۴۰۰ ؍والا ٹینکر ۶۰۰ ؍روپے میں، شہریوں پر دوہری مصیبت۔ شہریوں کی شکایات پر میونسپل کارپوریشن کے محکمہ آب رسانی نے نجی ٹینکر مالکان کو مقررہ نرخوں پر پانی فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 2:05 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mira Bhayandar
۴۰۰ ؍والا ٹینکر ۶۰۰ ؍روپے میں، شہریوں پر دوہری مصیبت۔ شہریوں کی شکایات پر میونسپل کارپوریشن کے محکمہ آب رسانی نے نجی ٹینکر مالکان کو مقررہ نرخوں پر پانی فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
میرا بھائندر شہر پانی کے شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) نے شہر کو دیئے جانے والے پانی میں۱۵؍ فیصد سے زیادہ کٹوتی کر دی ہے تو وہیں دوسری طرف پانی کی اس قلت کا فائدہ اٹھا کر نجی ٹینکر مالکان نے من مانی شروع کر دی ہے۔
شہر کیلئے اسٹیم اتھاریٹی سے ۸۶ ؍ ایم ایل ڈی اور ایم آئی ڈی سی سے ۱۲۵ ؍ایم ایل ڈی پانی منظور ہے، یعنی مجموعی طور پر تقریباً ۲۰۰ ؍ایم ایل ڈی سے زیادہ پانی ملنا چاہئے لیکن گزشتہ ہفتے سے ایم آئی ڈی سی سے صرف ۱۱۸؍ ایم ایل ڈی پانی مل رہا ہے۔ اسٹیم سے بھی روزانہ ۱۳ ؍ سے ۱۴ ؍ایم ایل ڈی پانی کم آ رہا ہے۔ اس طرح شہر کو روزانہ تقریباً ۲۳ ؍ایم ایل ڈی پانی کم مل رہا ہے۔ایم آئی ڈی سی ہر ہفتے منگل کو پانی کی سپلائی بند رکھتا ہے۔ ۱۱ ؍ سے ۲۴ ؍اکتوبر کے دوران کئی بار سپلائی میں کٹوتی کی گئی۔ اس دوران شہر کو ۱۱۴۸؍ ایم ایل ڈی کے بجائے صرف ۶۳۲؍ ایم ایل ڈی پانی ملا یعنی تقریباً ۵۱۶ ؍ ایم ایل ڈی پانی کم دیا گیا۔ جمعہ سے شہر کے متعدد حصوں میں پانی کی قلت شدت اختیار کر گئی ہے اور کئی علاقوں میں نلوں میں پانی نہیں پہنچ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پیرکو مسافروں کوہونے والی پریشانی پر ریلوے کو رپورٹ کاانتظار
ٹینکر کے نرخوں میں۲۰۰؍ روپے کا اضافہ
پانی کی سپلائی متاثر ہوتے ہی نجی ٹینکر مالکان نے نرخوں میں ایک ساتھ ۲۰۰؍ روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق پہلے ایک ٹینکر کے لئے ۴۰۰؍ روپے لئے جاتے تھے، اب ۶۰۰؍ روپے تک وصول کئے جا رہے ہیں۔ پانی کی کٹوتی اور ٹینکر کے بڑھتے نرخوں نے شہریوں کو دوہری مصیبت میں ڈال دیا ہے۔
شہریوں کی شکایات پر میونسپل کارپوریشن کے محکمہ آب رسانی نے نجی ٹینکر مالکان کو مقررہ نرخوں پر پانی فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ زائد نرخ وصول کرنے کی شکایت ملنے پر متعلقہ ٹینکر مالک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایم آئی ڈی سی اور اسٹیم سے پانی کی سپلائی فوری طور پر بحال کی جائے اور ٹینکر کے نرخوں کو کنٹرول کرنے کے لئے مستقل نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ بحران کے نام پر شہریوں کو لوٹا نہ جا سکے۔