انفورسمنٹ ڈائریکیٹوریٹ نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مشتبہ ملزمین کی تقرری کے وقت ضروری تصدیق اور دستاویز کی جانچ نہیں کی۔
ہریانہ کی الفلاح یونیورسٹی کے صدر دروازے کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این
لال قلعہ بم دھماکہ کیس کے ۲؍ملزمین کے معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے الفلاح یونیورسٹی کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ای ڈی کا الزام ہے کہ ہریانہ میں قائم الفلاح یونیورسٹی نے نومبر۲۰۲۵ء میں لال قلعہ بم دھماکے کے مبینہ خودکش حملہ آور اور دو دیگر ڈاکٹروں کو پولیس تصدیق یا جانچ کے بغیر ملازمت پر رکھا تھا۔
لال قلعہ کے پاس ۱۰؍ نومبر۲۰۲۵ء کو ہونے والے دھماکے، جس میں۱۵؍ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، کے بعد یونیورسٹی سے وابستہ کم از کم ۳؍ ڈاکٹروں کو اس معاملے میں ملزم بنایا گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں نےاسے ’’وائٹ کالرٹیررازم‘‘ کا نام دیا ہے۔ ای ڈی کے ایک افسر کے مطابق، ’’تینوں ملزم ڈاکٹروں کو، دیگر طبی فیکلٹی کے ساتھ، کسی بھی قسم کی پولیس تصدیق یا جانچ کے بغیر مقرر کیا گیا، اور ان کی تقرری کی منظوری یونیورسٹی کے چیئرمین جواد احمد صدیقی نے دی۔‘‘
رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ای ڈی نے فرید آباد میں واقع اس یونیورسٹی کی تقریباً۱۴۰؍ کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کر لیں اور بانی چیئرمین صدیقی کے خلاف دہلی کی ایک عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ ای ڈی کے ایک افسر کے مطابق۲۶۰؍ صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں صدیقی اور ان کے ٹرسٹ کے خلاف طلبہ سے وصول کی گئی فیس کے ذریعے مبینہ طور پر غیر قانونی رقوم جمع کرنے اور اداروں کی منظوری و شناخت سے متعلق غلط بیانی کے الزامات پر کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔ عدالت نے ابھی تک چارج شیٹ پر نوٹس نہیں لیا ہے۔
حکام کے مطابق، ای ڈی نے یونیورسٹی کے رجسٹرار کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جس میں انہوں نے کیمپس میں تفتیشی ایجنسیوں کے دورے اور یونیورسٹی اسپتال سے وابستہ مشتبہ ملزمین ’’مزمل اور شاہین‘‘ کی گرفتاریوں کی تصدیق کی۔ رجسٹرار نے اپنے بیان میں کہا کہ۲۰۱۹ء میں قائم کالج کے ڈاکٹروں کو پولیس تصدیق کے بغیر ہی رکھا گیا تھا۔ یونیورسٹی کی وائس چانسلر اور پرنسپل نے ای ڈی کو بتایا کہ تینوں ڈاکٹروں کی تقرری ان کی مدت کار میں ہوئی۔ ان کے مطابق یہ تقرریاں یونیورسٹی کے ایچ آر سربراہ کی سفارش پر ہوئیں اور صدیقی کی منظوری کے بعد انہوں نے باقاعدہ تقرری کے خطوط جاری کیے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائس چانسلر نے ای ڈی کو یہ بھی کہا کہ ان ڈاکٹروں کی تقرری کے وقت ’’کوئی پولیس تصدیق یا جانچ‘‘ نہیں کی گئی۔ مزمل اور شاہین کو این آئی اے نے گرفتار کیا ہے اور وہ عدالتی تحویل میں ہیں۔ ای ڈی کے مطابق، صدیقی نے اپنے بیان میں کسی بھی دہشت گرد یا ممنوعہ تنظیم سے کسی بھی تعلق کی تردید کی ہے۔ انہیں نومبر میں منی لانڈرنگ کے الزامات میں ای ڈی نے گرفتار کیا تھا۔