• Tue, 24 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجستھان: سابق بی جے پی ایم پی نے مسلم خواتین سے کمبل واپس لیا، تنازع

Updated: February 23, 2026, 6:02 PM IST | Jaipur

راجستھان کے ٹونک سوائی مادھو پور کے سابق رکن پارلیمان سکھبیر سنگھ جونپوریا پر الزام ہے کہ انہوں نے کمبل تقسیم کے دوران مسلم خواتین کو روکا اور مبینہ طور پر دیا گیا کمبل واپس لے لیا، اور یہ عمل ویڈیو میں سنا گیا کہ ’’جو مودی کی تضحیک کرتے ہیں، انہیں کمبل نہیں دیں گے۔‘‘ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔

Former BJP MP Sukhbir Singh Jaunapuria. Photo: X
بی جے پی کے سابق ایم پی سکھبیر سنگھ جونپوریا۔ تصویر: ایکس

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق رکن پارلیمان سکھبیر سنگھ جونپوریا پر ایک سیاسی اور سماجی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں وہ کمبل تقسیم کے پروگرام میں چند مسلم خواتین کو ان کے مذہب کی بنیاد پر انکار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں جونپوریا مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ ’’جو لوگ وزیراعظم نریندر مودی کی تضحیک کرتے ہیں، اُنہیں کمبل لینے کا حق نہیں ہے۔‘‘ یہ واقعہ راجستھان کے ٹونک سوائی مادھو پور کے ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں جونپوریا نے ایک عوامی تقریب میں کمبل تقسیم کیے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک خاتون کا نام پوچھا، اور جب اس نے اپنا نام بتایا جو مسلم شناخت ظاہر کرتا ہے، تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اُس خاتون کو کمبل نہ دیں اور پہلے سے دیے گئے کمبل واپس لے لیں۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا عوام میں غم و پھیل گیا۔ کئی صارفین نے اس عمل کو مذہبی امتیاز قرار دیا، اور کہا کہ اس طرح کا سلوک آئین کے بنیادی اصولوں اور انسانی وقار کے خلاف ہے۔

اپوزیشن جماعتیں اور سیاسی ردِعمل
کانگریس کے رکن پارلیمان ہریش چندر مینا نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سکھبیر سنگھ کے عمل کو شرمناک اور غیر انسانی قرار دیا، اور کہا کہ رکن پارلیمان کو سب کو برابر سلوک کرنا چاہیے، چاہے اُن کا مذہب یا سیاسی نظریہ کچھ بھی ہو۔
کانگریس کی سوشل میڈیا ونگ کی چیرپرسن سپریا شرینیت نے بھی اس واقعے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ لوگوں کو احتجاج کرنے کا پورا حق ہے۔
راجستھان اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر ٹکا رام جلی نے الزام لگایا کہ جونپوریا نے ایک بے بس مسلم خاتون سے اس کا کمبل واپس لے کر امتیازی سلوک کیا، جو تشویشناک ہے۔
دوسری جانب، جونپوریا نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ تقریب ذاتی حیثیت میں منعقد کر رہے تھے اور اس میں کوئی حکومتی فنڈ شامل نہیں تھا، اور اُن کے بقول یہ ان کا انتخاب ہے کہ وہ کس کو سامان دیں۔ وہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے سوالات کا سیدھا جواب دیتے نہیں دکھائی دئیے۔

یہ بھی پڑھئے: تجارتی معاہدہ پر کانگریس نے پھر تنقید کی

اس واقعے کے بعد سے سیاسی مباحثہ اور عوامی بحث جاری ہے، جس میں بہت سے حلقوں نے کہا ہے کہ دینی، سماجی یا کسی بھی طرح کے امتیاز پر مبنی سلوک عوامی نمائندوں کے لیے قابلِ مذمت ہے اور اس سے سماجی ہم آہنگی اور آئینی مساوات کے اصولوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔اب تک بی جے پی کی جانب سے کوئی سرکاری وضاحت یا تردید جاری نہیں ہوئی اور نہ ہی حکام نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی وجہ سے سیاسی حلقوں اور تجزیہ کاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیق کی جائے تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK