Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھاراوی: ۳؍ پولیس اسٹیشنوں کا نوٹس مگر جن آکروش مورچہ نکالنے پر ذمہ داران اٹل

Updated: May 04, 2026, 12:31 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اتوار کو چھٹی کے باوجود سائن پولیس اسٹیشن میں شاہو نگر اور دھاراوی پولیس اسٹیشنوں کے سینئر انسپکٹروں کی موجودگی میں دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ پولیس نے ایڈیشنل پولیس کمشنر کی جانب سے اجازت نہ دینے کا حوالہ دیا ۔ مورچے کے تعلق سے شیو سینا اور کانگریس کی الگ الگ میٹنگ بھی کی گئی۔

Police officers and officials discussing the protest at the Sign Police Station. (Photo: Inquilab)
سائن پولیس اسٹیشن میں پولیس افسران اور ذمہ داران مورچہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے۔ (تصویر: انقلاب)

پیر۴؍ مئی  (آج) کی  صبح۱۱؍ بجے  دھاروی بچاؤ آندولن کی جانب سے جن آکروش مورچہ نکالا جانے والا ہے۔ ری ڈیولپمنٹ کرنے والی اڈانی کمپنی کے ذریعے ۸۵؍ فیصد سے زائد مکینوں کو نااہل قرار دینے اور رجسٹریشن ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف یہ جن آکروش مورچہ کمہارواڑہ ناکہ پر بسم اللہ ہوٹل کے قریب سے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے دفترتک نکالا جائے گا۔

اس کے تعلق سے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی گئی ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ایک نہیں دھاراوی، شاہو نگر اور سائن تینوں پولیس اسٹیشنوں کی جانب سے دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران کو سنیچر کو نوٹس دیا گیا اور حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اتوار کو چھٹی ہونے کے باوجود سائن پولیس اسٹیشن میں تینوں پولیس اسٹیشنوں کے سینئرافسروں کی موجودگی میں ذمہ داران کی میٹنگ بلائی گئی ۔ میٹنگ کے دوران سینئر انسپکٹر راجو بڈکر نے بتایا کہ ایڈیشنل پولیس کمشنر نے منع کیا ہے، مورچے کیلئے اجازت نہیں دی ہے مگر دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران بضد ہیں کہ وہ ہرحال میں مورچہ نکالیں گے اور اس معاملے میں ہورہی ناانصافی  کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پڑگھا: قبائلی علاقوں میں جنگلاتی زمینوں پر قبضہ جا ت کیخلاف کارروائی

  تینوں پولیس اسٹیشنوں کے ذریعے جاری کردہ نوٹس میں دیگر تفصیلات کے ساتھ یہ حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ شہر میں ۲۱؍ مئی تک دفعہ ۱۴۴؍ نافذ ہے اور ۴؍   سے زائدافراد کے  جمع ہونے کی ممانعت ہے۔ دھرنا، آندولن، احتجاج اور مظاہرے کیلئے عدالت کی جانب سے آزاد میدان میں جگہ مقرر کی گئی ہے۔ اس نوٹس میں یہ انتباہ دیتے ہوئے بھی ذمہ داران پر زور ڈالا گیا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے اور نقصان کی بھرپائی بھی آپ سے کروائی جائے گی ۔ یہ نوٹس آپ لوگوں کے خلاف عدالت میں ثبوت اور شہادت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

پولیس کے اس انتباہ اور میٹنگ کے باوجود دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران نے نمائندہ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جن آکروش مورچہ نکالا جائے گا اور ہم مقررہ جگہ سے آگے بڑھیں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مورچہ آگے بڑھنے کی شاید پولیس اجازت نہیں دے گی اور ایک وفد کو ڈی آر پی اے کے سربراہ سے ملاقات کرائے گی اور وفد انہیں اپنا میمورنڈم سونپے گا۔

اس تعلق سے دھاراوی کے رہنے والوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل ہوں اور ہونے والی ناانصافی اور زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں۔

یہ بھی پڑھئے: عازمین حج کے متعدد مسائل پر حج کمیٹی کے سی او سے ملاقات

ذمہ داران کی جانب سے انقلاب کو یہ بھی بتایا گیا کہ جن  آکروش مورچہ کی قیادت مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شیو سینا کے رکن اسمبلی  امباداس دانوے کریں گے۔ اسی طرح شیوسینا کے مقامی رکن پارلیمان انل دیسائی، کانگریس کی رکن پارلیمان  ورشا گائیکواڑ، کانگریس کی مقامی رکن اسمبلی جیوتی گائیکواڑ، شیو سینا کےرکن اسمبلی مہیش ساونت، سماج وادی پارٹی  کے صدر رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی،  سی پی  آ ئی  کے سیکریٹری شیلندر کامبلے، شیو سینا کے سابق رکن اسمبلی بابو راؤ مانے، سابق میئر کشوری پیڈنیکر،  ملند انا کامبلے، کارپوریٹر جوزف کولی، آشا دیپک کالے، ارچنا شندے، ببو خان، ہرشلا آشیش مورے، ٹی ایم جگدیش، دھاراوی ریسکیو موومنٹ کے کوآرڈینیٹر نصیر الحق، الیش گجاکوش اور  بزنس مین اسوسی ایشن وغیرہ کے ذمہ داران مورچے میں پیش پیش ہوں گے۔

مورچہ کیلئے میٹنگیں

جن آکروش مورچے میں بڑی تعداد میں شرکت اور پوری قوت سے آواز بلند کرنے کیلئے شیوسینا ادھو بالاصاحب ٹھاکرے اور کانگریس کی جانب سے الگ الگ میٹنگیں بھی کی گئیں۔ اس میں مورچے کو کامیاب بنانے اور بڑی تعداد میں دھاراوی واسیوں کی شرکت یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی: گریش مہاجن سے تکرار کرنے والی خاتون کی ویڈیو کے ذریعے واقعہ کی وضاحت

۵؍اہم مطالبات 

 (۱) دھاراوی کے تمام۶؍ سیکٹرز میں تقریباً ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو نااہل قرارنہ دیا جائے۔ اس مقصد کیلئے الگ جی آر جاری کیا جائے۔۴؍ اکتوبر۲۰۲۴ء کے جی آر کو منسوخ کیا جائے۔ (۲) دھاراوی کے تمام باشندوں کو دھاراوی میں ہی۵۰۰؍ مربع فٹ کا مکان دیا جانا چاہئے۔۵۰۰؍ مربع فٹ سے زیادہ جگہ والے چوکیوں اور بی ایم سی علاقوں میں رہنے والوں کو۷۵۰؍ مربع فٹ کا مکان دیا جائے۔۷۵۰؍ مربع فٹ یا اس سے زیادہ جگہ رکھنے والوں کو کم از کم اتنی جگہ دی جانی چاہئے جو ان کے پاس ہے۔ (۳) اقتصادی زون بنا کر تمام دکانوں، کارخانوں، صنعتوں اور کاروباروں کو دھاراوی کے اندر جگہ فراہم کی جائے (۴) دھاراوی کو صرف مندروں، مساجد، گرجا گھروں، گراؤنڈز، پویلینز، اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں سمیت تمام مذہبی مقامات کیلئے مناسب رہائش فراہم کرکے دوبارہ تیار کیا جانا چاہئے اور (۵) تمام رہائشیوں کو۲۰؍ سال تک تمام ٹیکس اور سماجی اخراجات سے مستثنیٰ ہونا چاہئے۔ 

ان مطالبات کو مورچے سے متعلق شائع کردہ پمفلٹ میں بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید۱۰؍ مطالبات اور بھی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK