Inquilab Logo Happiest Places to Work

اعتراضات کے بعد میئر ریتو تاوڑے کی کار سے ’لال بتی‘ نکال دی گئی

Updated: March 16, 2026, 11:22 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

مرکز کی پابندی کے باوجود میئر اور دیگر عہدیداروں کی گاڑیوں پر لال بتی لگی ہوئی تھی۔ آر ٹی آئی رضاکار کے اعتراضات کے بعدبی ایم سی کی کارروائی۔

The red and blue beacon lights on Mayor Ritu Towade`s vehicle were objected to. Photo: INN
میئرریتوتاوڑےکی گاڑی پرلال او ر نیلے رنگ کی بیکن لائٹ پراعتراض کیا گیاتھا۔ تصویر: آئی این این

چند روز قبل سوشل میڈیا پر نشاندہی کے بعد بی ایم سی نے میئر ریتو تاوڑے اور دیگر عہدیداروں کی کاروں پر لگی لال نیلے رنگ کی ’بیکن‘ لائٹ نکال دی ۔ 
یہ معاملہ ۱۱؍ مارچ کو پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا تھا جب سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر ’ممبئی چا شیوسینک‘ اکائونٹ سے میئر کی کار کی تصویر ڈال کر یہ سوال کیا گیا تھا کہ کیا میئر کو پولیس کی طرح اپنی کار پر لال اور نیلے رنگ کی بیکن لائٹ لگانے کی اجازت ہے؟
اس کے بعد ۱۳؍ مارچ کو اس معاملے کو اس وقت مزید تقویت ملی جب حق معلومات کے معروف رضاکار انل گلگلی نے میئر کو خط لکھ کر ان کی کار پر متذکرہ لائٹ لگی ہونے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ’’یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ (آپ) کی سرکاری گاڑی اور آپ کے اسکورٹ کی گاڑیوں پر پولیس کی کار کی طرح لال اور نیلے رنگ کی لائٹ استعمال کی جارہی ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ جاری کردہ ہدایات کے مطابق یہ بتی صرف منتخب شدہ ایمرجنسی خدمات کیلئے استعمال کی جانے والی گاڑیوں  پر لگائی جاسکتی ہیں۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے اور اس تعلق سے فوری طور پر کوئی کارروائی کی جانی چاہئے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: شہر میں گیس کی قلت کےساتھ کوئلہ کا بھی بحران

مذکورہ بتی میئر کی کار کے بونٹ پر اور ان کے ساتھ چلنے والی کاروں پر لگی ہوئی تھی۔ ان کی ساتھ چلنے والی کاروں میں عام طور پر ان کے پرسنل اسسٹنٹ اور پروٹوکول آفیسر ہوتے ہیں۔ 
اس معاملے میں بڑھتے تنازعات کو دیکھتے ہوئے بی ایم سی نے سنیچر کو میئر ریتو تاوڑے اور ان کے ساتھ دیگر کاروں سے مذکورہ بتی نکال دی اور اس کی تصویر بھی جاری کی ہے۔ 
اس دوران اس موضوع پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے میئر نے کہا ہے کہ انہیں اپنی گاڑی پر لال بتی لگانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’یہ غلطی انتظامیہ سے ہوئی ہے۔ میں  نے بی ایم سی کمشنر سے بھی کہا ہے کہ میئر کو گاڑی فراہم کرتے وقت یہ دیکھنا چاہئے تھا کہ کن چیزوں کی اجازت ہے۔ اس میں میری کیا غلطی ہے؟ میں وہی گاڑی استعمال کروں گی جو مجھے فراہم کی گئی ہے، اگر اس کے تعلق سے کوئی قواعد و ضوابط ہیں تو ان کی پاسداری کی جانی چاہئے تھی۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپوزیشن کی جانب سے کئے گئے اس طرح کے اعتراضات کو اہمیت نہیں دیتیں۔ 
اس تعلق سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے بھی صفائی پیش کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ ’’اس معاملے میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ لال بتی میئر کی گاڑی کی چھت پر نہیں بلکہ کار کے بونٹ پر لگی ہوئی تھی۔ ماضی میں ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ کوئی بھی اپنی گاڑی پر لال بتی کااستعمال نہیں کرے گا اور میئر بھی اس فیصلے سے بخوبی وقف ہیں۔ انہیں بلا وجہ نشانہ بنایا جارہا ہے۔‘‘
بی ایم سی کے ایک افسر نے تصدیق کی کہ اس طرح کی بتی میئر کے علاوہ، ڈپٹی میئر اور بی ایم سی کے ہائوس لیڈر کی گاڑیوں پر بھی لگی ہوئی تھی لیکن ان سب کو سنیچر کو نکال دیا گیا ہے۔ ‘‘
یاد رہے کہ مرکزی حکومت نے یکم مئی ۲۰۱۷ء کو ایمرجنسی خدمات انجام دینے والی گاڑیوں کے علاوہ دیگر سرکاری گاڑیوں پر لال بتی، مخصوص سرکاری نشانات، نام کی تختی اور پرچم وغیرہ کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس وقت ممبئی کے میئر وشوناتھ مہاڈیشور تھے اور ان کی گاڑی سے بھی لال بتی نکال دی گئی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK