Updated: September 04, 2026, 8:03 PM IST
| Mumbai
ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے مارکیٹ میں موجود اضافی لیکویڈیٹی کو معمول پر لانے کے اقدامات کے درمیان اپریل ۲۰۲۷ ءتک ریپو ریٹ بڑھ کر ۶ ؍فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ اندازہ جمعہ کو جاری ہونے والی بندھن اے ایم سی کی ایک رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے۔
ریپوریٹ۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے مارکیٹ میں موجود اضافی لیکویڈیٹی کو معمول پر لانے کے اقدامات کے درمیان اپریل ۲۰۲۷ ءتک ریپو ریٹ بڑھ کر ۶ ؍فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ اندازہ جمعہ کو جاری ہونے والی بندھن اے ایم سی کی ایک رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں فکسڈ انکم یعنی مقررہ آمدنی والے سرمایہ کاروں کو اس وقت ایک پیچیدہ معاشی ماحول کا سامنا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ کے باعث مانیٹری پالیسی کو معمول کی سطح پر لانے کے عمل میں تیزی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی زرمبادلہ کے داخل ہونے کی وجہ سے روپے کی لیکویڈیٹی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اوور نائٹ شرح سود پالیسی ریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر نیچے چلی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسمرتی مندھانا کی ریکارڈ سنچری اننگز سے ہندوستان ناک آؤٹ میں
بندھن اے ایم سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ میں شرح سود کو آر بی آئی کی پالیسی کے ساتھ دوبارہ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ یہ عمل اس رفتار پر منحصر ہوگا جس تیزی سے مرکزی بینک مانیٹری پالیسی کو معمول کی جانب لے جانے کے اقدامات کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس عمل میں اوور نائٹ ریٹ کو پالیسی ریٹ کے مطابق دوبارہ ترتیب دینا، درمیانی مدت میں اضافی لیکویڈیٹی کو جذب کرنے کے طریقوں پر غور کرنا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر مانیٹری پالیسی کمیٹی(ایم پی سی ) کی جانب سے ریپو ریٹ کو معمول کی سطح پر لانے کی رفتار طے کرنا شامل ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں لیکویڈیٹی کو معمول پر لانے کی رفتار کے حوالے سے آر بی آئی کے پاس بہت زیادہ گنجائش موجود نہیں ہے کیونکہ مارکیٹ میں کئی عوامل بیک وقت اثرانداز ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ کو لیکویڈیٹی کے انتظام کے لیے کچھ عارضی اور مستقل اقدامات کی توقع ہے۔ ان اقدامات میں فاریکس سوئپ، مارکیٹ اسٹیبلائزیشن اسکیم (ایم ایس ایس ) کے تحت بانڈز، اوپن مارکیٹ آپریشنز(او ایم او ) کے ذریعے بانڈز کی فروخت اور ممکنہ طور پر کیش ریزرو ریشو (سی آر آر) میں اضافہ شامل ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں مشرق وسطیٰ میں ایک مرتبہ پھر بڑھنے والے تناؤ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو بھی ہندوستانی معیشت کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ توانائی کے علاوہ زرعی مصنوعات سمیت مختلف کموڈیٹیز کی قیمتوں پر بھی وسیع پیمانے پر دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں مانسون کا رجحان غیر یکساں رہا ہے، تاہم مجموعی اقتصادی سرگرمیاں مضبوط ہیں اور ہندوستان میں کریڈٹ تقریباً ۱۸؍ فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔
بندھن اے ایم سی نے کہا کہ عالمی اور مقامی دونوں حالات مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں، اگرچہ اب تک دستیاب مہنگائی کے اعداد و شمار آر بی آئی کے لیے نسبتاً اطمینان بخش رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، کموڈیٹیز پر دباؤ اور عالمی سطح پر قیمتوں میں ممکنہ تیزی آنے والے عرصے میں مہنگائی کے منظرنامے کو متاثر کرسکتی ہے۔ ایسے ماحول میں مرکزی بینک کے لیے پالیسی فیصلوں میں محتاط توازن برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے سَیف علی خان سے اپنے خاندانی رشتے کا انکشاف کیا
رپورٹ کے مطابق آر بی آئی کی گزشتہ پالیسی میٹنگ کے منٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اراکین کا موقف نسبتاً زیادہ سخت رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پالیسی ساز مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو لے کر پہلے کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر قیمتوں کے دباؤ میں اضافے کے پیش نظر ایم پی سی کے اراکین موجودہ پالیسی کے رخ کو لے کر مزید محتاط یا غیر مطمئن ہوسکتے ہیں۔ مجموعی طور پر، اضافی لیکویڈیٹی، روپے کی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی نقدی، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے ممکنہ دباؤ کے درمیان آر بی آئی کے لیے آنے والے مہینوں میں پالیسی کو معمول پر لانا ایک اہم چیلنج ہوگا۔