ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے روسی صدر پوتن سے درخواست کی ہے کہ وہ ایران تک یہ پیغام پہنچادے کہ اسرائیل کا ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جبکہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی میڈیا میں ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
EPAPER
Updated: January 06, 2026, 5:01 PM IST | Moscow
ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے روسی صدر پوتن سے درخواست کی ہے کہ وہ ایران تک یہ پیغام پہنچادے کہ اسرائیل کا ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جبکہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی میڈیا میں ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، وزیر اعظم نیتن یاہو نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے درخواست کی کہ وہ ایران کو یقین دہانی کروائیں کہ تل ابیب کا ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ درخواست ایران کی جانب سے پیشگی حملے کے خدشات کے درمیان کی گئی۔نامعلوم سفارتی ذرائع کے حوالے سے سرکاری نشریاتی ادارے کان نے بتایا کہ نیتن یاہو نے پوتن سے کہا کہ وہ ایران کو ’’یقین دہانی‘‘ کا پیغام پہنچائیں کہ اسرائیل کا حملے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق، یہ پیغامات حال ہی میں ایران تک پہنچائے گئے، جن میں نیتن یاہو اور پوتن کے درمیان فون کال بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ اقدام اس خوف کے پیش نظر کیا گیا کہ ایران ممکنہ اسرائیلی حملے کو روکنے کے لیے پیشگی حملہ کر سکتا ہے۔کان کے مطابق، روسی صدر نے گزشتہ اکتوبر میں کہا تھا کہ ان سے ایران کو یہ پیغام پہنچانے کی درخواست کی گئی تھی کہ’’ اسرائیل تصادم میں دلچسپی نہیں رکھتا۔‘‘ تاہم نیتن یاہو نے پیر کو کنیسٹ سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ایران کو پیغام بھیجا ہے کہ اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو اس کے ’’سخت نتائج‘‘ بھگتنے ہوں گے۔کان کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ایران کی طرف سے کوئی غلط اندازہ اسرائیلی حملے کے خوف سے جارحیت کا باعث بن سکتا ہے۔حالیہ ہفتوں میں، اسرائیلی سیاسی اور سلامتی لیڈروں نے ایرانی فائل سمیت مختلف سلامتی مسائل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ماسکو منتقل ہو سکتے ہیں: دی ٹائمز
دریں اثناء اسرائیلی میڈیا میں ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ یہ خبر ہے کہ ایران اپنے ’’بیلسٹک میزائل پروگرام کی تعمیر نو‘‘ کر رہا ہے۔ یہ یاد رہے کہ اسرائیل نے جون میں ایران کے خلاف۱۲؍ روزہ جنگ چھیڑی تھی، جس کے جواب میں ایران نے ڈرون اور میزائل حملے کیے تھے۔اسرائیل نے اس پیمانے پر ایرانی حملوں کی توقع نہیں کی تھی ، تاہم ان حملوں نے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ امریکی فوج نے حملے کے دوران بنکر بسٹر بم استعمال کرتے ہوئے ایران کے تین بڑے جوہری مراکز فورڈو، ناطانز اور اصفہان کو نشانہ بنایا۔بعد ازاں امریکی ثالثی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا۔