فلسطین پر اپنے مؤقف کے بارے میں حالیہ بحث کے بعد سابق ون ڈائریکشن گلوکار نے جولائی ۲۰۱۴ء کی پوسٹ دوبارہ شیئر کرکے لکھا: ’’الجھے ہوئے لوگوں کے لیے! تاریخ دیکھ لیں۔‘‘
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 7:10 PM IST | London
فلسطین پر اپنے مؤقف کے بارے میں حالیہ بحث کے بعد سابق ون ڈائریکشن گلوکار نے جولائی ۲۰۱۴ء کی پوسٹ دوبارہ شیئر کرکے لکھا: ’’الجھے ہوئے لوگوں کے لیے! تاریخ دیکھ لیں۔‘‘
برطانوی گلوکار زین ملک نے فلسطین کے حوالے سے اپنے مؤقف پر حالیہ بحث کے درمیان ۲۰۱۴ء کی اپنی پرانی ’’#FreePalestine‘‘ پوسٹ دوبارہ شیئر کی۔ سابق ون ڈائریکشن رکن نے اسکرین شاٹ کے ساتھ لکھا، ’’یہ ان تمام الجھے ہوئے لوگوں کے لیے ہے! تاریخ دیکھ لیں‘‘، جس کے ذریعے انہوں نے اپنے فلسطین سے متعلق عوامی مؤقف کی تاریخ کی جانب توجہ دلائی۔ زین ملک نے اصل پیغام ۲۸؍ جولائی ۲۰۱۴ء کو اُس وقت ایکس، جو تب ٹویٹر کہلاتا تھا، پر لکھا تھا۔ اس میں صرف ’’#FreePalestine‘‘ لکھا گیا تھا۔ اس وقت زین ملک ون ڈائریکشن کا حصہ تھے اور غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے دوران ان کی پوسٹ نے عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل کی تھی۔ اس پیغام کو ابتدائی دنوں میں ایک لاکھ سے زیادہ مرتبہ دوبارہ شیئر کیا گیا اور بعد میں اس پر ردعمل کی تعداد مزید بڑھی۔
#FreePalestine.
— zayn (@zaynmalik) July 28, 2014
۲۰۱۴ء کی اس پوسٹ کے بعد زین ملک کو شدید آن لائن ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ بعض صارفین نے ان کے خلاف دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس وقت رپورٹ کیا تھا کہ ان کی پوسٹ تقریباً ڈیڑھ لاکھ مرتبہ دوبارہ شیئر ہوچکی تھی اور بعض ردعمل میں انہیں اپنی جان لینے تک کے لیے کہا گیا۔ زین ملک نے تاہم یہ پوسٹ حذف نہیں کی۔ ۱۲؍ سال بعد اس پرانی پوسٹ کو دوبارہ سامنے لانے کی وجہ زین ملک کا حالیہ ایک کنسرٹ بیان بنا۔ حالیہ جنوبی امریکی دورے کے دوران ایک پرفارمنس میں گلوکار نے موجودہ سیاسی ماحول اور میڈیا کوریج کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں، میرے خیال میں کوئی بھی جان معمولی نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے کہا، ’’سب کو آزاد کرو۔‘‘ اس بیان میں انہوں نے کسی ملک یا تنازع کا نام براہِ راست نہیں لیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مختلف ممالک میں مظاہرے
ان تبصروں کے بعد سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے زین ملک کے موجودہ مؤقف پر سوال اٹھایا اور ان کے بیان کا موازنہ حالیہ دنوں میں امریکی گلوکار میکلمور اور برطانوی گلوکار ایڈ شیرن سے متعلق تنازع سے کیا۔ اسی پس منظر میں زین ملک نے اپنی ۲۰۱۴ء کی پوسٹ دوبارہ شیئر کرتے ہوئے مداحوں سے کہا کہ وہ اس پیغام کی تاریخ دیکھیں۔ زین ملک کا فلسطین سے متعلق مؤقف ۲۰۱۴ء تک محدود نہیں رہا۔ مئی ۲۰۲۱ء میں غزہ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی کے دوران انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا تھا اور فلسطینی بچوں اور خاندانوں کے جانی نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ خاموش تماشائی نہیں بنا جاسکتا۔ انہوں نے اسی پیغام کے اختتام پر ایک بار پھر ’’فری فلسطین‘‘ کا نعرہ استعمال کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:میکلمور تنازع: ایڈ شیرن کے اگلے شو میں ’خصوصی مہمان‘ شامل ہوگا
ان کے ۲۰۱۴ء کے پیغام کو اس وقت بھی خاص اہمیت حاصل ہوئی تھی کیونکہ وہ ون ڈائریکشن کے رکن کی حیثیت سے دنیا کے مقبول ترین نوجوان گلوکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ اس ایک جملے نے ان کے لاکھوں مداحوں کے درمیان سیاسی بحث چھیڑ دی تھی اور بعض مداحوں نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ دیگر نے ان کے موقف کی حمایت کی۔ اس وقت ان کے ساتھی موسیقاروں کے حلقے سے بھی ان کے حق میں آوازیں سامنے آئی تھیں۔ زین ملک نے حالیہ پوسٹ میں کوئی نیا تفصیلی سیاسی بیان جاری نہیں کیا بلکہ ۲۰۱۴ء کے اپنے پیغام کی طرف اشارہ کیا۔ اس لیے ان کی تازہ سرگرمی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ وہ اپنے فلسطین سے متعلق سابقہ عوامی مؤقف کو موجودہ بحث کے تناظر میں دوبارہ سامنے لائے ہیں۔ ان کی اصل ۲۰۱۴ء کی پوسٹ بھی اب ان کے موجودہ سوشل میڈیا ردعمل کا حصہ بن گئی ہے۔