Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب ۲۵۸؍ جھونپڑوں پر ریلوے کا بلڈوزر

Updated: June 04, 2026, 7:10 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

ریلوے کی زمین پر قائم اس بستی کے خلاف کی گئی کارروائی کے نتیجے میں سیکڑوں افراد بے گھر ،متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی پر سخت ناراضگی۔

A Girl Is Picking Up Leaves From The Rubble Of The Destroyed Huts.Photo:INN
اجاڑے گئے جھونپڑوں کے ملبے سے ایک لڑکی پترااُٹھا رہی ہے- تصویر:آئی این این
سینٹرل ریلوے انتظامیہ نے بدھ کے روز بھیونڈی روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب انجور پھاٹا علاقے میں واقع لکشمن نگر جھونپڑپٹی میں بڑے پیمانے پر انسدادِ تجاوزات مہم چلاتے ہوئے۲۵۸؍ جھونپڑیوں کو منہدم کر دیا۔ ریلوے زمین پر قائم اس بستی کے خلاف کی گئی کارروائی کے نتیجے میں سینکڑوں افراد بے گھر ہو گئے، جبکہ متاثرین اور مقامی نمائندوں نے متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے فوری بازآبادکاری کا مطالبہ کیا ہے۔
 
 
اطلاعات کے مطابق دیوا-وسئی ریلوے لائن سے متعلق جاری منصوبوں اور ریلوے انفراسٹرکچر کی توسیع کے لیے زمین خالی کرانے کی غرض سے یہ کارروائی انجام دی گئی۔ ریلوے حکام نے جے سی بی مشینوں کی مدد سے جھونپڑیوں کو منہدم کیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارروائی سے قبل مکینوں کو ایک ماہ پہلے نوٹس جاری کیا جا چکا تھا اور انہیں جگہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔رہنال گرام پنچایت حدود میں واقع لکشمن نگر بستی گزشتہ تقریباً۴۰؍ برسوں سے آباد تھی۔ یہاں رہنے والے خاندانوں کو گرام پنچایت کی جانب سے بجلی، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔ بستی میں آنگن واڑی مرکز بھی قائم تھا جس سے یہ علاقہ ایک مستقل آبادی کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہاں زیادہ تر آدیواسی اور خانہ بدوش برادریوں کے افراد رہائش پذیر تھے جو برسوں سے اسی مقام پر زندگی گزار رہے تھے ۔ انہدامی کارروائی کے بعد متعدد خاندان کھلے آسمان تلے آنے پر مجبور ہو گئے۔ 
 
 
متاثرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں نوٹس موصول ہوا تھا، تاہم متبادل رہائش یا بازآبادکاری کے بارے میں کوئی واضح انتظام نہیں کیا گیا۔ ان کا موقف ہے کہ طویل عرصے سے یہاں مقیم خاندانوں کو مناسب متبادل فراہم کئے بغیر بے دخل کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ رہنال گرام پنچایت کے سابق سرپنچ راجندر بھوئیر نے کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بستی میں رہنے والے افراد انتہائی کمزور معاشی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں جن میں  بیوہ خواتین، معذور افراد اور یومیہ مزدوری کرنے والے خاندان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر ان کی بازآبادکاری کے لیے کوششیں جاری تھیں، لیکن اس سے قبل ہی جھونپڑیوں کو منہدم کر دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مانسون کی آمد قریب ہے اور شدید گرمی بھی  ہے۔ ان حالات میں سینکڑوں خاندانوں کو بے گھر کرنا انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت اور ریلوے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کی فوری بازآبادکاری کو یقینی بنایا جائے اور انہیں مناسب متبادل رہائش فراہم کی جائے تاکہ ان کی زندگی مزید مشکلات کا شکار نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK