Updated: February 15, 2026, 7:04 PM IST
| New Delhi
ایک رپورٹ کے مطابق ۲۵۔۲۰۲۴ء میں الیکٹورل ٹرسٹس کے ذریعے تقسم کئے گئے فنڈز کا ۸۲؍ فیصد بی جے پی کو دیا گیا، سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز (سی بی ڈی ٹی) کے ساتھ رجسٹرڈ۲۰؍ انتخابی ٹرسٹس میں سے پندرہ نے مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء کے لیے اپنی عطیات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرائیں۔ ان میں سے۱۰؍ نے سال کے دوران عطیات موصول ہونے کی اطلاع دی۔
جمعہ کو ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (ADR) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء میں انتخابی ٹرسٹس کی طرف سے تقسیم کردہ ۳۸۲۶۳؍کروڑ روپے میں سے۸۲؍ فیصد سے زیادہ رقم حاصل کی۔رپورٹ میں الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے عطیات کے دستاویز کا تجزیہ کیا گیا۔سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز (سی بی ڈی ٹی) کے ساتھ رجسٹرڈ۲۰؍ انتخابی ٹرسٹس میں سے پندرہ نے مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء کے لیے اپنی عطیات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرائیں۔ ان میں سے۱۰؍ نے سال کے دوران عطیات موصول ہونے کی اطلاع دی۔
واضح رہے کہ الیکٹورل ٹرسٹس کو۲۰۱۳ء کے الیکٹورل ٹرسٹس اسکیم کے تحت متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ کمپنیوں اور افراد سے رضاکارانہ عطیات وصول کرنے اور ان کا کم از کم۹۵؍ فیصد عوامی نمائندگی ایکٹ،۱۹۵۱ء کے تحت رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔ اس طرح کے ٹرسٹس کی منظوری سی بی ڈی ٹی کی طرف سے دی جاتی ہے اور یہ تجدید کے پابند ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مالی سال میں سیاسی جماعتوں میں ۳۸۲۶؍ اعشاریہ ۳؍کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ۳۸۵۷؍ اعشاریہ ۶؍کروڑ روپے موصول ہوئے، جو کل تقسیم شدہ فنڈز کا۸۲؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد ہے۔کانگریس کو۲۹۸؍ اعشاریہ ۷؍ کروڑ روپے (۷؍ اعشاریہ ۸؍فیصد) موصول ہوئے، جبکہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے۱۰۲؍ کروڑ روپے (۲؍ اعشاریہ ۶؍فیصد) حاصل کیے۔ انیس دیگر جماعتوں کو مجموعی طور پر۲۶۷؍ اعشاریہ ۹؍ کروڑ روپے موصول ہوئے۔
ان ٹرسٹس میں سے، پرڈنٹ الیکٹورل ٹرسٹ نے ۱۵؍ سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ ۲۶۶۸؍ اعشاریہ ۴؍کروڑ روپے تقسیم کیے۔ اس کے بعد پروگریسیو الیکٹورل ٹرسٹ نے ۱۰؍ جماعتوں میں۹۱۴؍ اعشاریہ ۹؍ کروڑ روپے تقسیم کیے۔اے ڈی آر نے کہا کہ۲۲۸؍ کارپوریٹ یا کاروباری اداروں نے ۳۸۳۶؍ اعشاریہ ۸؍کروڑ روپے کا تعاون کیا، جبکہ۹۹؍ افراد نے ۱۸۷؍ اعشاریہ ۶؍کروڑ روپے عطیہ کیے۔تاہم سرفہرست ۱۰؍ عطیہ دہندگان کا مجموعی حصہ۱۹۰۸؍ اعشاریہ ۸؍ کروڑ روپے تھا، جو کل عطیات کا تقریباً ۴۹؍ اعشاریہ ۸؍فیصد ہے۔ایلیویٹیڈ ایونیو ریئیلٹی ایل ایل پی واحد سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا، جس نے۵۰۰؍ کروڑ روپے کا تعاون کیا۔ اس کے بعد ٹاٹا سنز پرائیویٹ لمیٹڈ نے ۳۰۸؍ اعشاریہ ایک کروڑ روپے اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز لمیٹڈ نے ۲۱۷؍ اعشاریہ ۶؍کروڑ روپے عطیہ کیے۔
ریاست کے لحاظ سے، مہاراشٹر۱۲۲۵؍ اعشاریہ ۴؍ کروڑ روپے کے ساتھ عطیات کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ اس کے بعد تلنگانہ (۳۵۸؍ اعشاریہ ۲؍کروڑ روپے)، ہریانہ (۲۱۲؍ اعشاریہ ۹؍ کروڑ روپے)، مغربی بنگال ۲۰۳؍ اعشاریہ ۸؍ کروڑ روپے) اور گجرات ۲۰۰؍ اعشاریہ ۵؍کروڑ روپے) کا نمبر آتا ہے۔ بعد ازاں فروری۲۰۲۴؍ میں، سپریم کورٹ نے یہ حکم دیتے ہوئے کہ یہ معلومات کے حق، آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے اور عطیہ دہندگان اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاداتی سودے بازی کا باعث بن سکتی ہے،الیکٹورل بانڈ اسکیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔