Inquilab Logo Happiest Places to Work

لال قلعہ کار بم دھماکہ: ڈاکٹر عمر نبی سمیت ۱۰؍ ملزموں کے خلاف چارج شیٹ داخل

Updated: May 15, 2026, 11:40 AM IST | New Delhi

عمر نبی کے خلاف کیس ختم کرنے کی بھی تجویز جس کی دھماکہ میںموت ہوگئی تھی، سبھی پرالقاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم سے وابستہ ہونے کا الزام۔

A car bomb exploded near Kolal Fort on November 10, 2025. Photo: INN
۱۰؍ نومبر۲۰۲۵ء کولال قلعہ کے قریب کار بم دھماکہ ہوا تھا۔ تصویر: آئی این این

قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے بدھ کو نئی دہلی کی ایک خصوصی عدالت میں لال قلعہ کے قریب مہلک کار دھماکے کے سلسلے  میں ۷۵۰۰؍ صفحات پرمشتمل چارج شیٹ داخل کی۔ ایجنسی نے ۱۰؍ افراد کو ۱۰؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو ہوئےحملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کیلئے نامزد کیا ہے ۔ دھماکے میں ۱۱؍افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

۱۰؍نومبر۲۰۲۵ء کو’وہیکل بورن امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس‘(وی بی آئی ای ڈی )دھماکے نے قومی راجدھانی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس دھماکے سے املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔ این آئی اے کے مطابق تمام۱۰؍ملزمین بشمول مرکزی ملزم، عمر نبی جس کی دھماکہ میں موت ہوگئی تھی ، القاعدہ (برصغیر)(اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم انصار غزوۃ الہند(اے جی یو ایچ )سے وابستہ تھے ۔ جون۲۰۱۸ء میں وزارت داخلہ نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔این آئی اے کی طرف سے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چارج شیٹ یو اے پی اے۱۹۶۷ء بھارتیہ نیائے سنہیتا ۲۰۲۳ء ، دھماکہ خیز مواد ایکٹ۱۹۰۸ء ، اسلحہ ایکٹ ۱۹۵۹ء اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی کی روک تھام سے متعلق قانون ۱۹۸۴ء کے متعلقہ سیکشن کے تحت داخل کی گئی ہے۔واضح  رہےکہ ڈاکٹر عمر نبی کی چونکہ دھماکہ میں موت ہوگئی تھی اس لئے ان کے خلاف کیس ختم کرنے کی تجویز بھی این آئی اے نے رکھی   ۔  پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ڈاکٹر نبی کے علاوہ چارج شیٹ میں عامر رشید میر، جاسر بلال وانی، ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عدیل احمد راتھر، ڈاکٹر شاہین سعید، مفتی عرفان احمد واگے، شعیب، ڈاکٹر بلال نصیر ملا اور یاسر احمد ڈار کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔چارج شیٹ جموں کشمیر، ہریانہ، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات اور دہلی این سی آر خطے کی ریاستوں میںکی گئی وسیع تحقیقات پر مبنی ہے۔ اس میں۵۸۸؍ زبانی شہادتوں،۳۹۵؍ سے زائد دستاویزات اور۲۰۰؍سے زائد ضبط شدہ مواد کی صورت میں تفصیلی شواہد شامل ہیں ۔ پریس ریلیزمیںاین آئی اے نے تفصیلی سائنسی اور فارنسک تحقیقات کے ذریعے ایک بڑی  سازش کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس میں  الزام لگایاگیا ہےکہ کچھ انتہا پسند طبی پیشہ سے جڑے ہوئے تھے، وہ اے کیو آئی ایس کے نظریے سے متاثر ہو کر حملے کر رہے تھے۔چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ۲۰۲۲ءمیں سرینگر میں ایک خفیہ میٹنگ میں، ملزم نے ترکی کے راستے افغانستان جانے کی ناکام کوشش کے بعد انصار غزوت الہند دہشت گرد تنظیم کو ’انصار غزوت الہند عبوری ‘ کے طور پر دوبارہ تشکیل دیا تھا ۔ نئی تشکیل شدہ تنظیم کے بینر تلے ، انہوں نے ’آپریشن ہیونلی ہند‘ شروع کیا تھا اور نئے اراکین کو بھرتی کیا تھا ، اس  کا مقصد جمہوری طور پر قائم ہندوستانی حکومت کا تختہ الٹنا اور شریعت کی حکمرانی نافذ کرنا تھا۔ملزمین پرممنوعہ ہتھیاروں کی غیر قانونی خریداری کابھی الزام ہے۔ اس کیس میںاب تک ۱۱؍ ا فراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK