Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان: مسجد اقصیٰ مسلسل ۱۱؍ ویں دن بند، اعتکاف پر پابندی تشویش کا باعث

Updated: March 11, 2026, 7:18 PM IST | Jerusalem

اسرائیلی قابض افواج نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور سیکوریٹی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے مسجدِ اقصیٰ کو مسلسل گیارہویں دن بھی بند رکھا اور نمازیوں کو اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ رمضان کے آخری عشرے میں اس مقدس مقام کی بندش کو فلسطینی حکام اور مقامی ادارے ایک خطرناک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

Al-Aqsa Mosque. Photo: X
مسجد اقصیٰ۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی قابض افواج نے مسلسل گیارہویں روز بھی مسجدِ اقصیٰ کو بند رکھا اور نمازیوں کو نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا۔ حکام نے اس اقدام کو ایران کے ساتھ جاری جنگ اور سیکوریٹی خدشات سے جوڑا ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش کو ایک غیر معمولی اور خطرناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ۱۹۶۷ء میں مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مسجد کے اندر تراویح اور اعتکاف دونوں کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کا واحد فاتح روس:ای یو

یروشلم کی گورنریٹ نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے حوالے سے انتہا پسند گروہوں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں اور بیانات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں گورنریٹ نے کہا کہ مسجد کے خلاف بڑھتی ہوئی اشتعال انگیز بیان بازی زیادہ تر ان گروہوں کی جانب سے سامنے آ رہی ہے جو نام نہاد ’’ٹیمپل ماؤنٹ‘‘ تحریک سے وابستہ ہیں۔ ان گروہوں کی سرگرمیاں اس وقت بڑھ رہی ہیں جب مسجد اور اس کے اطراف میں سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ گورنریٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے اس بندش کو محض عارضی حفاظتی اقدام قرار دینا درست نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات ایک وسیع تر سیاسی اور نظریاتی منصوبے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جس کا مقصد الحرم الشریف کی مذہبی، تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ نام نہاد ’’ٹیمپل انسٹی ٹیوٹ‘‘ جو مسجد اقصیٰ کے مقام پر مندر کی تعمیر کے نظریے سے وابستہ انتہا پسند تنظیموں کا مرکزی ادارہ سمجھا جاتا ہے، اس نے حالیہ دنوں میں مسجد کی مسلسل بندش کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبے کے لیے ان گروہوں نے یہ دلیل دی ہے کہ علاقے میں بم شیلٹرز کی کمی کے باعث مسجد کو بند رکھنا ضروری ہے۔ تاہم فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دلیل دراصل سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ یروشلم کی گورنریٹ کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بندش ان انتہا پسند تنظیموں کے لیے ایک اسٹریٹجک فائدہ بن سکتی ہے کیونکہ اس سے مسجد کے انتظام اور رسائی کو تبدیل کرنے کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی قانون ساز اینڈی اوگلز کے مسلم مخالف بیان پر سیاسی ہلچل، چو طرفہ مذمت

گورنریٹ کے مطابق موجودہ پالیسی مسجد کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پابندیاں جنگ کے خاتمے تک برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔ اس صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگر بندش جاری رہی تو رمضان کے آخری دس دنوں اور عید الفطر کے دوران بھی مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت سے روکا جا سکتا ہے، جو کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے گہری تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK