Updated: July 16, 2026, 10:08 PM IST
| Mumbai
ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے ایپوتھیکون فارماسیوٹیکلزپرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (ایف ای ایم اے) (FEMA) کی خلاف ورزی کے معاملے میں کمپاؤنڈنگ آرڈر جاری کیا ہے۔ اس کے تحت کمپنی نے ایک مشت ۵۴ء۴۰؍ لاکھ روپے ادا کیے، جس کے بعد اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانچ بند کر دی گئی۔
آر بی آئی آفس: تصویر:آئی این این
ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے ایپوتھیکون فارماسیوٹیکلزپرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (ایف ای ایم اے) (FEMA) کی خلاف ورزی کے معاملے میں کمپاؤنڈنگ آرڈر جاری کیا ہے۔ اس کے تحت کمپنی نے ایک مشت ۵۴ء۴۰؍ لاکھ روپے ادا کیے، جس کے بعد اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانچ بند کر دی گئی۔ ای ڈی نے جمعرات کو جاری اپنے بیان میں یہ معلومات دی۔
یہ بھی پڑھئے:سلمان خان نے سب سے پہلے سمجھ لی تھی سوناکشی اور ظہیر کی لو اسٹوری
ای ڈی کے مطابق آر بی آئی نے فیما کی دفعہ ۱۵؍ کے تحت یہ کمپاؤنڈنگ آرڈر، ای ڈی کی جانب سے جاری کردہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) ملنے کے بعد جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ قابلِ اعتماد معلومات ملنے کے بعد ای ڈی نے اس معاملے کی جانچ شروع کی تھی، جس میں معلوم ہوا کہ کمپنی نے تقریباً ۹۱ء۹؍ کروڑ روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہونے کے بعد فارم اے آر ایف جمع کروانے میں تاخیر کی۔ اس کے علاوہ تقریباً ۹۷ء۲۹؍کروڑ روپے سے متعلق ایف سی جی پی آر فارم داخل کرنے میں بھی تاخیر کی گئی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کمپنی نے فیما قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ موصول ہونے سے پہلے ہی۴۸ء۱۸؍ لاکھ روپے مالیت کے شیئرز جاری کر دیے تھے۔ اسی طرح تقریباً ۲۵ء۲؍ کروڑ روپے مالیت کے شیئرز غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہونے کے ۱۸۰؍دن سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد جاری کیے گئے، جو قواعد کے خلاف تھا۔ مزید یہ کہ کمپنی نے تین معاملات میں حکومتِ ہند کی پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر ہی شیئرز الاٹ کیے، جسے بھی فیما کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
ای ڈی کی جانچ کے دوران کمپنی نے فیما کی دفعہ۱۵؍ کے تحت ان خلاف ورزیوں کی کمپاؤنڈنگ کے لیے آر بی آئی سے رجوع کیا۔ آر بی آئی کی درخواست پر ای ڈی نے قانون کی روح کے مطابق کمپاؤنڈنگ کے لیے این او سی جاری کر دی، جس کے بعد آر بی آئی نے ۶؍جولائی ۲۰۲۶ء کے کمپاؤنڈنگ آرڈر کے ذریعے تمام خلاف ورزیوں کا تصفیہ کر دیا۔
ای ڈی نے واضح کیا کہ اس کی پالیسی کے مطابق اگر کوئی خلاف ورزی کمپاؤنڈنگ کے لیے اہل ہو، تمام مقررہ شرائط پوری کرتی ہو اور اس کے خلاف کوئی زیرِ التوا جانچ یا قانونی رکاوٹ موجود نہ ہو، تو محکمہ این او سی جاری کرتا ہے۔ اس کا مقصد رضاکارانہ تعمیل کو فروغ دینا، غیر ضروری قانونی مقدمات میں کمی لانا اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فیما بنیادی طور پر ایک سول قانون ہے، جس کی دفعہ ۱۵؍ کے تحت دفعہ۱۳؍ میں قابلِ سزا خلاف ورزیوں کی کمپاؤنڈنگ کی جا سکتی ہے تاکہ رضاکارانہ تعمیل کو فروغ ملے، مقدمات کی تعداد کم ہو اور معاملات جلد نمٹائے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھئے:سندھو نے ہان یو کو شکست دے کر جاپان اوپن کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی
فیما کے تحت کمپاؤنڈنگ کا طریقۂ کار فارن ایکسچینج (کمپاؤنڈنگ پروسیڈنگز) رولز، ۲۰۲۴ء میں طے کیا گیا ہے، جن میں درخواست جمع کروانے، معاملات کی جانچ اور کمپاؤنڈنگ آرڈر جاری کرنے کا مکمل طریقہ کار درج ہے۔البتہ قواعد کے مطابق بعض سنگین خلاف ورزیوں کی کمپاؤنڈنگ نہیں کی جا سکتی، جن میں منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت یا ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو متاثر کرنے والے معاملات سے متعلق فیما خلاف ورزیاں شامل ہیں۔