Inquilab Logo Happiest Places to Work

انسانی سرگرمیوں کے سبب سمندر کی سطح میں ایک دہائی میں دگنا اضافہ: رپورٹ

Updated: June 11, 2026, 12:54 PM IST | New York

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی سرگرمیوں سے دنیا کے سمندر پر شدیددباؤ پڑ رہا ہے، جبکہ سطح سمندر میں اضافے کی شرح ایک دہائی میں دگنی ہو گئی ہے، اس کے علاوہ اس رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی، بڑے پیمانے پر صنعتی ماہی گیری، اور بے قابو آلودگی کے سمندری ماحول پر پڑنے والے شدید اثرات کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: ایکس (فائل فوٹو)

اقوام متحدہ (یو این) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے سمندر بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے سمندری ماحولیاتی نظام شدید اور بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہے، جبکہ گزشتہ دہائی کے دوران عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں اضافے کی شرح دگنی ہو گئی ہے۔ ’’ورلڈ اوشین ڈے‘‘ کے موقع پر جاری کردہ اقوام متحدہ کی تیسری ورلڈ اوشن اسسمنٹ (WOA) ایک وسیع۱۳۵۲؍ صفحات پر مشتمل جائزہ ہے، جسے۸۶؍ ممالک کے تقریباً ۶۰۰؍ سائنسدانوں نے مرتب کیا ہے۔ اس میں موسمیاتی تبدیلی، بڑے پیمانے پر صنعتی ماہی گیری، اور بے قابو آلودگی کے سمندری ماحول پر پڑنے والے شدید اثرات کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ 
 رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں نقصان کی شدت ڈرامائی طور پر بڑھی ہے، جو اہم ماحولیاتی نظام اور رہائش گاہوں کو خطرناک حد تک قریب پہنچا رہی ہے، جس سے زمین پر زندگی کی بنیاد کو خطرہ لاحق ہے۔رپورٹ کی سب سے خطرناک دریافت یہ ہے کہ گزشتہ دہائی میں عالمی سطح پر سمندر کی بلندی میں اضافے کی شرح دگنی ہو گئی ہے۔ گلیشیئراور برفانی تودوں کے پگھلنے اور گرم پانی کے پھیلاؤ کی وجہ سے،۲۰۱۵ء سے پہلے سطح سمندر میں اضافے کی شرح ایک اعشاریہ ۹؍ سے ۲؍ اعشاریہ صفر ملی میٹر سالانہ تھی، جو۲۰۲۳ء تک بڑھ کر۴؍ اعشاریہ ۳؍ ملی میٹر سالانہ ہو گئی۔یہ تیز رفتاری اس حقیقت سے براہ راست جڑی ہے کہ سمندر، جیواشم ایندھن جلانے سے فضا میں خارج ہونے والی اضافی گرمی کا۹۰؍ فیصد سے زیادہ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ۳۰؍ فیصد جذب کر لیتے ہیں۔ جبکہ خطرناک بات یہ ہے کہ۱۹۵۵ء کے بعد ریکارڈ کی گئی عالمی سمندری حرارت میں مجموعی اضافے کا۱۶؍ فیصد ۲۰۱۸ء کے بعد آیا، جس میں سب سے زیادہ اضافی گرمی بحر اوقیانوس اور بحر ہند اور بحر الکاہل کے جنوبی خطوں میں دیکھی گئی۔
دریں اثناء اس شدید تھرمل دباؤ نے قطب شمالی کے درجہ حرارت کو عالمی اوسط سے چار گنا تیزی سے بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے سمندری ماحولیات کے ماہر ایان بٹلر نے خبردار کیا ہے کہ اگلے۲۰؍ سالوں میں برف سے پاک بحر منجمد شمالی (آرکٹک) حقیقت بن سکتا ہے۔مزید برآں، سمندر کی طبعی اور کیمیائی تبدیلی تقریباً ہر سمندری رہائش گاہ میں حیاتیاتی تنوع کے وسیع پیمانے پر نقصان کا سبب بن رہی ہے۔ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، سمندری انواع  خوردبینی پلانکٹن سے لے کر بڑے سمندری حیوان تک اپنی رہائش گاہوں کو قطب شمالی اور جنوبی کی طرف منتقل کر رہی ہیں، جبکہ تبدیل شدہ ماحولیاتی حالات میں غیر مقامی نسلیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔اسی دوران، آکسیجن کی کمی نے ہائپوکسس ڈیڈ زون (مردہ علاقے) پیدا کر دیے ہیں جہاں سمندری زندگی زندہ نہیں رہ سکتی ۔ یہ علاقے اب مجموعی طور پر۴۵؍ لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیل چکے ہیں۔ 
اس کے علاوہ مرجانی چٹانیں اس موسمیاتی تباہی کی شدید ترین زد میں ہیں، جس کی مثال کیریبین میں ۱۹۷۰ء کی دہائی کے بعد مرجانی چٹانوں میں۸۰؍ فیصد کمی ہے۔رپورٹ واضح طور پر خبردار کرتی ہے کہ اگر گلوبل وارمنگ صنعتی انقلاب سے پہلے کی سطح سےایک اعشاریہ ۵؍ ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گئی تو دنیا کی۹۰؍ فیصد مرجانی چٹانیں مکمل طور پر غائب ہو سکتی ہیں، جبکہ مینگرووز اور سمندری گھاس جیسے اہم ساحلی تحفظات سکڑتے جا رہے ہیں۔ان موسمیاتی اثرات کے ساتھ انسانی آلودگی کی تباہ کن سطح اور تباہ کن حد سے زیادہ ماہی گیری بھی شامل ہے، جو سمندری خوراک کے نظام کو غیر مستحکم کر رہی ہے حالانکہ یہ نظام دنیا بھر میں انسانوں کی استعمال کردہ جانوروں کی پروٹین کا۲۰؍ فیصد فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ہر سال۵؍ کروڑ ۲۱؍ لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچراسمندر میں جا رہا ہے، جس سے ۲۴؍ اعشاریہ ۴؍کھرب مائیکرو پلاسٹک کے ذرات پیدا ہوتے ہیں جو۴؍ ہزار سے زیادہ سمندری انواع کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کیمیائی آلودگی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، سمندری پانیوں میں ۴؍ ہزار سے زیادہ دواسازی اور ذاتی نگہداشت کے مرکبات پائے گئے ہیں، حالانکہ مرکری جیسے کچھ پرانے آلودگیوں میں علاقائی سطح پر کمی آئی ہے۔ واضح رہے کہ ۸؍ اعشاریہ ۲؍ ارب کی عالمی آبادی کا ۳۷؍فیصد کسی نہ کسی ساحل سے۱۰۰؍ کلومیٹر کے اندر رہتا نے تباہ کن معاشی سرگرمیوں کو کمزور علاقوں میں مرتکز کر دیا ہے، جس سے رہائش گاہوں کا انحطاط اور وسائل کا غیر پائیدار استخراج ہو رہا ہے۔ یہ دباؤ سمندر میں دور تک پھیلتا جا رہا ہے، جس میں آف شور ونڈ فارم، گہرے پانی کے تیل کے بنیادی ڈھانچے، اور سمندری فرش پر پائپ لائنیں شامل ہیں۔اس بگڑتے ہوئے ماحولیاتی ہنگامی صورتحال کے جواب میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے فوری، مربوط عالمی تعاون کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ انسانیت سمندر کو لامحدود سمجھنا جاری نہیں رکھ سکتی۔‘‘ مزید برآں انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ سمندر کے ساتھ ایک نیا تعلق استوار کرے ،جو سائنس پر مبنی، بین الاقوامی قانون کے ذریعے تشکیل شدہ، اور قوموں، شعبوں اور نسلوں کے درمیان مشترکہ ذمہ داری پر قائم ہو۔
خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ سائنسدانوں اور ناقدین نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ان منصوبوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے تحت سینکڑوں گہرے سمندر میں نصب سائنسی نگرانی کے آلات ختم کر دیے جائیں گے یہ آلات ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے موسمیاتی تبدیلی کے اعداد و شمار جمع کر رہے تھے۔ انتظامیہ ۳۶۸؍ ملین ڈالر کا گہرے سمندر کا مشاہداتی نظام ختم کر رہی ہے، جس کے تحت نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اوریگون، واشنگٹن، الاسکا، نارتھ کیرولائنا اور شمالی اوقیانوس (گرین لینڈ اور آئس لینڈ کے درمیان) کے ساحلوں سے۹۰۰؍ سے زیادہ گہرے سمندر کے آلات ہٹائے گی۔  ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان نظاموں کو ختم کرنے سے عالمی سائنسی برادری اندھی پروازکرنے پر مجبور ہو جائے گی، جس سے سمندری ہجرت، بدلتی ہوئی سمندری لہروں، اور گہرے سمندر کے ماحولیاتی نظام پر اہم ڈیٹا میں خلل پڑے گا ،جہاں۲۰۲۵ء تک سمندری فرش کا صرف ۲۷؍فیصد ہی نقشہ بند کیا جا سکا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK