ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے باعث پیدا ہونے والی بے چینی ہندوستانی آئی ٹی کارکنوں کو خودکشی کی طرف مائل کررہی ہے، مزید یہ کہ مصنوعی ذہانت کے عروج کے باعث ہندوستانی ٹیک انڈسٹری میں ذہنی صحت کی صورت حال تشویشناک ہے۔
EPAPER
Updated: January 31, 2026, 2:06 PM IST | New Delhi
ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے باعث پیدا ہونے والی بے چینی ہندوستانی آئی ٹی کارکنوں کو خودکشی کی طرف مائل کررہی ہے، مزید یہ کہ مصنوعی ذہانت کے عروج کے باعث ہندوستانی ٹیک انڈسٹری میں ذہنی صحت کی صورت حال تشویشناک ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت ہندوستانی آئی ٹی کارکنوں کو خودکشی کی طرف دھکیل رہی ہے۔’’ ریسٹ آف ورلڈ‘‘کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کام کے طویل اوقات اور اے آئی کے ساتھ قدم ملانے کے دباؤ نے آئی ٹی کارکنوں کو یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے عروج کے باعث ہندوستانی ٹیک انڈسٹری میں ذہنی صحت کی صورت حال تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اے آئی ہندوستان میں آئی ٹی کارکنوں میں بے چینی پیدا کر رہی ہے اور جب یہ مشکل ترین کام کے اوقات کے ساتھ ملتی ہے تو خودکشی کی ایک لہر کو جنم دے رہی ہے۔ اگرچہ اموات اور اس بات کے تعلق کو ثابت کرنے کیلئےکوئی واضح اعداد وشمار دستیاب نہیں ہے کہ آیا یہ آئی ٹی کارکنوں میں زیادہ عام ہیں، تاہم ’’ریسٹ آف ورلڈ‘‘کا کہنا ہے کہ ماہرین کے حوالے سے اے آئی نے ایک ’’انتہائی تشویشناک‘‘ صورتحال پیدا کر دی ہے۔
دریں اثناء ادارے نے مقامی خبروں کے تجزیے میں پایا کہ۲۰۱۷ء سے۲۰۲۵ء کے درمیان ہندوستانی ٹیک ورکرز میں خودکشی کے۲۷۷؍ واقعات درج ہوئے۔ ان واقعات میں چنئی کی ایک سافٹ ویئر کمپنی کے۴۸؍ سالہ مینیجر کا واقعہ شامل ہے جس نے اپنی عمارت سے چھلانگ لگا دی۔بعد ازاں پولیس کا کہنا تھا کہ اس شخص نے کام کے دباؤ کے باعث یہ انتہائی قدم اٹھایا۔مزید یہ کہ پونے کے ایک۳۶؍ سالہ آئی ٹی ورکر نے دریا میں چھلانگ لگا دی، اور اس کی بہن نے اس واقعے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ ایک۳۸؍ سالہ سافٹ ویئر انجینئر نے خود کو بجلی کے جھٹکے سے ہلاک کر لیا، جس کی وجہ میڈیا رپورٹس کے مطابق کام کے دباؤ کے باعث پیدا ہونے والا ’’ پریشن‘‘ بتائی گئی۔ تاہم ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑگ پور کے سینئر پروفیسر برائے کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ، جےانت مکھوپادھیائے نے’’ریسٹ آف ورلڈ‘‘ کو بتایا کہ اے آئی کی وجہ سے ٹیک ملازمین اپنی ملازمتوں کے حوالے سے ’’زبردست غیر یقینی صورت حال‘‘ کا شکار ہیں۔ اس نے کمپنیوں کو لاگت میں کمی کے لیے اس ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹری لیول نوکریاں سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، اور ہندوستان کی آئی ٹی انڈسٹری بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔۲۰۲۵ء میں، امریکی ٹیک سیکٹر نےڈیڑھ لاکھ نوکریاں ختم کیں۔کورنیل یونیورسٹی کے آئی ٹی اسسٹنٹ پروفیسر ادیہ وششٹھ کے مطابق، کسٹمر سروس رپریزنٹیٹو جیسی نوکریاں پہلے متاثر ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے ’’ریسٹ آف ورلڈ‘‘ کو بتایا، ’’سروس انڈسٹری میں روایتی کنسلٹنگ کا کردار روایتی پروڈکٹ ڈویلپمنٹ کمپنیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر ہونے والا ہے۔‘‘ ٹی سی ایس نے گزشتہ سال اکتوبر میں مصنوعی ذہانت اور امریکہ-ہندوستان کے کشیدہ تجارتی تعلقات کے دوہرے دباؤ کے درمیان تقریباً ۲۰؍ ہزار ملازمین کو برطرف کر دیا تھا۔ بعد ازاں کمپنی اے آئی اور آٹومیشن کی قیادت والی خدمات کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے تحت مارچ ۲۰۲۶ء تک عالمی لیبر فورس میں دو فیصد کمی متوقع ہے۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف ٹائم زون میں پھیلے طویل کام کے اوقات نے کارکنوں میں تنہائی کو جنم دیا ہے، اور جو ملازمت پر ہیں وہ اپنی نوکریاں جانے کے مستقل خطرے سے دوچار ہیں۔ `’’ریسٹ آف ورلڈ‘‘نے اس معاملے پر بڑھتی ہوئی بے چینی کے شکار کارکنوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے بعض نے انتہائی قدم بھی اٹھایا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جو لوگ اے آئی کی قیادت والی نئی دنیا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ بھی شاید اس کے ساتھ نہ چل سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں، اے آئی کی دنیا میں آئی ٹی سروسز میں کام کرنے کے لیے بہت کم لوگوں کی ضرورت ہوگی۔