• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یاد ہے کرلا کی مونیکامورے؟ جو لوکل ٹرین حادثےمیں دونوں ہاتھ گنوا بیٹھی تھی!

Updated: January 07, 2026, 12:05 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

۲۰۱۴ءسے۲۰۲۰ء تک کئی صبر آزمامرحلوں سے گزرنےوالی مونیکامورے، ہینڈٹرانسپلانٹ کےبعد پریل کے گلوبل اسپتال میںگزشتہ ۵؍سال سے پیشنٹ کیئر کوآرڈینیٹرکے عہدے پر فائز ہے، وہ جان بچانےوالے وسیم اورامجد کو نہیں بھولی ہے، اس کا ماننا ہےکہ’’ وہ نہ ہوتے تومیں نہ ہوتی ،ان کی بدولت میںزندہ ہوں۔‘‘

Monica More on duty at Global Hospital. Picture: INN
مونیکا مورے گلوبل اسپتال میں ڈیوٹی کے دوران۔ تصویر: آئی این این
یاد ہےکرلاکی مونیکامورے، جس نے۱۱؍جنوری ۲۰۱۴ءکوگھاٹ کوپر اسٹیشن پر لوکل ٹرین کی زدمیں آکر اپنے دونوں بازو گنوا دیئے تھے۔ جائےحادثہ پرموجود ساکی ناکہ کے نوجوان وسیم شیخ اور امجدچودھری نے اسے راجاواڑی اسپتال پہنچایاتھا۔ جہاںسے اس کےدشوارکن علاج کا سفر شروع ہوالیکن اس جراتمندلڑکی نے حوصلہ نہیں ہارا۔ ۶؍سال کی متواتر تگ ودو کے بعد اگست ۲۰۲۰ءمیں پریل کے گلوبل اسپتال میں اس کےدونوں ہاتھوں کاکامیاب ٹرانسپلانٹ ہوا۔ اسی اسپتال میں انتظامیہ نے اسے ملازمت کا موقع فراہم کیا، جہاں اگست ۲۰۲۱ء سے وہ پیشنٹ کیئر کوآرڈینیٹرکی حیثیت سے اپنی خدمات پیش کررہی ہے۔ وہ ہرطرح کے چیلنج کو قبول کرکے معمول کی زندگی گزارنےپر یقین رکھتی ہے۔
 
 مونیکامورے کی ۲۰۱۴ء کی ایک تصویر۔
 
اب تک کی آزمائشوں کےتعلق سے مونیکامورے نے اس نمائندہ کوبتایاکہ ’’ میرا ہینڈ ٹرانسپلانٹ گلوبل اسپتال میں ہوا، خوش قسمتی سے مجھے اسپتال انتظامیہ نے یہیں ملازمت فراہم کی اور میں یہاں کے عملے کاحصہ بن کرخوش ہوں۔  ۵؍سال سےبحیثیت پیشنٹ کیئر کوآرڈینیٹر، نرسنگ ڈپارٹمنٹ کیلئے خدمات پیش کررہی ہوں۔ چونکہ یہاں کاساراعملہ پہلے سے مجھے جانتاہے، اس لئے ملازمت کےدوران کسی طرح کی دقت نہیں آئی بلکہ سب بھرپورتعاون کرتے ہیں۔ مجھے یہاں گھر جیسا محسوس ہوتاہے۔ ‘‘
دونوں بازوئوں کے فعال ہونے سے متعلق سوال کرنےپر مونیکا نے بتایاکہ ’’دونوں ہاتھ معمول کے مطابق کام کررہےہیں۔ ان ہاتھوں سےکمپیوٹرپرکام کرتی ہوں ، دیگر کام کرنےمیں بھی کوئی دقت نہیں ہوتی ہے۔ یہ ضرور ہےکہ جب تک ہینڈٹرانسپلانٹ نہیں ہواتھا، تنہاگھر سے باہر نہیںنکلتی تھی لیکن اب میں تنہاباہر جاتی ہوں۔ کرلا سے اکیلے پریل آتی ہوں۔ گزشتہ ۲؍سال سے لوکل ٹرین میں بھی سفر کرنا شروع کردیا ہے۔  اگر  بھیڑ زیادہ ہوتی ہے توٹرین چھوڑ دیتی ہوں۔ کرلاٹرین و ہ بھی ہینڈی کیپ کمپارٹمنٹ میں سفرکرنےکوترجیج دیتی ہوں۔ دوران سفر بھی کچھ ایسے لوگ مل جاتےہیں جومیرے ساتھ ہونے والے حادثہ سے واقف ہیں، وہ خیر خیریت پوچھتے ہیں توبہت اچھالگتا ہے۔ میرے لئے دعا کرتےہیںتوبہت خوشی ہوتی ہے۔‘‘
وسیم شیخ اور امجد چودھری سےمتعلق دریافت کرنےپر مونیکانے بڑے جذباتی اندازمیں کہاکہ ’’وہ نہ ہوتے تومیں نہ ہوتی۔وسیم اورامجد کی بدولت میںزندہ ہوں۔ ان دونوںنے میری جتنی مددکی ہے ، کسی اورنےکبھی نہیں کی۔وہ مجھے راجا واڑی اسپتال لے گئے تھے۔میرے گھروالوں کو حادثہ کی اطلاع دی تھی۔ جب تک گھروالے راجاواڑی اسپتال نہیں پہنچے ،دونوں میرے قریب تھے۔ دوران علاج اور اس کےبعد بھی وہ میرے رابطے میں رہے۔ میں انہیں کبھی نہیں بھول سکتی ۔ ‘‘  
ایک خطرناک اور جان لیوا حادثہ سے نبردآزماہوکر صحت مندہونےپرعوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گی، اس سوال پرمونیکامورے نے کہا’’ میرے ساتھ ہونےوالے سانحہ کی بنیاد پر سب سے پہلے تو یہ تمناکروںگی کہ ایسا حادثہ کسی کےساتھ نہ ہو، اگر ہوجائے تو کبھی نفسیاتی دبائومیں نہ آئیں۔آج سائنس اور ٹیکنالوجی نے کافی ترقی کرلی ہے ۔ہر مرض کاعلاج ممکن ہے چنانچہ ڈپریشن میں جانےکی ضرورت ہرگز نہیں ، ساتھ ہی میری صلاح ہے، کسی کےساتھ کبھی بھی ایسا حادثہ ہو،فوراً اس کی مددکیلئے آگے بڑھیں۔ خدارا اس کی فوٹواور ویڈیو وغیرہ نہ بنائیں ،بس اتنی التجاہے۔‘‘   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK