• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پروفیسر جانکی نائر نے شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت رد ہونے پر فیس بک پوسٹ لکھا، انٹرنیٹ پر وائرل

Updated: January 06, 2026, 6:14 PM IST | New Delhi

جے این یو کی معروف مؤرخ اور ریٹائرڈ پروفیسر نے فیس بک پر ایک انتہائی پراثر تحریر میں اپنے دو سابقہ طالب علموں کی ضمانت مسترد کئے جانے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

Prof. Janaki Nair, Umar Khalid, and Sharjeel Imam. Photo: X
پروفیسر نائر، عمر خالد اور شرجیل امام۔ تصویر: ایکس

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی معروف مؤرخ اور ریٹائرڈ پروفیسر جانکی نائر نے فیس بک پر ایک انتہائی پراثر تحریر لکھ کر اپنے دو سابق طالب علم اور سی اے اے کے خلاف مظاہرے کرنے والے کارکنوں، شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت پیر کے دن سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کئے جانے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ دونوں طلبہ لیڈران پر دہلی تشدد کی مبینہ سازش سے متعلق یو اے پی اے کیس کے تحت مقدمہ درج ہے۔

انقلاب کے قارئین کیلئے اس پوسٹ کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔

ایک جدید ہندوستانی مؤرخ کے طور پر، میں نوآبادیاتی ریاست کے تیار کردہ ریکارڈز کو ’خلافِ روایت‘ پڑھنے کی عادی ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان دستاویزات کو ان مقاصد کیلئے پڑھنا جن کیلئے وہ نہیں لکھی گئی تھیں۔ اس کا مطلب ہے نوآبادیاتی ریکارڈ کی مذمتوں اور الزامات کے ڈھیر سے ان لوگوں کا سراغ لگانا جنہیں آج کے دور میں ہم اپنی آزادی کے ہیرو اور ان حقوق کے علمبردار کے طور پر دیکھتے ہیں، جنہیں ہم نے آج بہت معمولی سمجھ لیا ہے۔ یہ بات ۱۸۳۰ء کی دہائی کے میسور کے ان کسانوں کیلئے بھی اتنی ہی سچ ہے جنہوں نے بغاوت کی تھی اور ان لوگوں کیلئے بھی جنہوں نے ۱۹۴۲ء میں میسور ہی کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’ایسور‘ میں برطانوی راج سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ ان سب نے قیمت چکائی تاکہ ہم آزاد ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپوزیشن حیران، انصاف کے منافی قراردیا

چنانچہ میرے اندر کا مؤرخ یہ امید کرتا ہے کہ شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت مسترد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی ایک دستاویز کے طور پر مستقبل قریب میں ’خلافِ روایت‘ پڑھا جائے گا۔ ایسا سوچنے کیلئے آج امید کو منطق سے الگ کرنا ہوگا اور آج کے دور میں اپنے ذہنی سکون کیلئے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔

ہم میں سے وہ لوگ جو خوش قسمتی سے ۲۰۱۹ء کے آخر اور ۲۰۲۰ء کے شروع میں دہلی کے خطے میں رہائش پذیر تھے، جیسے کہ میں، وہ آزاد ہندوستان کی ایک تخلیقی، پائیدار اور پرامن تحریک کے گواہ بنے جو شہریت کی تعریف کو محدود کرنے کی حکومتی کوشش کے خلاف تھی۔ اس تحریک نے مسلم خواتین کی ایک بڑی تعداد کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا جو شاذ و نادر ہی عوامی سیاسی زندگی کا حصہ بنتی تھیں اور انہوں نے ہفتوں تک بغیر کسی ظاہری سیاسی حمایت کے اس تحریک کو زندہ رکھا۔

کیا اس میں کوئی حیرت کی بات ہے کہ نوجوان اس لمحے کی امیدوں سے مسحور ہوگئے تھے جہاں احتجاج اور ابلاغ کے نئے طریقے آزمائے جا رہے تھے؟ کیا یہ حیرت انگیز ہے کہ شرجیل امام اور عمر خالد، اپنی تاریخی تحقیق اور سیاسی شعور کی وجہ سے، اپنی عمر اور پس منظر کے دوسرے نوجوانوں کی طرح اس تحریک کی طرف کھنچے چلے گئے؟

شرجیل امام اور عمر خالد بم پھینکنے والے انقلابی نہیں تھے۔ میں نے ان دونوں کو پڑھایا ہے۔ وہ اپنی ذہانت، محنت اور الگ سوچنے کی صلاحیت سے مجھے متاثر کرتے تھے۔ میں ہمیشہ ان کے خیالات سے متفق نہیں ہوتی تھی اور اکثر ان کے سیکھنے کے انداز سے، جو کبھی کبھار گستاخی کی حد تک بے باک ہوتا تھا، چڑ بھی جاتی تھی۔ لیکن جے این یو کے بیشتر طلبہ کی طرح وہ بھی بحث و مباحثے کے دیوانے تھے اور ان میں پڑھنے، لکھنے اور کھل کر بولنے کی ایک فطری بھوک تھی۔

جے این یو کا مقصد ایسی فکری جگہ فراہم کرنا تھا جہاں نوجوان سوچنے، بحث کرنے اور نتائج پر پہنچنے کا خطرہ مول لے سکیں، یہاں تک کہ وہ خواب بھی دیکھ سکیں جو شاید کبھی پورے نہ ہو۔ یہ نہ صرف ہماری کلاسوں میں ہوتا تھا بلکہ کینٹینوں، ہاسٹلوں اور ان راتوں کی ’فلسفیانہ گفتگو‘ میں بھی شامل ہوتا تھا جو صبح تک جاری رہتی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: گلفشاں اور دیگر ۴؍ کو بالآخر ضمانت مل گئی

کیا ہم شرجیل، عمر، نتاشا یا دیوانگنا کو اس لئے قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں کہ انہوں نے اس سے بہتر دنیا کا خواب دیکھا جو ہماری نسل نے ان کیلئے چھوڑی تھی؟ ہمارے طلبہ کو خود سوال کرنے، مختلف ذرائع کو پڑھنے اور خیالات کا جائزہ لینے کا موقع ملتا تھا۔ ان میں سے کچھ خیالات خام ہوتے تھے اور کچھ ذہانت سے بھرپور۔ لیکن جے این یو نے وہ جگہ فراہم کی جہاں ان خیالات کو بغیر کسی انتقام کے خوف کے آزمایا جا سکتا تھا یا بحث میں شکست دی جا سکتی تھی۔ اس کے بجائے، شرجیل اور عمر کو ان کی زندگی کے پانچ سے زائد بہترین اور تخلیقی برسوں کیلئے قید کر دیا گیا ہے، صرف ان الفاظ کی وجہ سے جو انہوں نے عوامی سطح پر استعمال کرنے کیلئے منتخب کئے۔

اپنی جمہوریہ کے اس ۷۵ ویں سال میں، ہمیں شرجیل اور عمر جیسی شخصیات کو یاد رکھنا چاہئے جو اپنے خیالات کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ایسے لاتعداد لوگ جنہوں نے دوسرے ہندوستانیوں کے خلاف کھلے عام تشدد کی اپیل کی، وہ آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں اور عوامی عہدوں پر فائز ہیں کیونکہ ان کے پاس ’صحیح‘ نام اور ’صحیح‘ سیاسی سرپرست موجود ہیں۔

ہمیں ان تضادات کا شدت سے احساس ہو رہا ہے جن کے بارے میں بی آر امبیڈکر نے ہمیں خبردار کیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان میں جمہوریت صرف ایک اوپری ملمع کاری ہے۔ وہ جانتے تھے کہ جب ہمارا موروثی طور پر غیر منصفانہ اور طبقہ وارانہ سماجی ڈھانچہ جمہوریہ کی سیاسی آزادیوں کو کمزور کرے گا تو پرتشدد تضادات جنم لیں گے۔

جیسا کہ بصیرت افروز اسکالر رحمت تاریکیرے نے اشارہ کیا ہے، ہندوستان کی تاریخ عظیم خیالات پیدا کرنے سے بھری پڑی ہے، لیکن ہماری سماجی حقیقت کبھی ان نظریات سے میل نہیں کھا سکی۔ ایک بہتر دنیا کا کیا امکان رہ جاتا ہے جب ایسے نوجوان جو اس کا خواب دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں سماجی موت (قید) کی طرف دھکیل دیا جائے؟

یہ بھی پڑھئے: جسٹس اے محمد مشتاق نے سکم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا

لیکن مجھے یقین ہے کہ شرجیل اور عمر ان آزمائشوں سے اپنے نظریات کے ساتھ سرخرو ہوکر نکلیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ جیل کی دیواروں کے پیچھے بھی وہ سوچ رہے ہوگے، پڑھ رہے ہوگے اور خواب دیکھ رہے ہوگے اور شاید اس ظالمانہ جگہ کو بھی تبدیل کر رہے ہوگے جہاں انہیں بھیجا گیا ہے۔ یہاں میں فلسطینی شاعر محمود درویش کے ان شاندار الفاظ کا حوالہ دوں گی:

 

یہ ممکن ہے

کم از کم کبھی کبھی یہ ممکن ہے

خاص طور پر اب یہ ممکن ہے

کہ جیل کی کوٹھڑی کے اندر

گھوڑے پر سوار ہوا جائے

اور بھاگ نکلا جائے۔۔۔

 

ممکن ہے کہ جیل کی دیواریں

غائب ہو جائیں،

اور کوٹھڑی ایک دور دراز زمین بن جائے

جس کی کوئی سرحد نہ ہو

تم نے دیواروں کا کیا کیا؟

میں نے انہیں پتھروں کو واپس کر دیا۔

اور چھت کا کیا کیا؟

میں نے اسے زین بنا لیا۔

اور تمہاری زنجیر؟

میں نے اسے پینسل بنا لیا۔

 

جیل کا گارڈ غصے میں آگیا۔

اس نے میری بات ختم کر دی۔

اس نے کہا اسے شاعری سے فرق نہیں پڑتا،

اور میری کوٹھڑی کا دروازہ بند کر دیا۔

وہ صبح مجھ سے ملنے آیا،

وہ مجھ پر چیخا:

یہ سارا پانی کہاں سے آیا؟

میں نے کہا میں اسے دریائے نیل سے لایا ہوں

اور یہ درخت؟

دمشق کے باغات سے

اور یہ موسیقی؟

میرے دل کی دھڑکن سے

 

جیل کا گارڈ پاگل ہو گیا؛

اس نے میری بات ختم کر دی۔

اس نے کہا اسے میری شاعری پسند نہیں،

اور میری کوٹھڑی کا تختہ بند کر دیا۔

 

لیکن وہ شام کو واپس آیا:

یہ چاند کہاں سے آیا؟

بغداد کی راتوں سے۔

اور یہ شراب؟

الجزائر کے انگوروں کے باغوں سے۔

اور یہ آزادی؟

اس زنجیر سے جس سے تم نے کل رات مجھے باندھا تھا،

جیل کا گارڈ بہت اداس ہوا۔۔۔

اس نے مجھ سے بھیک مانگی کہ میں اسے اس کی آزادی واپس دے دوں۔

 

آزادی کے ساتھ دوبارہ ہمارے درمیان آؤ، شرجیل اور عمر۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK