Updated: June 08, 2026, 9:51 PM IST
| New York
۲؍ اگست ۲۰۲۷ء کو ایک غیر معمولی فلکیاتی منظر دنیا کے کروڑوں افراد کو اپنی جانب متوجہ کرے گا، جب ۲۱؍ ویں صدی کا سب سے طویل مکمل سورج گہن قابلِ رسائی زمینی علاقوں سے دیکھا جا سکے گا۔ اس دوران چاند تقریباً ۶؍ منٹ ۲۳؍ سیکنڈ تک سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا، جس سے دن کے وقت رات جیسا منظر پیدا ہو گا۔
فلکیات کے شوقین افراد اور سائنسدانوں کے لیے ۲؍ اگست ۲۰۲۷ء ایک یادگار دن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس روز ۲۱؍ ویں صدی کا سب سے طویل مکمل سورج گہن قابلِ رسائی زمینی علاقوں سے دیکھا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس نادر فلکیاتی واقعے کے دوران چاند تقریباً ۶؍ منٹ ۲۳؍ سیکنڈ تک سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا، جس کے نتیجے میں دن کی روشنی عارضی طور پر رات کے اندھیرے میں تبدیل ہو جائے گی۔ یہ مکمل سورج گہن بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے شروع ہوگا اور بعد ازاں جنوبی یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف حصوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھے گا۔ مکمل گہن کا مشاہدہ اسپین، مراکش، الجیریا، تیونس، لیبیا، مصر، سوڈان، سعودی عربیہ، یمن اور صومالیہ کے بعض علاقوں سے کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹ کو یورپی پریس پرائز ۲۰۲۶ء تفویض
ماہرین فلکیات کے مطابق اس سورج گہن کا غیر معمولی دورانیہ زمین، چاند اور سورج کی ایک خاص اور نایاب سیدھ کا نتیجہ ہے۔ سورج گہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے اور اپنا سایہ زمین پر ڈالتا ہے، لیکن مکمل گہن کی مدت ان تینوں اجرامِ فلکی کی باہمی پوزیشن کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔ سائنسی حسابات کے مطابق ۲۰۲۷ء کے سورج گہن کے وقت چاند زمین کے نسبتاً قریب ہوگا، جس کی وجہ سے وہ آسمان میں معمول سے بڑا دکھائی دے گا۔ دوسری جانب زمین اپنے مدار کے اس مقام کے قریب ہوگی جسے ’’ایفیلیئن‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں زمین سورج سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں سورج معمول سے کچھ چھوٹا نظر آتا ہے، جس کے باعث چاند اسے زیادہ دیر تک مکمل طور پر ڈھانپنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی فلکیاتی موافقت انتہائی کم دیکھنے میں آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ چھ منٹ سے زائد دورانیے والے مکمل سورج گہن صدیوں میں چند ہی مرتبہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس گہن کے دوران آسمان اچانک تاریک ہو جائے گا اور دن کی روشنی مختصر وقت کے لیے شام جیسی کیفیت اختیار کر لے گی۔ درجہ حرارت میں معمولی کمی محسوس کی جا سکتی ہے جبکہ بعض روشن سیارے اور ستارے بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔ خصوصی طور پر لکسر اور مصر کے نیو ویلی گورنریٹ کے بعض علاقوں کو اس تاریخی منظر کے لیے بہترین مقامات قرار دیا جا رہا ہے۔ فلکیاتی حسابات کے مطابق مکمل گہن کا سب سے طویل دورانیہ مصر کے اوپر ریکارڈ ہونے کی توقع ہے، جہاں تقریباً ۶؍ منٹ ۲۳؍ سیکنڈ تک مکمل تاریکی چھائی رہ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلپائن: ۸ء۷؍شدت کا زلزلہ، کئی ممالک میں سونامی وارننگ، انخلاء کے احکامات
ماہرین کے مطابق مکمل سورج گہن کے دوران سورج کی بیرونی فضا، جسے ’’کورونا‘‘ کہا جاتا ہے، ننگی آنکھ سے دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ناظرین ’’بیلیز بیڈز‘‘ اور ’’ڈائمنڈ رنگ ایفیکٹ‘‘ جیسے نادر فلکیاتی مظاہر بھی دیکھ سکیں گے، جو مکمل گہن سے قبل اور بعد میں سورج کی روشنی کے چاند کی سطح پر موجود وادیوں سے گزرنے کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ مکمل گہن کے مختصر دورانیے کے علاوہ سورج کو براہِ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ مشاہدے کے لیے تصدیق شدہ سورج گہن کے خصوصی چشمے استعمال کیے جائیں۔ تخمینوں کے مطابق افریقہ، یورپ اور مغربی ایشیا میں چار ارب سے زائد افراد کم از کم جزوی سورج گہن کا مشاہدہ کر سکیں گے، جس سے یہ ۲۱؍ ویں صدی کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے فلکیاتی واقعات میں شامل ہو جائے گا۔