Inquilab Logo Happiest Places to Work

حزب اللہ کے ڈرون جنوبی لبنان میں۸۰؍ فیصد اسرائیلی حملے ناکام کر رہے ہیں: رپورٹ

Updated: May 22, 2026, 3:06 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے ’’کان‘‘ کے مطابق حزب اللہ کے ڈرون جنوبی لبنان میں۸۰؍ فیصد اسرائیلی حملے ناکام کر رہے ہیں، اس کے علاوہ فوج کو ڈرون کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری آلات کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے KAN کے مطابق، حزب اللہ کے ذریعے استعمال کردہ ڈرون جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی تقریباً۸۰؍ فیصد کارروائیوں کو ناکام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج کو ڈرون کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری آلات کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ ’’ کان‘‘ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کا اندازہ ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون نے فوج کی آپریشنل آزادی کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور فوجی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ڈرون حملوں کے خدشے کی وجہ سے دن کی روشنی میں بھی بہت سی فوجی کارروائیاں ممکن نہیں رہیں۔ اس کے علاوہ آلات کی کمی کے باعث ہر کمپنی میں صرف محدود تعداد میں فوجیوں کو اینٹی ڈرون آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔

بعد ازاں KAN نے اسرائیلی فوجی خفیہ ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ نے حالیہ دنوں میں منظم کمانڈ ڈھانچے سے ہٹ کر گوریلا طرزِ جنگ اختیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق، گروپ تیزی سے حملے کرنے والے چھوٹے گروہ پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔اس سے قبل پیر کو حزب اللہ نے کہا کہ اس نے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوج اور گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل سے۱۱؍ حملے کیے، جو اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کیبل بچھانے کی فیس وصول کرے گا

چنانچہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کے ڈرون کو ’’بڑا خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے فوج سے اس کا حل تلاش کرنے کی ہدایت دیہے۔واضح رہے کہ حزب اللہ نے متعدد ایسی ویڈیو جاری کی ہیں، جہاں اس کے ڈرون بلا روک ٹوک اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں پرواز کررہے ہیں، ساتھ ہی مناسب ہدف تلاش کرنے کے بعد وہ ہدف سے ٹکرا کر دھماکے سے اڑ جاتے ہیں، جس کے ساتھ ہی وہ ہدف بھی تباہ ہو جاتاہے، ان اہداف میں اسرائیلی فوجی گاڑیاں، بلڈوزر، ٹینک، اور فوجی تنصیبات شامل ہیں، چونکہ ان کی پرواز زمین سے کم بلندی پر ہوتی ہے، لہٰذا یہ راڈار کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ اس طرح کے اچانک حملوں نے اسرائیلی فوجیوںکے دلوں میں انجانا خوف پید کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK