Inquilab Logo Happiest Places to Work

خصوصی اجلاس کے وقت اور انعقاد کے طریقہ کار پر اپوزیشن کی تنقید

Updated: April 15, 2026, 9:32 AM IST | Agency | New Delhi

کانگریس نے کہا کہ خصوصی اجلاس۱۶؍ اپریل سے شروع ہونے والا ہے، جبکہ اس وقت تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں انتخابی مہم عروج پر ہوگی، ٹی ایم سی نے بھی برہمی ظاہر کی۔

Congress Chief Mallikarjun Kharge Has Also Raised His Voice Against The Centre`s Proposed Amendment Bill.Photo:INN
مرکز کے مجوزہ ترمیمی بل کیخلاف کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے نے بھی آواز بلند کی ہے۔تصویر:آئی این این
ایک جانب مرکز کی حکمراں جماعت  ’ناری شکتی‘ بل کے حوالے سے جہاں تشہیری مہم میں مصروف ہے، وہیں  اپوزیشن جماعتیں خصوصی اجلاس کے وقت اور اس کے انعقاد کے طریقہ کار پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مناسب مشاورت یا شفافیت کے بغیر کام کر کے جمہوری اصولوں کو پامال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اجلاس ۱۶؍ اپریل سے شروع ہونے والا ہے، جبکہ اُس وقت تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں انتخابی مہم اپنے عروج پر ہوگی۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ وقت حکومت کے ارادوں اور ترجیحات پر سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے انتخابات کے اختتام کے بعد کل جماعتی اجلاس بلانے کا اپوزیشن کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ تاخیر کا دورانیہ صرف دو ہفتے کے قریب ہوتا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی بھی اس پر سوال اٹھا چکے ہیں۔
جے رام رمیش نے مزید الزام لگایا کہ اراکین پارلیمان کو بحث کیلئے مقررہ مجوزہ آئینی ترامیم کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے اسے جمہوریت کا ’مکمل مذاق‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’آج صبح تک مودی حکومت نے اراکین پارلیمان کے ساتھ وہ آئینی ترمیمی بل کا مسودہ شیئر نہیں کیا ہے جس پر انہیں بحث اور ووٹنگ کرنی ہے۔‘‘ وزیر اعظم مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے حکومت پر’بلڈوزر ذہنیت‘ کے ساتھ کام کرنے کا الزام لگایا اور اشارہ دیا کہ حکومت بغیر کسی بحث یا اتفاقِ رائے کے اہم قانون سازی کے فیصلوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اسی طرح ترنمول کانگریس نے بھی حکومت کے اس قدم پر سازش کے شبہ کااظہار کیا ہے۔ 
 
 
 
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے اراکین پارلیمان کو آئینی ترمیمی بل کا مسودہ منگل کو شام میں پیش کیا گیا ہے جبکہ جمعرات کو اس بل پر بحث ہونی ہے۔ کانگریس ، ٹی ایم سی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مسودہ کی کاپی ملنے اور اس پر بحث ہونے کے وقفے کو ناکافی قرار دیا۔   اپوزیشن جماعتیں ایجنڈے پر مزید وضاحت اور مشاورت کیلئے وقت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اہم اقدامات کیلئے تمام جماعتوں کے درمیان وسیع تر بحث اور اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔مرکز نے یہ خصوصی اجلاس کئی ریاستوں میں جاری سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی مہم کے دوران بلایا ہے، جس میں توقع ہے کہ آئینی ترامیم سمیت اہم قانون سازی کی تجاویز پیش کی جائیں گی۔
 
 
 
ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیریک او برائن نے بھی مرکز پر الزام لگایا کہ وہ آئندہ خصوصی اجلاس سے قبل پارلیمانی روایات کو پامال کر رہا ہے کیونکہ اراکین پارلیمان کو بل کی تفصیلات کو سمجھنے کیلئے مناسب موقع نہیں فراہم کیا گیا ہے۔او برائن نے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر اور امیت پارلیمنٹ کا مذاق اڑانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور وہ بھی کس طرح!‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آج۱۴؍ اپریل ہے۔ اجلاس میں محض۴۸؍ گھنٹے باقی ہیں لیکن اراکین پارلیمان میں سے کسی نے مجوزہ آئینی ترمیم کی کاپی تک نہیں دیکھی۔ آمریت ایسی ہی ہوتی ہے۔‘‘ خیال رہے کہ اوبرائن کی جانب سے یہ پوسٹ اُس وقت کی گئی تھی ، جب تک حکومت کی جانب سے اراکین پارلیمان کو بل کا مسودہ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ اسی وجہ اپوزیشن نے حکومت کی نیت پرشک و شبہ کااظہار کیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK