Updated: July 10, 2026, 7:05 PM IST
| Mumbai
اکشے کمار، پریش راول، سنیل شیٹی، روینہ ٹنڈن، شریس تلپڑے اور دیگر ۳۴؍ فنکاروں پر مشتمل فلم ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ کی غیرمعمولی اسٹار کاسٹ کافی عرصے سے موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اب فلم کے مصنف اور ہدایت کار فرہاد سامجی نے انکشاف کیا ہے کہ اتنی بڑی کاسٹ محض تشہیر کے لیے نہیں بلکہ اسکرپٹ کی بنیادی ضرورت تھی۔
فرہاد سامجی۔تصویر: آئی این این
فلم ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ اپنی ریلیز کے بعد جہاں شائقین کی توجہ حاصل کر رہی ہے، وہیں اس کی ۳۴؍ فنکاروں پر مشتمل غیرمعمولی اسٹار کاسٹ بھی مسلسل موضوعِ گفتگو بنی ہوئی ہے۔ اب فلم کے مصنف اور ہدایت کار فرہاد سامجی نے پہلی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ فلم میں اتنے زیادہ اداکار کیوں شامل کیے گئے اور اس فیصلے کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی۔ سدھارتھ کنن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فرہاد سامجی نے کہا کہ فلم کی کہانی ہی ایسی تھی جس میں بڑی تعداد میں کرداروں کی ضرورت تھی، اس لیے اسٹار کاسٹ کا حجم اسکرپٹ کے مطابق رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فلم ایک ایسے گروپ کے گرد گھومتی ہے جو ایک گاؤں پہنچتا ہے، جہاں متعدد کردار بیک وقت کہانی کا حصہ بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ویلکم ٹو دی جنگل ‘‘:کیا اکشے کمار کی فلم او ٹی ٹی پر کامیڈی کی تاریخ بدل دے گی
فرہاد سامجی کے مطابق، ’’یہ فلم اداکاروں کے ایک بڑے گروپ کی کہانی ہے جو ایک گاؤں پہنچتا ہے۔ آج بھی فیروز بھائی (پروڈیوسر فیروز ناڈیاڈوالا) صرف ۳۴؍ اداکاروں سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ مزید لوگوں کو شامل کرو، فلم کو اور بڑا بناؤ، کیونکہ اصل پیمانہ انہی چہروں سے آتا ہے جو ناظرین کو اسکرین پر نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ جتنے زیادہ بڑے فنکار ایک ساتھ ہوں گے، ناظرین اتنا ہی لطف اٹھائیں گے، اور بالکل ایسا ہی ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ فلم کے کئی مناظر ایسے ہیں جہاں ایک ہی فریم میں سات، آٹھ یا اس سے بھی زیادہ اداکار موجود ہوتے ہیں، جبکہ اسکرپٹ میں ہیرو اور ہیروئن کے علاوہ تقریباً ۲۰؍ سے ۲۵؍ اہم کرداروں کی ضرورت تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ’’اسکرپٹ ہی ایسی تھی جس میں اتنے کردار درکار تھے۔ اسی بنیاد پر ہم نے کاسٹنگ کی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’ستلج‘‘کی IMDb ریٹنگ اچانک غائب، تنازع مزید گہرا؛ سنجے گپتا نے سوال اٹھائے
فرہاد سامجی نے انکشاف کیا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران سب سے بڑی مشکل تمام اداکاروں کی مشترکہ تاریخیں حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فلم کا پہلا شیڈول تو آسانی سے مکمل ہوگیا کیونکہ تمام ۳۵؍ فنکاروں کی تاریخیں پہلے ہی طے کرلی گئی تھیں، لیکن بعد کے شیڈول میں حالات کافی پیچیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ابتدائی شیڈول کے لیے ہمارے پاس تمام فنکاروں کی تاریخیں موجود تھیں، اس لیے شوٹنگ آسانی سے مکمل ہوگئی۔ بعد میں جب اگلے شیڈول آئے تو مسئلہ پیدا ہوا کیونکہ سب کی مشترکہ تاریخیں ملنا تقریباً ناممکن تھا۔ پریش بھائی، راجپال یادو اور کئی دوسرے اداکار بیک وقت چار یا پانچ فلموں میں مصروف تھے، اس لیے سب کو ایک ساتھ اکٹھا کرنا بہت مشکل ہوگیا تھا۔‘‘
یہ بھی پرھئے: زہرہ سہگل نےہنستے کھیلتے ۷؍دہائیوں تک تفریح فراہم کی تھی
فرہاد سامجی نے فلم کی شوٹنگ میں تاخیر کو اداکاروں کے درمیان اختلافات یا انا کا مسئلہ قرار دینے والی خبروں کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی اداکار کے درمیان کسی تنازع یا اختلاف کا علم نہیں، اصل مسئلہ صرف سب کی دستیابی تھا۔ ان کے مطابق، ’’میں اداکاروں کے درمیان انا یا اختلافات کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ تاخیر کی اصل وجہ صرف یہ تھی کہ ہم سب کو ایک ساتھ شوٹ کرنا چاہتے تھے کیونکہ یہی فلم کی سب سے بڑی خصوصیت تھی۔ ہم انہیں الگ الگ شوٹ نہیں کرسکتے تھے۔ اصل جدوجہد صرف سب کی تاریخیں حاصل کرنا تھی۔‘‘ انہوں نے فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر انیکیت کی خصوصی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے فنکاروں کی تاریخیں ایک ساتھ منظم کرنا غیرمعمولی کام تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس کا تمام کریڈٹ انیکیت کو جاتا ہے۔ وہ واقعی ایک تمغے کے مستحق ہیں کیونکہ وہ مسلسل تمام اداکاروں کی تاریخیں ایک ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔‘‘
’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ کی سب سے بڑی خاصیت اس کی وسیع اسٹار کاسٹ رہی، جس میں اکشے کمار، پریش راول، روینہ ٹنڈن، سنیل شیٹی، شریس تلپڑے، ارشد وارثی، راجپال یادو سمیت بالی ووڈ کے متعدد معروف چہرے شامل ہیں۔ فلم کے اعلان کے بعد ہی اس کی کاسٹ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی تھی اور شائقین اس بات پر حیران تھے کہ اتنے بڑے فنکاروں کو ایک ہی فلم میں کیسے اکٹھا کیا گیا۔ فرہاد سامجی کے حالیہ انکشاف کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ یہ فیصلہ محض تشہیری حکمت عملی نہیں بلکہ فلم کی کہانی اور اسکرپٹ کا بنیادی تقاضا تھا۔