ریلوے اسٹیشنوں کے ہیلپ ڈیسک کو مزید فعال بنانے کی کوشش۔ ’خود کی پہچان ‘اور’مہارت، قیادت اور میری ذمہ داری‘ کےعنوان پر تربیتی پروگرام منعقد۔
دو روزہ تربیتی پروگرام کے دو مختلف سیشن میں ماہرین کو بغور سنتے ہوئے ریلوے پولیس اہلکار دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
ریلوے میں اسٹیشنوں پر بنائے گئے ہیلپ ڈیسک کو مزید فعال اور کسی ضرورت مند مسافر کی کس طرح فوری مدد پہنچاکر اس کی رہنمائی کی جائے، ۲۰۰؍ پولیس اہلکاروں کو ۲؍ روزہ ٹریننگ دی گئی۔ اس ٹریننگ کو ڈی جی پی (مہاراشٹر)کی ہدایات کا ریلوے پولیس کمشنریٹ میں کمیونٹی پالیسنگ کے نفاذ کا حصہ بتایا گیا۔ ریلوے پولیس کمشنر ایم کلا ساگر کے مطابق جب تک پولیس اہلکار خود کو عوام اور مسافروں کے قریب نہیں کریں گے، دوریاں کم نہیں ہوں گی اور سنجیدگی سے ان کی شکایات پر توجہ نہیں دی جائے گی اس وقت تک احسن طریقے سے ذمہ داری کی ادائیگی ممکن نہیں ہوگی،عوامی رابطہ مستحکم ہونا سب سے اہم ہے۔
اس ضمن میں ممبئی ریلوے پولیس کمشنریٹ میں کمیونٹی پالیسنگ اور گفتگو (ابلاغ) کی مہارتوں سے متعلق ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔اس کا مقصد ریلوے مسافروں کی مدد اور سہولت کے لئے ممبئی اور مضافات کے ریلوے اسٹیشنوں پر ہیلپ ڈیسک (مدد کاؤنٹر) کو مزیدفعال بنانا تھا۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (مہاراشٹر)کی ہدایات اور پولیس کمشنر ریلوے (ممبئی) کی رہنمائی میں اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کی پیشگی تیاری کے طور پر ممبئی ریلوے پولیس کمشنریٹ کے تمام پولیس تھانوں کے افسران اور اہلکاروں کے لئے واڑی بندر میں دو روزہ ورکشاپ منعقدکیا گیا۔
اس ورکشاپ میں’خود کی پہچان ‘کے موضوع پر ڈاکٹر چیتن نیریکر نے اور ’گفتگو کی مہارت، قیادت کی مہارت اور میری ذمہ داری ‘کے موضوع پر پروفیسر امئے مہاجن نے رہنمائی کی۔ اس کے علاوہ ریٹائرڈ پولیس انسپکٹر ستیش چنچکر نے ’کمیونٹی پالیسنگ‘ کی اہمیت اور ’ہیلپ ڈیسک‘ پروجیکٹ کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کی تیاری کے موضوع پر رہنمائی کی۔
ٹریننگ کے آخری سیشن میں پروفیسر امئے مہاجن نے موجود تمام افسران اورپولیس اہلکاروں کے ۵؍گروپ تشکیل دیئے اور انہیں فرضی حالات بتاتے ہوئے اس کی روشنی میں مختصر ڈرامہ پیش کرنے کی ہدایت دی تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ واقعی حالات پیش ٓآنےپر پولیس اہلکاروں کا کیا طریقۂ کار ہوگا۔ان ڈراموں کے مکالمے اور ہدایت کاری سینئر پولیس سب انسپکٹر ہنومنت دھائیڈے (سائبر سیل) نے کی۔اس کے علاوہ پولیس انسپکٹر والمیک شادلگو، پولیس انسپکٹررام چندر کپی، پولیس انسپکٹر مہانور اور اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر منگیش کھاڑے بھی اس میں عملاً شریک رہے۔