Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہر میں گیس کی قلت کےساتھ کوئلہ کا بھی بحران

Updated: March 15, 2026, 12:02 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

گیس نہ ملنے سے کوئلہ کی مانگ میں زبردست اضافہ، کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتیں بڑھنے سےدکانداروںاور گاہکوںمیں بحث وتکرار کی نوبت۔

Saravi Hotel, located in Nagpara, is famous for its old-fashioned cuisine. Photo: INN
ناگپاڑہ پر واقع ساروی ہوٹل جو پرانےطرز کے کھانوں کیلئے مشہور ہے۔تصویر: آئی این این

کمرشیل گیس کی قلت سے ہوٹل مالکان کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے ۔ گیس کے متبادل کے طور پر کوئلہ اور ڈیزل کی بھٹی سے کام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہےلیکن کوئلہ کے دام اور اس کی مانگ میں ہونے والے اضافے سے ہوٹل مالکان کے سامنے نئی دشواری درپیش ہے ، جس کی وجہ سے ہوٹل والے دیگر متبادلات پر غور کرنے پر مجبور ہیں ۔ اس دوران گیس اور کوئلہ مہنگا ہونے کے باوجو د کچھ ہوٹل والوں نے پکوان کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جبکہ متعدد ہوٹل مالکان نے ۱۵؍فیصد قیمتیں بڑھا دی ہیں ۔کھانے پینے کی اشیاء کے اچانک دام بڑھانے پر کئی دکانداروں اور گاہکوں کے مابین بحث وتکرار ہونےکا معاملہ بھی سامنے آچکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بی ایم سی میٹھی ندی کی صفائی کا ذمہ ناتجربہ کار ٹھیکیداروں کو دینے کیلئے تیار

ناگپاڑہ پر واقع معروف ساروی ہوٹل کے مالک علی رضا نے اس نمائندہ کو بتایا کہ ’’ گیس کی قلت سے ہوٹل انڈسٹری بری طرح متاثر ہے ۔ ایسے بھی گاہکوں کے لذت ِکام ودہن کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے چنانچہ ہم نے گیس نہ ملنے کی صورت میں کوئلے کی سگڑی بڑھا دی ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ پکوان کم کردیئے ہیں لیکن ہمارے جو عام پکوان ہیں وہ معمول کے مطابق دستیا ب ہیں ،چونکہ موقع کافائدہ نہیں اُٹھانا چاہئے ،اس لئے ہم نے کسی پکوان کے دام میں اضافہ نہیں کیا ہے۔‘‘

گیس کی قلت کے سبب ساروی ہوٹل میں ایک ہزار روپے سے کم کا آرڈر نہیں لیا جا رہاہے ،کیا یہ بات درست ہے ؟اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’یہ بالکل بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے ۔‘‘

چرنی روڈ پر واقع وائس آف انڈیا ہوٹل کے مالک معظم دبیر نے بتایاکہ ’’گیس کی قلت سے بیشتر ہوٹلوں کا مینوبدل گیا ہے ۔ہم، تقریباً ڈیڑھ سو میں سے صرف ۱۵۔۱۲؍ ایسے پکوان پکائے رہے ہیں جو دن میں صرف ایک مرتبہ پکائے جاتے ہیں ۔ بار بار پکائے جانے والے پکوانوں کو فی الحال بندکر دیاہے ۔ مانگ بڑھنے سے جو کوئلہ ۴۰۔۳۵؍ روپے کلو تھا وہ ۷۰؍روپے کلو ہوگیا ہے ۔ جس کی وجہ مجبوراًپکوان کی قیمتوں میں ۱۵۔۱۰؍فیصد اضافہ کرنا پڑا ہے ۔ کوئلہ کے علاوہ ڈیزل سے چلنے والی بھٹی کا بھی تجربہ کیا جا رہاہے ،لیکن وہ گیس کی طرح کام نہیں کر رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آئندہ سال سے تمام بورڈ اور میڈیم کےاسکولوں میں مراٹھی پڑھانا لازمی ہوگا

ان دنوں بازار میں گیس کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر ہے۔ بلیک میں گیس خریدنے کی وجہ سے کھانے پینے کی عام دکانوں پر دستیاب اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔جہاں چائے ۱۰؍روپے مل رہی تھی ،وہاں اب ۱۵؍روپے میں مل رہی ہے۔ اسی طرح جن دکانوں پر پلائو اور بریانی ۵۰؍روپے فی کنٹینر تھی ، وہ اچانک ۱۰۰؍روپے ہوگئی ہے ۔ جس کی وجہ سے دکانداروں اور گاہکوں میں بحث وتکرار ہو رہی ہے۔

مورلینڈرروڈ کے ارشاد خان نے بتایا کہ ’’ ودیاوہار میں جہاں میں بڑھئی کا کام کرتا ہوں، وہیں قریب میں ایک دکان پر ۵۰؍روپے میں بریانی ملتی تھی لیکن گیس کی قلت کے بعد اچانک بریانی کا دام ۱۰۰؍روپے کردینے سے ایک مزدور اور دکان مالک کے درمیان گرماگرم بحث ہوئی اور دونوںنے ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کی۔

یہ بھی پڑھئے: دونوں گردے۹۰؍ فیصد خراب مگر تراویح کا معمول برقرار

سی ایس ایم ٹی پر واقع فرہنگ ہوٹل کے مالک محمد قمرالزماں کے مطابق ’’گیس کی قلت کے باوجود گاہکوں کی خدمت کرنا ضروری ہے، اسی وجہ سے ہم کوئلہ کی سگڑی سے پکوان پکا رہے ہیں لیکن کوئلہ کی زبردست مانگ کی وجہ سے چند دنوں میں اس کااسٹاک بھی ختم ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے ۔ حالانکہ کوئلہ کی قیمت بڑھا دی گئی ہے اس کے باوجود گیس کے ساتھ کوئلہ بھی نہیں ملا تو مشکل بڑھ جائے گی۔ ان دشواریوں کے باوجود موجودہ قیمت پر گاہکوں کو کھانا فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK