اقوام متحدہ کے حقوق کے دفتر نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں میں ملوث کاروباری اداروں کی فہرست میں۶۱؍ کمپنیاں شامل کر دیںاپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا بیس میں اب۱۱؍ ممالک کی۲۱۴؍ کمپنیاں شامل ہیں؛جبکہ ۵؍ کمپنیاں ہٹا دی گئیں۔
EPAPER
Updated: September 27, 2026, 3:02 PM IST | New York
اقوام متحدہ کے حقوق کے دفتر نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں میں ملوث کاروباری اداروں کی فہرست میں۶۱؍ کمپنیاں شامل کر دیںاپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا بیس میں اب۱۱؍ ممالک کی۲۱۴؍ کمپنیاں شامل ہیں؛جبکہ ۵؍ کمپنیاں ہٹا دی گئیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے جمعہ کے روز مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق مخصوص سرگرمیوں میں ملوث کاروباری اداروں کے اپنے ڈیٹا بیس میں۶۱؍ کمپنیاں شامل کیں، جس سے۱۱؍ ممالک کی کل۲۱۴؍ کمپنیاں ہو گئیں۔فہرست میں شامل کمپنیاں اسرائیل، جنوبی افریقہ، چین، امریکہ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، اسپین، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور میکسیکو میں مقیم ہیں۔دفتر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، تازہ ترین اپ ڈیٹ گزشتہ سال کے جائزے کے بعد زیر غور رہنے والی۳۸۱؍ کمپنیوں میں سے۱۲۶؍ کے جائزے کے بعد کیا گیا۔ جبکہ پہلے فہرست میں شامل پانچ کمپنیاں اس وقت ہٹا دی گئیں جب دفتر نے یہ ماننے کی معقول بنیادیں پائیں کہ مخصوص سرگرمیوں میں ان کی شمولیت ختم ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بن گویر کے دور میں ۲۸؍ فیصد اسرائیلی پولیس اہلکار فورس سے نکل گئے
دریں اثناءاپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا بیس میں بڑے آن لائن بکنگ پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں، نیز بینکنگ اور مالیاتی خدمات، ٹیلی کمیونیکیشن، تعمیرات، نقل و حمل، توانائی، زراعت، خوراک کی پیداوار، کچرے کے انتظام اور مہمان نوازی کے شعبوں میں کام کرنے والے کاروبار بھی شامل ہیں۔ بعد ازاں دفتر نے کہا کہ۲۱۴؍ کمپنیوں میں سے۲۰۰؍ کو خود ارادیت کے حق پر منفی اثرات میں معاون قرار دیا گیا، جبکہ۱۴؍ کو ایسے اثرات سے براہ راست منسلک سمجھا گیا۔ تاہم کسی کو بھی اس زمرےمیں نہیں رکھا گیا، جس کے لیے ایسی سرگرمیاں درکار ہوتی ہیں جو بذات خود لوگوں کی انسانی حق سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: ہم پر دوبارہ حملہ کیاگیا تو جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے:ایران
اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا، ’’یہ رپورٹ کمپنیوں کے لیے ایک اور یاد دہانی ہے کہ ان پر انسانی حقوق کی ذمہ داریاں عائد ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مناسب جانچ پڑتال کریں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا زیادتیوں میں ملوث نہ ہوں۔‘‘ واضح رہے کہ یہ ڈیٹا بیس پہلی بار۲۰۲۰ء میں جاری کیا گیا تھا اور اس کے بعد۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۵ء میںاپ ڈیٹ کیا گیا۔ فی الوقت شامل کمپنیوں کی مکمل فہرست، نیز تازہ ترین اپ ڈیٹ میں ہٹائی گئی کمپنیوں کی فہرست، رپورٹ کے ساتھ شائع کی گئی۔
ذہن نشین رہے کہ تقریباً۷۵۰۰۰۰؍قابض اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں۱۵۶؍ غیر قانونی بستیوں اور۳۶۰؍ بستیوں کی چوکیوں میں رہتے ہیں، بشمول مقبوضہ مشرقی یروشلم۔ جبکہ اقوام متحدہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتی ہے اور بار بار خبردار کرتی رہی ہے کہ بستیوں کی سرگرمیاں دو ریاستی حل کے نفاذ کے امکان کو کمزور کرتی ہیں۔