فیس بک پر کی گئی اس پوسٹ میں انہوں نےاپنے دونوں سابق طلبہ کی ضمانت کی اپیل کو مسترد کئے جانے پر غم و غصے کااظہار کیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں جانتی ہوں کہ وہ کیسے ہیں؟ میں نے انہیں پڑھایا ہے
EPAPER
Updated: January 07, 2026, 2:07 PM IST | New Delhi
فیس بک پر کی گئی اس پوسٹ میں انہوں نےاپنے دونوں سابق طلبہ کی ضمانت کی اپیل کو مسترد کئے جانے پر غم و غصے کااظہار کیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں جانتی ہوں کہ وہ کیسے ہیں؟ میں نے انہیں پڑھایا ہے
جے این یو کی معروف مؤرخ اور ریٹائرڈ پروفیسر جانکی نائر نے فیس بک پر ایک پوسٹ لکھ کر اپنے دو سابق طالب علم شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت سےمتعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنےغم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ دونوں طلبہ لیڈران پر ۲۰۲۰ء میں دہلی تشدد کی سازش میں شامل ہونے کاالزام ہے۔
اپنی طویل پوسٹ میں پروفیسر جانکی لکھتی ہیں کہ ’’ایک جدید ہندوستانی مؤرخ کے طور پر، میں نوآبادیاتی ریاست کے تیار کردہ ریکارڈز کو ’خلافِ روایت‘ پڑھنے کی عادی ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان دستاویزات کو ان مقاصد کیلئے پڑھنا جن کیلئے وہ نہیں لکھی گئی تھیں۔ اس کا مطلب ہے نوآبادیاتی ریکارڈ کی مذمتوں اور الزامات کے ڈھیر سے ان لوگوں کا سراغ لگانا جنہیں آج کے دور میں ہم اپنی آزادی کے ہیرو اور ان حقوق کے علمبردار کے طور پر دیکھتے ہیں، جنہیں ہم نے آج بہت معمولی سمجھ لیا ہے۔‘‘
وہ آگے لکھتی ہیں کہ ’’چنانچہ میرے اندر کا مؤرخ یہ امید کرتا ہے کہ شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت مسترد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی ایک دستاویز کے طور پر مستقبل قریب میں ’خلافِ روایت‘ پڑھا جائے گا۔ ایسا سوچنے کیلئے آج امید کو منطق سے الگ کرنا ہوگا اور آج کے دور میں اپنے ذہنی سکون کیلئے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔ہم میں سے وہ لوگ جو خوش قسمتی سے ۲۰۱۹ء کے آخر اور ۲۰۲۰ء کے شروع میں دہلی کے خطے میں رہائش پذیر تھے، جیسے کہ میں، وہ آزاد ہندوستان کی ایک تخلیقی، پائیدار اور پرامن تحریک کے گواہ بنے جو شہریت کی تعریف کو محدود کرنے کی حکومتی کوشش کیخلاف تھی۔ اس تحریک نے مسلم خواتین کی بڑی تعداد کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا جو شاذ و نادر ہی عوامی سیاسی زندگی کا حصہ بنتی تھیں۔ انہوں نے ہفتوں تک بغیر کسی ظاہری سیاسی حمایت کے اس تحریک کو زندہ رکھا۔‘‘
پروفیسر جانکی نے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کیا اس میں کوئی حیرت کی بات ہے کہ نوجوان اس لمحے کی امیدوں سے مسحور ہوگئے تھے جہاں احتجاج اور ابلاغ کے نئے طریقے آزمائے جا رہے تھے؟ کیا یہ حیرت انگیز ہے کہ شرجیل امام اور عمر خالد، اپنی تاریخی تحقیق اور سیاسی شعور کی وجہ سے، اپنی عمر اور پس منظر کے دوسرے نوجوانوں کی طرح اس تحریک کی طرف کھنچے چلے گئے؟ شرجیل امام اور عمر خالد بم پھینکنے والے انقلابی نہیں تھے۔ میں نے ان دونوں کو پڑھایا ہے۔ وہ اپنی ذہانت، محنت اور الگ سوچنے کی صلاحیت سے مجھے متاثر کرتے تھے۔ میں ہمیشہ ان کے خیالات سے متفق نہیں ہوتی تھی اور اکثر ان کے سیکھنے کے انداز سے، جو کبھی کبھارگستاخی کی حد تک بے باک ہوتا تھا، چڑ بھی جاتی تھی لیکن جے این یو کے بیشتر طلبہ کی طرح وہ بھی بحث و مباحثے کے دیوانے تھے اور ان میں پڑھنے، لکھنے اور کھل کر بولنے کی ایک فطری بھوک تھی۔‘‘
بقول پروفیسر جانکی ’’جے این یو کا مقصد ایسی فکری جگہ فراہم کرنا تھا جہاں نوجوان سوچنے، بحث کرنے اور نتائج پر پہنچنے کا خطرہ مول لے سکیں، یہاں تک کہ وہ خواب بھی دیکھ سکیں جو شاید کبھی پورے نہ ہوں۔ یہ نہ صرف ہماری کلاسیز میں ہوتا تھا بلکہ کینٹینوں، ہاسٹلوں اور ان راتوں کی ’فلسفیانہ گفتگو‘ میں بھی شامل ہوتا تھا جو صبح تک جاری رہتی تھیں۔‘‘
وہ آگے پھر سوال کرتی ہیں کہ ’’کیا ہم شرجیل، عمر، نتاشا یا دیوانگنا کو اسلئے قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں کہ انہوں نے اس سے بہتر دنیا کا خواب دیکھا جو انہیں میسر تھا۔ ہمارے طلبہ کو سوال کرنے، مختلف ذرائع کو پڑھنے اور خیالات کا جائزہ لینے کا موقع ملتا تھا۔ ان میں سے کچھ خیالات خام ہوتے تھے اور کچھ ذہانت سے بھرپور لیکن جے این یو نے وہ جگہ فراہم کی جہاں ان خیالات کو بغیر کسی انتقام کے خوف کے آزمایا جا سکتا تھا ۔ اس کے بجائے، شرجیل اور عمر کو ان کی زندگی کے پانچ سے زائد بہترین اور تخلیقی برسوں کیلئے قید کر دیا گیا ہے، صرف ان الفاظ کی وجہ سے جو انہوں نے عوامی سطح پر استعمال کرنے کیلئے منتخب کئے۔‘‘
وہ آخر میں لکھتی ہیں کہ ’’اپنی جمہوریہ کے اس ۷۵؍ ویں سال میں، ہمیں شرجیل اور عمر جیسی شخصیات کو یاد رکھنا چاہئے جو اپنے خیالات کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ایسے لاتعداد لوگ جنہوں نے دوسرے ہندوستانیوں کے خلاف کھلے عام تشدد کی اپیل کی، وہ آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں اور عوامی عہدوں پر فائز ہیں کیونکہ ان کے پاس ’صحیح‘ نام اور ’صحیح‘ سیاسی سرپرست موجود ہیں۔‘‘