Inquilab Logo Happiest Places to Work

انجینئرنگ کے پہلے، دوسرے اور تیسرے سال کے۷۰۰؍ سے زائد طلبہ کو راحت

Updated: May 21, 2026, 7:06 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ نے پونے کے کالج کے پہلے، دوسرے اور تیسرے سال کے امتحانات کلیئر نہ کرنے والے طلبہ کواگلا امتحان دینے کی اجازت دی ۔

Bombay Highcourt.Photo:INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این
پونے یونیورسٹی کے ساوتری بائی کالج میں انجینئرنگ کے تیسرے اور چوتھے سال میں زیر تعلیم ۷؍ سو سے زائد طلبہ کو اس وقت بڑی راحت مل گئی جب بامبے ہائی کورٹ نے انجینئرنگ کے پہلے دوسرے اور تیسرےسال میں چند مضامین میں کامیاب نہ ہونے کے باوجود تیسرے اور چوتھے سال کے امتحان دینے کی اجازت دے دی۔ واضح رہے کہ مذکورہ کالج نے پہلے دوسرے اور تیسرے سال میں سبھی مضامین میں پاس نہ ہونے والے سبھی طلبہ پر تیسرے اور چوتھے سال کے امتحان میں شریک ہونے پر پابندی عائد کی ہے ۔
 
 
پونے یونیورسٹی کی ساوتری بائی کالج انتظامیہ نے پہلے ، دوسرے اور تیسر ے سال میں سبھی مضامین میں کامیاب نہ ہونے کی صورت میں تیسرے اور چوتھے سال کے امتحان میں شریک ہونے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ایک سرکیولر جاری کیاتھا ۔ تاہم مذکورہ کالج کے ۷۵۱؍ طلبہ نے کالج انتظامیہ کے اس فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے انجینئرنگ کے تیسرے اور چوتھے سال کے امتحان میں شریک ہونے کی اجازت دینے کی اپیل اور سرکیولر کو منسوخ کرنے کی بھی درْخواست کی تھی ۔تاہم اس ضمن میں طلبہ نے ۱۰؍ فروری ۲۰۲۵ء کو حکومت کے ’ کیری آن ‘ پالیسی کے نام سے منظور کئے گئے ریزولوشن کو بھی چیلنج کیا ہے۔طلبہ کی جانب سے وکیل پوجا تھورات نے پیروی کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کی تعطیلات بنچ کے جسٹس گوتم انکھڈ اور جسٹس سندیش پاٹل کو بتایا کہ ’’تیسرے اور چوتھے سال میں امتحان میں شریک ہونے کی درخواست کرنے والےتمام طلبہ  انجینئرنگ کے پہلے ، دوسرے اور تیسرے سال کے جن مضامین میں ناکا م ہوئے تھے ،  ان کا دوبارہ امتحان دے دیا ہے لیکن اس کے نتائج آنا باقی ہے ۔ تاہم کالج انتظامیہ نے ہی انہیں انجینئرنگ کے تیسرے اور چوتھے سال میں نہ صرف داخلہ دیا تھا بلکہ انہوںنے ۲۰؍ مئی ۲۰۲۶ء میں ہونے والے امتحان میں شرکت کے لئے تمام لیکچرس اٹینڈ کئے ہیں ، پریکٹیکل مکمل کیا ہےاور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا ہے ۔وکیل نے اس طرح کے دیگر معاملہ میں طلبہ کو راحت دینے کا بھی حوالہ دیا تھا ۔ 
 
 
وہیں حکومت کی پیروی کرتے ہوئے وکیل اُدئے ورنجیکر نے طلبہ کی اپیل کو خارج کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو چاہئے کہ حکومت کے ریزولوشن کی داخل کردہ رٹ پٹیشن کے خلاف وہ مداخلت کار کی حیثیت سے پہلے عرضداشت داخل کریں ۔دو رکنی بنچ نے دفاع اور استغاثہ کی دلیلوں کو سننے کے بعد کالج کے ذریعہ طلبہ کو داخلہ دیئے جانے اور امتحان کی تیاری کرنے کے جواز کو قبول کرتے ہوئے ، انہیں انجینئرنگ کے تیسرے اور چوتھے سال کے امتحان میں شریک ہونے کی اجازت دے دی ۔ ساتھ ہی طلبہ کو پہلے ، دوسرے اور تیسرے سال کے مضامین کو کلیئر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے حکومت کے ریزولوشن کے خلاف داخل کردہ عرضداشت پر سماعت کا سلسلہ جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کو ۱۲؍ جون تک کے لئے ملتوی کر دیا ہے ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK