• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یادہے باندرہ سنی قبرستان کی زمین کا معاملہ، جس کی وجہ سے برادران وطن کو بھی زمین دینے کا حکم دیا گیا

Updated: January 28, 2026, 1:01 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

کورٹ کے سنائے گئے مثبت فیصلہ کے باوجود ، بی ایم سی قبرستان کی تعمیر میں اب بھی کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔

Muhammad Furqan Qureshi (right) and Advocate Ashraf Sheikh (left) can be seen. Picture: INN
 محمد فرقان قریشی (دائیں) اور ایڈوکیٹ اشرف شیخ (بائیں) دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
۲۰۱۶ء میں بامبے ہائی کورٹ کی چیف جسٹس منجولا چیلور کے روبرو باندرہ کھار اور سانتا کروز میں مقیم مسلم میت کی  تدفین کے لئے در پیش مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے عرضداشت داخل کی گئی تھی۔  محمد فرقان قریشی نے اس وقت ایڈو کیٹ اشرف احمد عقیل احمد شیخ کے توسط سے داخل کردہ عرضداشت کے ذریعہ مسلمانوں کی بڑی آبادی پر مشتمل ہونے اور قبرستان نہ ہونے کا حوالہ دیا تھا۔ 
 
اس معاملہ میں ایڈوکیٹ اشرف احمد شیخ نے جہاں کامیاب پیروی کرکےیہ انکشاف کیا تھا کہ ۲۰۳۴ء کے بنائے گئے ڈیولپمنٹ پلان میں باندرہ ریکلیمیشن میں قبرستان کے لئے زمین مختص کی گئی ہے ۔ تاہم شہری انتظامیہ نے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئےباندرہ میں مسلمانوں کے کئی قبرستان ہونے کا دعویٰ کیا تھا لیکن ایڈوکیٹ اشرف  نے ان تمام قبرستانوں کے ذاتی ملکیت ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے بی ایم سی کی پالیسی کے تحت شہری انتظامیہ کو ڈیولپمنٹ  پلان (ڈی پی)  کے مطابق باندرہ ریکلیمیشن میں نہ صرف مسلمانوں کو قبرستان دینے پر زور دیا تھا بلکہ پالیسی کے مطابق ڈیولپمنٹ پلان اور آبادی کے لحاظ سے برادران وطن کو شمشان فراہم کرنے اور عیسائیوں کو قبرستان دینے کی بھی نشاندہی کی تھی ۔ 
بامبے ہائیکورٹ کی اس وقت کی چیف جسٹس منجولا چیلور نے بی ایم سی کے جھوٹ پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور نہ صرف باندرہ ریکلیمیشن میں سنی مسلم قبرستان بلکہ برادران وطن کیلئے شمشان اور عیسائیوں کیلئے قبرستان کی باؤنڈری بنانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے حکم کے مطابق ہر سماج  کیلئے ۳؍ ہزار مربع میٹر پر مشتمل زمین مہیا کرانا تھی اور اس کی نشاندہی کرکے قبرستان اور شمشان بنانا تھا ۔
مذکورہ بالا معاملہ میں عرضداشت داخل کرنے والے فرقان کے علاوہ ماہم سے بی ایم سی الیکشن لڑنے اور فتح حاصل کرنے والے کارپوریٹر راجا رہبر خان اور بی جے پی لیڈر آشیش شیلار نے مداخلت کار کی حیثیت سے عرضداشت داخل کی تھی۔ آشیش شیلار نے  قبرستان کی حمایت بھی کی تھی اور ساتھ ہی اسی علاقے میں تھیم پارک بھی بنانے کی اپیل کی تھی ۔ اسی طرح کارپو ریٹر راجا رہبر نے بھی قبرستان کی حمایت کی تھی۔ ڈیولپمنٹ پلان میں قبرستان کے الاٹمنٹ کی نشاندہی کے ساتھ کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ باندرہ مغرب میں کوئی قبرستان نہ ہونے کے سبب تدفین کیلئے سانتا کروز مغرب یا باندرہ مشرق میں جانا پڑتا ہے۔ کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ باندرہ مغرب میں مسلم سماج کی ایک بڑی آبادی ہے اور مذکورہ قبرستانوں میں متوفین کی تدفین کی گنجائش نہیں  ہے۔ کورٹ کو روزانہ ۲؍ اموات ہونے کا بھی حوالہ دیا گیا تھا ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ۲۰۱۶ ء میں داخل کردہ عرضداشت پر ۲۰۲۵ء تک کئی سماعتیں ہوتی رہیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بی ایم سی کے تساہل اور لاپروائی کے سبب کبھی کورٹ کو ایم ایس آر ڈی سی کے ذریعہ زمین پر قبضہ کئے جانے کی اطلاع دی جاتی ، کبھی مہاڈا کی زمین ہونے کا جواز پیش کیا جاتا اور کبھی غیر قانونی قبضہ کی کہانی سنائی جاتی رہی۔
بالآخر ۲۰۲۵ء میں بامبے ہائی کورٹ نے بی ایم سی کو نہ صرف مسلمانوں بلکہ برادران وطن کے لئے شمشان اور عیسائیوں کے لئے قبرستان کی جگہ کی باؤنڈری لائن ڈالنے اور جلد سے جلد اسے مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔
قابل ذکر اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک جانب اب تک بی ایم سی نے اس ضمن میں نہ تو باندرہ ریکلیمیشن میں ڈیولپمنٹ پلان(ڈی پی) کے تحت دی گئی زمین پر قبرستانوں اور شمشان کو بنانے اور باؤنڈری لائن ڈالنے کی کوشش کی ہے اورنہ ہی زمین ہموار کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھا یا ہے ۔ وہیں دوسری جانب ایک بار پھر اس زمین پر دو بڑی ہورڈنگس لگا دی گئی ہے اور اس پر بی ایم سی نے اب تک نہ تو کوئی کارروائی کی ہے اور نہ اسے ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔
عرضداشت گزار فرقان قریشی کے بقول قبرستان کی زمین سے متصل اراضی جس پر بی ایم سی ڈسپنسری بنانے والی تھی اس پر قریب ہی اڈانی کے تعمیراتی پروجیکٹ میں کام کرنے والے مزدوروں اور انجینئروںکیلئے ٹرانزٹ کیمپ بنا دیا گیا ہے۔ عرضداشت گزار نے اس ضمن میں بی ایم سی میں شکایت بھی کی ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے اس لئے اب وہ توہین عدالت کے تحت ہائی کورٹ میں دوبارہ عرضداشت داخل کریں گے۔
باندرہ کے عوام کارپوریٹر راجا رہبر خان اور آشیش شیلارسے بھی یہ امید کررہے ہیں کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK