بلومبرگ نیوز کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے گزشتہ جمعہ کو روپے کو سہارا دینےکیلئےتقریباً۷؍ ارب امریکی ڈالر فروخت کئے جو گزشتہ کئی ماہ کے دوران اس کی سب سے بڑی براہِ راست مداخلتوں میں سے ایک تھی۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 11:20 AM IST | Mumbai
بلومبرگ نیوز کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے گزشتہ جمعہ کو روپے کو سہارا دینےکیلئےتقریباً۷؍ ارب امریکی ڈالر فروخت کئے جو گزشتہ کئی ماہ کے دوران اس کی سب سے بڑی براہِ راست مداخلتوں میں سے ایک تھی۔
بلومبرگ نیوز کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے گزشتہ جمعہ کو روپے کو سہارا دینےکیلئےتقریباً۷؍ ارب امریکی ڈالر فروخت کئے جو گزشتہ کئی ماہ کے دوران اس کی سب سے بڑی براہِ راست مداخلتوں میں سے ایک تھی۔
ذرائع کے مطابق آر بی آئی نے اس وقت مقامی (آن شور) اور بیرون ملک (آف شور) دونوں کرنسی مارکیٹوں میں مداخلت کی، جب روپیہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس ماہ کے آغاز میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایشیا کے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھا دیا تھا، جس کے بعد فلپائن کے حکام نے بھی اپنی کرنسی کو سہارا دینے کیلئے مارکیٹ میں مداخلت کی۔ ہندوستان میں آر بی آئی نے جمعہ کی کارروائی کے بعد اگلے دو تجارتی سیشنز میں بھی ڈالر فروخت کئے، جس سے روپیہ اپنی ریکارڈ کم ترین سطح سے کچھ سنبھل گیا۔ڈالر کی اتنی بڑی فروخت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آر بی آئی روپے کو مستحکم رکھنے کیلئے فکر مندہے۔ جمعرات کو روپیہ۹۵ء۵۰؍ روپے فی ڈالر کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔آر بی آئی کی جانب سے ڈالر فروخت میں اضافہ ایسے وقت ہوا ہے جب حالیہ مہینوں میں سرمایہ کے بہاؤ کو فروغ دینے کیلئے کئے گئے اقدامات سے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے ہیں، جس سے اسے روپے کے دفاع کے لیے زیادہ گنجائش حاصل ہوئی ہے۔ریزرو بینک کے گورنر سنجے ملہوترا نے اس ہفتے کے آغاز میں دی ہندو بزنس لائن کو بتایا تھا کہ بینک اب تک ان اقدامات کے تحت تقریباً۳۲؍ ارب امریکی ڈالر کا سرمایہ جمع کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، جس سے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر مزید مضبوط ہوئے ہیں۔