Inquilab Logo Happiest Places to Work

منشیات فروشوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ضرورت

Updated: April 15, 2026, 9:38 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

منشیات فروشوں کی غنڈہ گردی ،نسلِ نو کے تحفظ نیز معروف عالم دین اوران صاحبزادگان پرحملے کے خلاف اسلام جمخانہ میں خصوصی اجلاس،جمعہ کے روز دھرنا اور وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے کی تجویز ۔

A Scene From An Important Meeting Held At Islam Gymkhana.Photo:INN
اسلام جمخانہ میں منعقدہ اہم اجلاس کا ایک منظر۔تصویر:آئی این این
منشیات کے بڑھتے کاروبار، منشیات فروشوں کی غنڈہ گردی، نشہ کی لعنت سے نئی نسل کو بچانے ، معروف عالم دین مولاناسید خالد اشرف اور ان کے صاحبزادگان پر حملے کے خلاف اسلام جمخانہ میں منگل کو مغرب کی نماز کے بعد خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس  میںبڑی تعداد میںذمہ دار اشخاص نے شرکت کی اور سخت برہمی کا اظہار کیا ۔
کس نے کیا کہا ؟
مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نےبرہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ’’ فوری طورپر وزیراعلیٰ سے ملاقات کی جائے گی اوران سے کہا جائے گا کہ اس پرسخت ایکشن لیاجائے، اس طرح تو پورا شہر برباد ہورہا ہے اورڈرگس مافیاؤں نے شہر کویرغمال بنالیا ہے۔ ‘‘ معین میاں نے یہ بھی کہا کہ ’’ چنا اورکُرمُرے کی طرح گلی محلے میںنشہ آور اشیاء فروخت کی جارہی ہیں،اس لئے حکومت فوراً توجہ دے۔‘‘  سینئرقانون داں ایڈوکیٹ رضوان مرچنٹ نے کہاکہ ’’ کوشش کی جائے گی کہ اس معاملے میں سخت قانونی کارروائی ممکن ہوسکے ۔‘‘ 
سابق رکن اسمبلی ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے کہا کہ’’ جنہوں نے یہ گھٹیا حرکت کی ہے کہ ان کے خلاف انتہائی سخت ایکشن لیا جائے تاکہ شہر میں پھر کوئی اس طرح کی مذموم حرکت کے تعلق سے سوچ بھی نہ سکے ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’اس سے زیادہ شرم کی بات اورکیا ہوسکتی ہے کہ معروف عالم دین اورامام پرحملہ کیا گیا اور حملہ کرنے والے اپنی ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘ 
کانگریس کے لیڈر نظام الدین راعین نے کہا کہ ’’ڈرگس مافیاؤں کے اس حملے کے بعد سے شدید بے چینی پائی جارہی ہے ۔جمعہ تک ہم انتظار کریں گے کہ پولیس کی جانب سے کس قدر سخت کارروائی کی جاتی ہے؟ پھربڑے پیمانے پر احتجاج کیاجائے گا ۔‘‘ 
 
 
مبین قریشی نے کہاکہ ’’اہلیان مدنپورہ کی جانب سے نشہ کے خلاف مشترکہ مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے والدین کوباخبر رہنے اورعلماء وائمہ سے جمعہ کے خطاب میںاس پر روشنی ڈالنے کی اپیل کی ۔‘‘اقبال میمن آفیسر نے کہا کہ ’’ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے ، اس میں پوری میمن برادری ساتھ ہےجہاں بھی احتجاج ہوگا ہم سب حاضر رہیں گے۔‘‘عامر ادریسی نے کہا کہ ’’جمعہ کے روز اس اہم مسئلے کو عوامی سطح پر اٹھایا جائے اور مسلم اراکین اسمبلی ایوان میںآواز بلند کریں ۔‘‘ 
 
 
قوم آخر کہاں جارہی ہے؟
مولانا سید خالد اشرف نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئےکہاکہ ’’ مجھ پراور میرے بیٹوں پرحملہ ہوا، مغلظات بکی گئیں، یقیناًیہ تشویش کا باعث ہے مگر اس سے زیادہ افسوسناک یہ ہےکہ قوم کہاں جارہی ہے اور نوبت یہاںتک آگئی ۔ پوری ملت کو اس تعلق سے فکرمندی کے ساتھ اس کاتدارک کرنا ہوگا ورنہ ایسا نقصان ہوگا کہ شاید اس کااندازہ بھی نہ لگایا جاسکے۔‘‘  انہوں نے اس تعلق سے عوام سے اپیل کی کہ’’ وہ ذاتی طور پر کچھ نہ کریں ،جوکچھ بھی کیا جائے گا وہ قانون کےدائرے میںہوگا ۔‘‘ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK