گوتم بدھ نگر میں کسانوں نے اپنے دیرینہ اور زیرِ التوا مطالبات کی تکمیل تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 10:49 AM IST | Agency | Noida
گوتم بدھ نگر میں کسانوں نے اپنے دیرینہ اور زیرِ التوا مطالبات کی تکمیل تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
گوتم بدھ نگر میں کسانوں نے اپنے دیرینہ اور زیرِ التوا مطالبات کی تکمیل تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کی جانب سے پیر کو منعقدہ کسان مہاپنچایت کے بعد بڑی تعداد میں کسان پیدل مارچ کرتے ہوئے جمنا اتھارٹی کے دفتر کے سامنے پہنچے اور دھرنے پر بیٹھ گئے۔ کسان لیڈروں نے واضح کیا کہ مطالبات پر ٹھوس فیصلہ ہونے تک وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:بہار سیلاب : کمیونٹی کچن ۸۸؍ لاکھ ۵۴؍ ہزار افراد کوکھانا فراہم کررہے ہیں
مہاپنچایت میں ضلع کے سیکڑوں گاؤں سے ہزاروں کسانوں کے علاوہ خواتین اور نوجوانوں نے بھی شرکت کی۔ کسانوں نے اپنے مسائل کے حل میں تاخیر پر انتظامیہ اور حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان چودھری راکیش ٹکیت نے مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کسانوں کے مطالبات کو فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔مہاپنچایت کے بعد کسان جب پیدل مارچ کرتے ہوئے جمنا اتھارٹی کے دفتر کی جانب بڑھے تو، کسانوں کے مطابق، پولیس انتظامیہ نے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس پر کسان سڑک پر ہی بیٹھ گئے اور پولیس انتظامیہ و حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ بڑی تعداد میں کسانوں کے جمع ہونے کے باعث موقع پر کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ جب تک کسانوں کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے، دھرنا جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے: آٹھ سال سے جیل میں قید یو اے پی اے ملزم کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت
کسانوں کے اہم مطالبات:
۷ء۶۴ءفیصد اضافی معاوضہ
۱۰؍ فیصد کسان کوٹے کے پلاٹ
کھاد کی کالا بازاری پر روک
نہروں میں مناسب مقدار میں پانی کی فراہمی
بجلی کی بڑھی ہوئی شرحوں کی واپسی