Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی بحران سے نمٹنے کیلئے ہندوستان کی برکس ممالک سے متحدہ قدم اٹھانے کی اپیل

Updated: May 15, 2026, 11:50 AM IST | New Delhi

قومی راجدھانی میںمنعقدہ برکس اجلاس کے پہلے دن وزیر خارجہ ایس جےشنکرنے مغربی ایشیا میںبڑھتی کشیدگی کو عالمی امن واستحکام نیزترقی پذیر ممالک کی مجموعی معیشت کیلئے خطرناک قراردیا۔

Foreign ministers of the BRICS group of countries in New Delhi. Photo: INN
برکس گروپ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نئی دہلی میں۔ تصویر: آئی این این

برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس جمعرات کو ملک کی قومی راجدھانی دہلی میں شروع ہوا۔ اس اجلاس میں مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے بحران اور عالمی توانائی کی فراہمی کے سلسلے پر تبادلہ خیال کیا جارہا  ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اس تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔۲۸؍ فروری کو ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ایرانی لیڈر کا ہندوستان کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ ہے۔جمعرات کو اس اجلاس کے پہلے دن ہندوستان نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ، اقتصادی عدم استحکام اور کمزور ہوتے کثیر جہتی ادارے عالمی نظام کو مزید نازک بنا رہے ہیں اوراس منظرنامہ میں برکس ممالک کو استحکام اور عالمی طرزِ حکمرانی میں اصلاحات کیلئے متحد ہو کر قدم اٹھانا چاہئے ۔ وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے  میٹنگ  میں بین الاقوامی سلامتی، اقتصادی عدم تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مرکوز خطاب میں کہا کہ دنیا غیر معمولی  جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے پیچھے مسلح تصادم، موسمیاتی آفات اور کووڈ وبا کے طویل مدتی اثرات اہم وجوہات ہیں۔ وزیر  خارجہ نے کہا کہ یہ بحران الگ الگ واقعات نہیں ہیں بلکہ عالمی چیلنجوں کا ایک ایسا سنگم ہیں جو بین الاقوامی نظام کی صلاحیت کا امتحان لے رہے ہیں اور جن کا سب سے زیادہ اثر ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ استحکام، پائیدار ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی کارروائی اور پختہ عزم ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کےتیسرے مرحلےکا اعلان کیا

ڈاکٹر جے شنکر نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے تئیں ہندوستان کے عزم  کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت  کے احترام کو بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کے پائیدار ذرائع ہیں۔ انہوں نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر خصوصی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل کشیدگی سمندری سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کیلئے خطرہ بن رہی ہےجبکہ ہندوستان نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم سمندری راستوں میں بلا تعطل نقل و حمل کو عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ضروری قرار دیتا ہے

وزیر خارجہ نے غزہ کے تنازع کو ’سنگین انسانی بحران ‘ قرار دیتے ہوئے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر طویل مدتی سیاسی حل کی سمت میں کوششوں کی حمایت کی۔ انہوں نے لبنان، شام، سوڈان، یمن اور لیبیا کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس بحران  کے حل کیلئے مسلسل سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی ہم آہنگی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اترپردیش کا قانون مہاراشٹر میں نہیں چلے گا‘‘

ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ استحکام منتخب نہیں ہو سکتا اور امن ٹکڑوں میں قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تنازعات کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، شہریوں کے تحفظ اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایسی یکطرفہ پابندیوں اور دباؤ ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کی جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق نہیں ہیں۔ ہندوستان نے کہا کہ ایسے اقدامات کا سب سے زیادہ منفی اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے اور وہ سفارت کاری کا متبادل نہیں ہو سکتے۔وزیر خارجہ نے گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور ترقی کی سست رفتار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ہندوستان نے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک بڑھتے ہوئے اقتصادی عدم تحفظ، مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے درمیان ترقی اور استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سلامتی کے مسئلے پر انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنی پرانی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہندوستان نے سرحد پار دہشت گردی کو بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ تکنیکی ترقی اور مصنوعی ذہانت عالمی نظام کو تیزی سے بدل رہے ہیں لیکن ان کے ساتھ اعتماد، شفافیت اور مساوی رسائی سے وابستہ سنگین سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK