پولیس کمشنر کی درخواست کو وجہ بتایا، ۴۸؍ لاکھ سے زیادہ افراد صرف ٹویٹر پر اسے دیکھ چکے ہیں، کئی ہینڈلس کو نوٹس۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 10:58 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
پولیس کمشنر کی درخواست کو وجہ بتایا، ۴۸؍ لاکھ سے زیادہ افراد صرف ٹویٹر پر اسے دیکھ چکے ہیں، کئی ہینڈلس کو نوٹس۔
مہاراشٹرا نونرمان سینا( ایم این ایس)کے سربراہ راج ٹھاکرے نے اتوار (۲۵؍اکتوبر) کو وزیر اعظم نریندر مودی اور معروف صنعتکار گوتم اڈانی کے تعلقات پر مبنی متنازع دستاویزی فلم کو اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز سے ہٹا دیا ہے۔ اسے صرف ٹویٹر پر ۴۸؍ لاکھ سے زیادہ ویوز ملے تھے۔
راج ٹھاکرے نے اتوار کو ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے یہ قدم ممبئی پولیس کمشنر کی جانب سے موصول ہونے والی ایک درخواست کا لحاظ رکھتے ہوئے اٹھایا ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ ان کی جنگ فرد واحد سے نہیں کارپوریٹ اجارہ داری کے خلاف ہے۔ انہوںنے اپنی پوسٹ میں کہا کہ میری خواہش تھی کہ یہ سنگین مسئلہ عوام تک پہنچے اور وہ مقصد پورا ہو گیا ہے۔ یہ دستاویزی فلم ’ہاٹ میل‘کے بانی سبیر بھاٹیا کی جانب سے تیار کی گئی ہے اورسب سے پہلے انہوں نے ہی اسے ’ایکس‘ پر شیئر کیاتھا۔ اس فلم میں پی ایم نریندر مودی اور گوتم اڈانی کی پرانی دوستی اور مبینہ طور پر ملک کے صنعتی شعبوں پر ایک کمپنی کی اجارہ داری قائم کرنے کی کوششوں کو دکھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نصیر الدین شاہ نے ستیہ جیت رے فلم انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کی حمایت کی
راج ٹھاکرے کے مطابق، اس دستاویزی فلم کو شیئر کرنے کے بعد ایکس پر اسے۴۸؍ لاکھ سے زائد ویوز مل چکے تھے جس کی وجہ سے اقتدار میں بیٹھے لوگوں میں خوف پیدا ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی اور مہاراشٹر پولیس ملک کی سب سے بہترین اور باصلاحیت فورس ہے، اس لئے وہ صرف ممبئی پولیس چیف کی درخواست کا احترام کرتے ہوئے یہ ویڈیو ہٹا رہے ہیں۔
لڑائی جاری رہے گی: راج
راج ٹھاکرے نے واضح کیا کہ کارپوریٹ اجارہ داری(مونو پولی) کے خلاف ان کی مہم جاری رہے گی۔ انہوں نے جنوری ۲۰۲۶ءمیں اپنی رہائش گاہ ’شیو تیرتھ‘ پر دیئے گئے ایک پریزنٹیشن کے پرانے کلپس کو دوبارہ شیئر کیا، جس میں انہوں نے اڈانی گروپ پر ملک کے وسائل ہڑپنے کا الزام لگایا تھا۔
ویڈیو میں گمراہ کن دعوے
اس سے قبل ممبئی سائبر پولیس ویڈیو میں قابلِ اعتراض اور گمراہ کن دعوؤں کی شکایت ملنے کے بعد اس سلسلے میں ان۲۴؍ ایکس اکاؤنٹ ہولڈرز کو قانونی نوٹس جاری کر چکی ہے جنہوں نے اس دستاویزی فلم کو شیئر کیا تھا۔