یہ ڈرائیونگ کےدوران غنودگی اور تھکاوٹ محسوس ہونےپر ڈرائیور کو الرٹ کرتا ہے۔ ’یونیسکو کلبز ورلڈ وائڈ یوتھ ملٹی میڈیا‘ مقا بلےمیںانجمن اسلام بیگم شریفہ کالسیکر گرلز ہائی اسکول کی اس طالبہ کو سوم انعام سے نوازا گیا۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 11:38 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
یہ ڈرائیونگ کےدوران غنودگی اور تھکاوٹ محسوس ہونےپر ڈرائیور کو الرٹ کرتا ہے۔ ’یونیسکو کلبز ورلڈ وائڈ یوتھ ملٹی میڈیا‘ مقا بلےمیںانجمن اسلام بیگم شریفہ کالسیکر گرلز ہائی اسکول کی اس طالبہ کو سوم انعام سے نوازا گیا۔
’یونیسکو کلبز ورلڈ وائڈ یوتھ ملٹی میڈیا‘ مقابلےمیں انجمن اسلام بیگم شریفہ کالسیکر گرلز ہائی اسکول کی طالبہ میسرہ بخاری نے روبوٹکس اینڈ آرٹیفیشل انٹلی جنس کے زمرے میں اپنا ’اسمارٹ الرٹ گلاسس ‘ پروجیکٹ پیش کیاجسے سوم انعام سے نوازا گیا ۔ میسرہ نے اے آئی کی مدد سے ایک ایسا چشمہ بنایا ہے جو’ نارکو لیپسی‘ نامی بیماری کے شکار افراد کو کہیں بھی اور کسی بھی وقت نیند آنےپر الرٹ کرتا ہے ۔یونیسکوکے اس عالمی مقابلے میں ۷۰؍ممالک کے ۵؍ہزار طلبہ نے اپنے پروجیکٹ پیش کئے جن میں سے انجمن اسلام اسکول کو تیسرا انعام ملا ہے۔
جنوبی ممبئی کے عبدالرحمٰن اسٹریٹ کی رہنے والی ۹؍ویں جماعت کی طالبہ میسرہ نے اسمارٹ الرٹ گلاسس مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے بنایا ہے جس سے غنودگی کی علامت کا پتہ لگانے کے ساتھ تھکاوٹ کا بھی انداز ہ کیا جاسکتا ہے۔یہ چشمہ خاص طور پر ان لوگوں کیلئے بہت اہم ہے جو سڑکوں پر گاڑیاں چلاتے ہیں۔ گاڑی چلانے کے دوران غنودگی یاتھکاوٹ آنے پر یہ چشمہ انہیں الرٹ کرنے کا کام انجام دے گا جس سے سڑک حادثات پرقابو پانےمیں مدد ملے گی۔اس کے ذریعے روڈ سیفٹی سے متعلق مسائل پر قابو پایا جاسکتاہے ۔اس اختراع کا مقصد سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنےو الوں کو الرٹ رکھنا ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: متواتر بارش کے سبب ممبئی میں ڈینگواور ملیریا کا زور
میسرہ کی کامیابی کو یو ایس فیڈریشن آف یونیسکو کلبز نے بھی تسلیم کیا ہے اور اسے سرٹیفکیٹ سے نوازکر ۲۰۲۶ء کے مقابلے کے باضابطہ عالمی فاتحین میں شامل کیا ہے ۔میسرہ بخاری کی اس کامیابی سے ممبئی ،مہاراشٹر اور ہندوستان کا نام دنیا میں روشن ہوا ہے ۔
انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے میسرہ بخاری کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پوری قوم کیلئے یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے۔ میسرہ نے اپنی انتھک محنت اور لگن سے ہندوستانی طلبہ کی بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو اُجاگر کیا ہے۔کسی عالمی مقابلہ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنا ایک غیر معمولی کامیابی ہے جو ہندوستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں، عزم اور اختراعی جذبے کی عکاسی کرتی ہے ۔‘‘ا نہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ ہماری ایک طالبہ نے ایسا اختراع کیاہے جس سے بے شمار جانیں محفو ظ رہیں گی جو قوم وملک کیلئے بڑی خدمت ہے ۔‘‘