شمالی نائیجیریا میں مذہبی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان ایک معروف اسلامی مبلغ کے قتل نے مذہبی آزادی، مسلکی اختلافات اور امن و بقائے باہمی سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 2:09 PM IST | Abuja
شمالی نائیجیریا میں مذہبی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان ایک معروف اسلامی مبلغ کے قتل نے مذہبی آزادی، مسلکی اختلافات اور امن و بقائے باہمی سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔
نائیجیریا کی شمالی ریاست کاتسینا کے علاقے دوتسِن ما میں مسلح افراد نے اسلامی مبلغ یحییٰ مسوسوکا کو ان کے گھر کے باہر گولی مار کر ہلاک کردیا۔ بی بی سی کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے پیر کی شام ۴۷؍ سالہ مبلغ کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے مہمانوں کو رخصت کر رہے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک مہمان بھی زخمی ہوا۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ قتل کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی تاہم مسوسوکا کو سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کے باعث قتل کی دھمکیاں ملی تھیں جن میں انہوں نے اسلام کی مروجہ تعلیمات کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کیا تھا۔ ان میں یہ عقیدہ بھی شامل تھا کہ مرنے کے بعد قبر میں دو فرشتے انسان سے سوال کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ احادیث پر مبنی ہے جن میں حضرت محمدﷺ کے اقوال و افعال کا بیان ہے۔ مسوسوکا زیادہ تر قرآن پر انحصار کرتے تھے اور بعض احادیث پر سوال اٹھاتے تھے۔ ان تعلیمات کے حوالے سے علماء کا مذاق اڑانے پر وہ ایک مرتبہ ۹؍ ماہ جیل میں بھی گزار چکے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹر نے ۹؍امریکی مسلمانوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کیا
رپورٹ کے مطابق قتل سے چند ماہ قبل ریاست کاتسینا کی حکومت نے انہیں علماء کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا، تاکہ ان الزامات کا جواب دے سکیں کہ ان کی تعلیمات مسلمہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں۔ حکومت نے مبلغ کی جانب سے دائر کردہ جوابی شکایت کا بھی ذکر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جماعتِ ازالۃ البدع کے ارکان نے انہیں گالیاں دی تھیں اور حملے کی دھمکیاں دی تھیں۔ بعد ازاں معاملہ امیرِ کاتسینا کے سپرد کردیا گیا جنہوں نے مسوسوکا اور دیگر علما سے ملاقات کی اور تمام فریقوں کو ایسی تقاریر سے گریز کرنے کی تلقین کی جو دوسرے مسلمانوں کو مشتعل کرسکتی ہوں۔
مسوسوکا نے ۱۳؍ سال کی عمر میں قرآنی مدارس میں تبلیغ کا آغاز کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے مصر کی جامعہ الازہر میں تعلیم حاصل کی اور عمان میں بھی اپنی تعلیم جاری رکھی۔ وہ اپنے گھر میں قائم ایک اسٹوڈیو میں اپنے بیانات ریکارڈ کرتے تھے جنہیں سوشل میڈیا پر ان کے پیروکاروں کیلئے جاری کیا جاتا تھا۔ وہ پُرتشدد انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھاتے اور مسلمانوں و عیسائیوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی حمایت کرتے تھے۔ گزشتہ سال نیٹ ورک فار گڈ گورننس اینڈ ٹرانسپیرنسی نے انہیں امن کے سفیر کا ایوارڈ دیا تھا۔ وہ اپنے پیچھے دو بیویاں اور سات بچے چھوڑ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ٹرمپ کی حمایت کے باوجود سٹہ بازار میں نیتن یاہو کی شکست کی پیش گوئی
گزشتہ ۲۵؍ برسوں کے دوران شمالی نائیجیریا میں نسلی اور مذہبی تشدد کے واقعات میں ہزاروں عیسائی اور مسلمان ہلاک ہوچکے ہیں۔ قتل کیے جانے والوں میں معروف مسلم مبلغین بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی کو بوکو حرام نے نشانہ بنایا کیونکہ وہ اس گروہ پر تنقید کرتے تھے۔ بوکو حرام نے ۲۰۰۹ء میں مسلح شورش کا آغاز کیا تھا۔