Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں بہتری کی رپورٹ

Updated: June 26, 2026, 5:04 PM IST | Tehran

امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت معمول کی سطح پر آ رہی ہے، جو کہ ۷۸؍ بحری جہازوں کے برابر جنگ سے پہلے کی سطح کے ۵۷؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

Hormuz.Photo:INN
ہرمز۔ تصویر:آئی این این

 امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت معمول کی سطح پر آ رہی ہے، جو کہ ۷۸؍ بحری جہازوں کے برابر جنگ سے پہلے کی سطح کے ۵۷؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اطلاع جمعہ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں دی گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:۷۱؍فیصد ہندوستانی شہریوں کی فٹبال ورلڈ کپ وزیٹر ویزا درخواست مسترد

ایس اینڈ پی گلوبل نے رپورٹ میں کہا’’عمان اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کی جانب سے عمانی ساحل کے ساتھ گزرنے کے لیے ایک نئے محفوظ کوریڈور کا اعلان کرنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں بہتری آئی ہے۔‘‘کل ٹریفک کا ۴۰؍ فیصد سے زیادہ، یا ۳۳؍ بحری جہاز دن کے وقت اس راستے سے گزرے۔ ان میں سے ۲۵؍ باہر جانے والے تھے، اور آٹھ کو ’’ڈارک‘‘ (نامعلوم) موڈ میں کام کرتے دیکھا گیا۔ دوسرے جہاز ایرانی سمندری سرحد کے قریب سے گزرے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے’’جب کہ خلیج میں منتقل ہونے والے زیادہ تر بحری جہاز لڑائی شروع ہونے کے بعد سے پھنسے ہوئے ہیں، حال ہی میں داخل ہونے والے کچھ بحری جہاز اب روانہ ہو رہے ہیں، جو معمول پر واپسی اور نیویگیشن کی آزادی کی بتدریج بحالی کا اشارہ ہے۔‘‘ مجموعی طور پر، جہازوں کی نقل و حرکت میں ۲۲؍ تیل اور کیمیائی ٹینکرز، ۲۱؍ بلک کیریئرز، ۱۲؍ کارگو جہاز، سات کنٹینر جہاز، چار ایل پی جی ٹینکرز، اور دو ایل این جی ٹینکرز شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے:رتیک روشن نے رجنی کانت کے ساتھ ’’جیلر ۲‘‘ کی شوٹنگ مکمل کی


کل ٹریفک میں سے آنے والے بحری جہازوں کا ۳۷؍ فیصد ٹریفک تھا اور ان میں سے  ۴۱؍ فیصد بحری جہاز ایران سے متعلق تھے۔اس کے علاوہ،۲۴؍ جون کو دس خام تیل کے ٹینکر منتقل ہوئے، جن میں پانچ وی ایل سی سیز اور تین سوئز میکس جہاز شامل تھے، جب کہ دو وی ایل سی سیز  خلیج میں منتقل ہو رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ۱۲؍ پروڈکٹ ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں سے آدھے آنے والے اور آدھے باہر جانے والے تھے۔ صرف ایک بٹومین ٹینکر   ویراج   ایران سے منسلک ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK