Updated: August 31, 2026, 8:02 PM IST
| Mumbai
سنی دیول، شبانہ اعظمی اور پریتی زنٹا کی فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کی کمزور باکس آفس کارکردگی پر بالی ووڈ میں بحث جاری ہے۔ فلم کی اداکارہ شبانہ اعظمی نے حال ہی میں کہا تھا کہ شاید ناظرین سنی دیول کو ایک مسلم کردار میں قبول نہیں کر سکے، تاہم فلم کے ہدایت کار راج کمار سنتوشی نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔
فلم بٹوارہ۔ تصویر:آئی این این
سنی دیول، شبانہ اعظمی اور پریتی زنٹا کی فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کی کمزور باکس آفس کارکردگی پر بالی ووڈ میں بحث جاری ہے۔ فلم کی اداکارہ شبانہ اعظمی نے حال ہی میں کہا تھا کہ شاید ناظرین سنی دیول کو ایک مسلم کردار میں قبول نہیں کر سکے، تاہم فلم کے ہدایت کار راج کمار سنتوشی نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔
راج کمار سنتوشی نے شبانہ اعظمی کی دلیل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ سنی دیول کے مسلم کردار کی وجہ سے فلم ناکام ہوئی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امیتابھ بچن نے ۱۹۸۳ء کی فلم’’قلی‘‘ میں مسلم ہیرو کا کردار ادا کیا تھا اور منموہن دیسائی کی کئی فلموں میں مسلم ہیرو دکھائے گئے تھے۔ سنتوشی نے سوال اٹھایا کہ کیا اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ناظرین دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیرو کو قبول ہی نہیں کرسکتے؟ سنتوشی کے مطابق، فلم کو صرف کردار کے مذہبی پس منظر کی بنیاد پر نہیں پرکھنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ فلمساز کیا کہنا چاہتا ہے اور کہانی کا مقصد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بننے کے قریب
اس سے قبل شبانہ اعظمی نے فلم کی ناکامی پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں بہت سے لوگوں نے بتایا کہ انہیں فلم پسند آئی اور اس کا پیغام بھی اچھا لگا، اس کے باوجود ناظرین بڑی تعداد میں سنیما گھروں تک نہیں پہنچے۔شبانہ نے خاص طور پر سنی دیول کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ شاید ان کے لیے سنی دیول کو مسلم کردار میں قبول کرنا مشکل رہا کیونکہ سنی کی ایکشن ہیرو اور حب الوطنی سے جڑی ہوئی اسکرین امیج بہت مضبوط ہے۔ انہوں نے امیتابھ بچن کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’قُلی‘‘ سمیت کئی فلموں میں امیتابھ نے مسلم کردار ادا کیے اور ناظرین نے انہیں قبول کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:سابق ہندوستانی تیز گیند باز جواگل سری ناتھ نے بنگلورو میٹرو میں سفر کیا
’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ میں سنی دیول نے سکندر مرزا کا کردار ادا کیا ہے، جو تقسیمِ ہند کے بعد ایک ایسے گھر میں آتا ہے جو اسے الاٹ کیا جاتا ہے۔ اس گھر میں شبانہ اعظمی کا کردار مائی رہ رہی ہوتی ہیں۔ فلم تقسیمِ ہند کے پس منظر میں انسانیت، مذہبی شناخت اور ہندو مسلم تعلقات جیسے حساس موضوعات کو پیش کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سنتوشی نے شبانہ کی مخصوص دلیل کو مسترد کرنے کے باوجود یہ تسلیم کیا کہ معاشرہ پہلے کے مقابلے میں کم برداشت اور کم جامع ہوگیا ہے۔ اپنی۲۰۰۱ء کی فلم ’’لجّا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاید آج کے ماحول میں اس فلم کے رامائن پر مبنی کچھ مناظر کو اسی طرح پیش کرنا مشکل ہو۔
سنتوشی نے کہا کہ فلم دیکھتے وقت لوگوں کو فلمساز کی نیت اور مصنف کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے اپنے مذہبی عقیدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہندو ہیں، مندر جاتے ہیں اور ان کے بیٹے کا نام رام ہے، لیکن وہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کے مطابق مختلف مذاہب کی تعلیمات میں بنیادی طور پر برابری اور شمولیت کا پیغام موجود ہے۔