جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس اور فورس کے ذریعے زیادتیوں، لاٹھی چارج اورآنسو گیس کے گولے داغے جانے کے بے شمار ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں۔اب ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف)نے خودمظاہرین پر مظالم کا اعتراف کیا ہے۔
جنتر منتر پر احتجاج کےد وران آر اے ایف کے اہلکار- تصویر:آئی این این
جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس اور فورس کے ذریعے زیادتیوں، لاٹھی چارج اورآنسو گیس کے گولے داغے جانے کے بے شمار ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں۔اب ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف)نے خودمظاہرین پر مظالم کا اعتراف کیا ہے۔آر اے ایف کو پتہ چلا ہے کہ اس کے اہلکاروں نے۲۰؍ جولائی کو جنتر منتر پر احتجاج کے دوران ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔ریپڈ ایکشن فورس کے سینئر افسران کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا پر دیکھے گئے کچھ اقدامات اہلکاروں کے پیشہ ورانہ طرز عمل کے خلاف تھے۔ذرائع کے مطابق ۲۲؍ جولائی کو انسپکٹر جنرل سیما دھونڈیا کی صدارت میں ہونے والی فورس کی میٹنگ کے دوران ان معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ میٹنگ سی جے پی کے احتجاج کے دوران آر اے ایف کی تعیناتی کے سلسلے میںبلائی گئی تھی۔۲۰؍ جولائی کو جنتر منتر کی کارروائی پر جائزہ میٹنگ کے دوران، انسپکٹر جنرل سیما دھونڈیا نے دوہرایا کہ حساس پولیسنگ ریپڈ ایکشن فورس کی کراؤڈ کنٹرول پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے تمام یونٹس کو ہدایت دی کہ وہ مستقبل کے آپریشنز میں اس اصول پر سختی سے عمل کریں۔
ویڈیو کی تحقیقات سے کیا انکشاف ہوا؟
میٹنگ کی کارروائی کے مطابق، ہیڈ کوارٹر نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیوز کی چھان بین کی جس میںسریع الحرکت فورس کے اہلکاروں کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا جب کہ لوگ پہلے ہی احتجاج سے منتشر ہو چکے تھے۔ویڈیوز میں کچھ اہلکاروں کو جان بوجھ کر لوگوں کو زمین پر دھکیلتے اور پولیس کی رکاوٹوں کے باہر کھڑے لوگوں کو مارتے ہوئے دیکھا گیا۔
فورس کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے
انسپکٹر جنرل نے کہا کہ ایسا سلوک آر اے ایف کے قائم کردہ کلچر، آپریشنل طریقوں اور عوامی شبیہ کے خلاف ہے۔ اسے کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔آر اے ایف کے آپریشنل طریقوں کا اعادہ کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل نے ہدایت دی کہ طاقت کا استعمال صرف ضرورت کے وقت اور غیر جانبدارانہ، انصاف پسند، روک ٹوک اور حساس انداز میں کیا جانا چاہئے۔