عالمی چیلنجوں کے باوجود ہندوستانی ریلوے کی بہترین کارکردگی ، مال برداری میں گزشتہ سال کے مقابلے ۱ء۳؍ فیصد اضافہ ۔
انڈین ریلوے نے اپنی مال برداری کو اپنے ریوینیو میں اضافہ کا اہم ذریعہ بنایا ہے- تصویر:آئی این این
عالمی چیلنجوں کے باوجود ہندوستانی ریلوے نے مئی میں۱۴ء۵؍کروڑ ٹن مال کی ترسیل (مال برداری) کر کے اپنی مال برداری کی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔ مئی۲۰۲۵ءکے مقابلے میں ریلوے کی مال برداری میں ۱ء۳؍فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ریلوے کی مال ڈھلائی پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق لوہے کی دھات (آئرن اَور)، اسٹیل، کھاد اور دیگر اشیاء کی مضبوط کارکردگی کی وجہ سے یہ اضافہ ہوا ہے۔ مال برداری میں یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) صورتحال اور لاجسٹکس و سپلائی چین پر اس کے بالواسطہ اثرات سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کے باوجود حاصل کیا گیا ہے۔ ریلوے مسلسل آپریشنل نگرانی اور اثاثوں کے موثر استعمال سے ملک بھر میں ضروری اشیاء کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
اہم اشیاء میں، دیگر اشیاء نے ۱۶؍ فیصد کا مضبوط اضافہ درج کیا جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں لوہے کی دھات کی نقل و حمل میں۴ء۸؍ فیصد اور آئرن اور تیار اسٹیل کی نقل و حمل میں ۳ء۵؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ کھادوں کی ترسیل میں بھی۶ء۲؍ فیصد کا اچھا اضافہ درج کیا گیا ہے جو معیشت کے اہم شعبوں کو مدد فراہم کرنے کے تئیں ریلوے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ریلوے کی مال برداری کی نقل و حمل میں سب سے بڑا حصہ رکھنے والے پروڈکٹ، کوئلے نے پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً ایک فیصد اضافے کے ساتھ اپنی مستحکم برتری برقرار رکھی ہے۔
سرکاری ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تھرمل پاور پلانٹس کی ضروریات کو پورا کرنے اور توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئےہندوستانی ریلوے نے کوئلے کی نقل و حرکت کو ترجیح دی اور پورے نیٹ ورک میں اس کی ٹرانزٹ (آمد و رفت) کی باریکی سے نگرانی بھی کی۔ ہندوستانی ریلوے نے آسان مال برداری کی سہولت فراہم کرنے اور مختلف شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کو مدد دینے کے لئے گھریلو اور درآمدات و برآمدات دونوں طرح کے کنٹینر ٹریفک کی نگرانی بھی تیز کر دی ہے۔ ان اقدامات سے چیلنجنگ حالات میں مال برداری کی ترقی کو برقرار رکھنے اور سپلائی چین کی کارکردگی کو برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔مسافروں کے محاذ پر طویل فاصلے کے سفر کے لئے مسلسل برقرار ڈیمانڈ کے باعث ہندوستانی ریلوے نے مئی۲۰۲۶ء کے دوران ۶۱؍کروڑ سے زیادہ مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچایا جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں یہ تعداد تقریباً ۵۹؍کروڑ تھی۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر غیر مضافاتی شعبے کی وجہ سے ہوا۔ اس نے ۷ء۴؍ فیصد کا اضافہ درج کیا، جس میں مسافروں کی تعداد ۲۸؍کروڑ سے بڑھ کر ۳۰؍کروڑ ہو گئی۔ یہ ملک بھر میں کم اور طویل فاصلے دونوں طرح کے سفر کے لئے ریل سفر کے تئیں مسلسل ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔سفر کی مانگ میں موسمی اضافے کو پورا کرنے کے لئے ہندوستانی ریلوے نے مختلف روٹس پر بڑی تعداد میں سمر اسپیشل ٹرینیں چلائیں۔