبائلی علاقوں اور کمزور خاندانوں سے، جھوٹے وعدوں کے لالچ میں اور استحصالی حالات میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں وہ ایک بار پھر اپنے بچپن کی دنیا سے کٹ جاتے ہیں۔ بین ریاستی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، چائلڈ لیبر کی طلب اور رسد کی نگرانی کرنے اور بچوں کے استحصال میں ملوث آجروں اور درمیانی افراد کو پکڑنے اور جوابدہ بنانے کی فوری ضرورت ہے۔
گائتری سیوا سنستھان ایک مہینے سے سورت کی اس ٹیکسٹائل فیکٹری کی نگرانی کر رہا تھا۔ اس نے بڑی تعداد میں بچہ مزدوروں کی موجودگی کی تصدیق کے بعد این سی پی سی آر کو مطلع کیا۔ آزاد کروائے گئے بچوں نے پھر پولیس کو سراغ فراہم کئے، ان جگہوں کی طرف اشارہ کیا جہاں چائلڈ لیبر کروائی جا رہی تھی۔بچے جس عمارت کی طرف پولیس اور سماجی کارکنان کو لے گئے وہ پوری طرح سے بند تھی اور کسی کو علم نہیں تھا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ جبکہ اندر سارے بچے کام کر رہے تھے۔